چہرے بدلیں گے ............ کردار نہیں !

چہرے بدلیں گے ............ کردار نہیں !
چہرے بدلیں گے ............ کردار نہیں !

  

ہر طرف شور بپا ہے کہ یوسف رضا گیلانی اب سابق وزیراعظم ہو گئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سپیکر رولنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ پیپلزپارٹی اور خاص طورپر یوسف رضا گیلانی اس کے لئے چھبیس اپریل سے ہی تیار تھے اور اب فیصلے میں بھی انہیں اسی روز سے ہی وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔یہ حکمرانوں کی ناقص کارکردگی، بدانتظامی اور کرپشن تھی کہ انہیں عوام کا سامنا کرنے کے لئے ایک سیاسی شہید درکار تھا، وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بعد ازاں بے نظیر بھٹو کے جاں بحق ہونے کے بعد انہیں عوام سے ہمدردی کا ووٹ ملااسی طرح اب وہ حکومت کے خاتمے کے بعد مظلومیت کا واویلا کر سکیں گے۔ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پیچھے رہ جائیں گے ۔ مگر تکنیکی طور یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے شہید ہوتے ہیں، آصف علی زرداری کی راہ میں لڑنے والے نہیں مگر اس کے باوجود پیپلزپارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ راہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے خلاف ” جہاد“ کیا جائے۔ اس فیصلے کو تسلیم ہی نہ کیا جائے اور کہاجائے کہ فیصلہ دینے والے جج متنازعہ ہو چکے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک ریاض کے ذریعے سازش کا ایک درخت لگایا، اس درخت پر اعلیٰ عدلیہ کو متنازعہ کرنے کے کانٹے اگائے گئے، یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف کے سابق ترجمان ، پیپلزپارٹی جوائن کرنے کے بعد سابق وزیراعظم کے سابق مشیر فواد چودھری گرج برس رہے تھے کہ جو عدلیہ متنازعہ ہو چکی، جس کے بیٹے پر کرپشن کے الزام لگ چکے ، اب اسے وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دینے کا کوئی اختیار ہی نہیں، تادم تحریر امید یہی ہے کہ پیپلزپارٹی جذباتی ہوکر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو اسے ہی نہیں، پورے ملک کو ہی بند گلی میں دھکیل دے۔

اب میرے نزدیک سوال یہ ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، این آر او کیس میں صدر آصف علی زرداری کی سوئس بنکوںمیں پڑی دولت کا دفاع کرتے ہوئے ایوان وزیراعظم سے رخصت ہو گئے اور ایشو یہ ہے کہ قوم بیرون ملک پڑی ہوئی دولت کی واپسی کے لئے قانونی کارروائی چاہتی ہے، وہ قانونی کارروائی جو کہ ایک غیر آئینی اور غیر اخلاقی این آر او کے ذریعے روک دی تھی۔ پیپلزپارٹی کے مقرر کر دہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود وہ کارروائی کرنے سے انکار کر دیا ۔ پیپلزپارٹی اپنے شریک چیئرمین کی دولت اور چیئرمین کی وراثت کی حفاظت پر کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں ہے۔ وہ اس کے لئے کسی آئین اور کسی سپریم کورٹ کو بھی خاطر میں لانے پر تیار نہیں اور کہتی ہے کہ جو بھی نیا وزیراعظم آئے گا وہ بھی سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گا، اس بیان کے ساتھ نتھی دلیل کسی آئین اور قانون سے تعلق نہیں رکھتی، جذباتی ضرور ہے کہ ہم اپنے صدر کو سوئس عدالتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے اور یہ کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہو اور اگر ان پر کرپشن کے الزامات غلط ہیں تو وہ واپس ہو جائیں۔ اب ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک وزیراعظم ، سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر پاکستان کے سب سے بڑے انتظامی عہدے سے فارغ ہو گیا تو اگلا وزیراعظم سپریم کورٹ کی حکم عدولی سے ڈرے مگر ان کا عزم پختہ ہے کہ وہ نہیں ڈریں گے بلکہ لڑیں گے، گویا چہرہ بدل جائے گا مگر کھیل وہی جاری رہے گا۔ یہ اپنی سیاست کی کہانی تو طلسم ہوش ربا ہوتی چلی جائے گی جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، ایسی ہی ٹیلی پیتھی کے ایک ماہر فرہاد علی تیمور کی کہانی میں بچپن میں سسپنس ڈائجسٹ میں پڑھا کرتا تھا، کہا جارہا ہے کہ انتہائی بور ہوجانے کے باوجود اس کو اب بھی لکھا جا رہا ہے تاکہ اس کو اردو زبان کی سب سے بڑی کہانی کا اعزاز مل سکے۔ اب کیا این آر او کیس میں نئے وزیراعظم کے ساتھ اس طلسم ہوش ربا کی نئی قسط لکھی جائے گی۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جس آصف علی زرداری کی دولت کی حفاظت کرتے ہوئے وزیراعظم ایک سیاسی نعش میں تبدیل ہوئے، اسی آصف علی زردار ی کو سپریم کورٹ کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ وہ جمہوریت کے تسلسل کے لئے اقدامات کریں۔ لگتا ہے کہ یہ شعر اسی صورت حال کے لئے بہت پہلے لکھ دیا گیا تھا ” میر کیا سادے ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں“ ۔ کیا خوب ہے کہ پیپلزپارٹی نے بھی بیماری دینے والے عطار کے لونڈے کو تمام تر اختیارات دے دئیے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ سپریم کورٹ اور پیپلزپارٹی دونوں کی طرف سے ان کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنا ”ویلتھ گارڈ “بدل لیں۔ پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شریک چئیرمین کے ویلتھ گارڈ کی تبدیلی کے فیصلے پر کارکنوں کو پر امن رہنے کو کہے گی ، یہ ایک منطقی فیصلہ ہے کہ ایک سپاہی کی موت پرنئی جنگ نہیں شروع کی جائے گی جس پر اسے سراہنا چاہئے۔ اقتدار کے دن تھوڑے ہیں اور باقی ماندہ پیپلزپارٹی کو ان دنوں کو کسی جنگ میں ضائع نہیں کرنا چاہئے، عقل مند رااشارہ است، سیانوں کاکہنا ہے کہ ایک ایک منٹ قیمتی ہے اور اس کی قیمت وصول کر نا ہی دانش مندی ہو گی۔

 سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کسی محفل میں کسی شخص نے کسی گاو¿ں کی ایک مشہور زمانہ حکایت سنائی جس کا اس صورتحال سے کوئی اپنی ذمہ داری پر کوئی ربط نکال سکتا ہے ۔ گاو¿ں کے کنویں میں ایک حرام جانور گر گیا۔کسی سیانے کے مشورے پرگاو¿ں والوںنے اس کنویں سے ہزار بالٹی پانی نکال لیا مگر کنویں سے نہ تو بدبو گئی اور نہ ہی گاو¿ں کی مسجد کے امام نے اس پانی کو پاک قرار دیا۔ لوگ بڑے پریشان ہوئے اور مولوی صاحب کے پاس جا پہنچے کہ انہوں نے تو کنویں سے پورا پانی نکال لیا مگر کنویں سے نہ تو بو جاتی ہے اور نہ ہی آپ اس کے پاک ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں۔ مولوی صاحب مسکرائے اور بولے کہ جب تک تم اس کنویں سے وہ جانور نہیں نکالو گے، کنویں سے نہ تو بد بو جائے گی اور نہ ہی پانی پاک ہو گا، چاہے تم دس ہزار بالٹیاں پانی کی نکال لو۔ لہذا مشورے مکمل ہونے دیں، نیا وزیراعظم آنے دیں، وہ بھی یوسف رضا گیلانی کا تسلسل ہی ہو گا۔ اسے بھی عوامی مسائل کے حل سے لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے سے کوئی دلچسپی نہیں ہو گی، اسکے لئے بھی ایک ایک لمحہ قیمتی ہو گا جس سے وہ جمہوریت کے فوائد کشید کرے گا۔ دوستو، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے جانے سے صرف ایک چہرہ بدلا ہے، کردار نہیں۔

مزید :

کالم -