نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی

نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی
نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی

  

نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس کل 22 جون کو طلب کرلیا گیا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے نئے امیدواروں کے لئے اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔ آئینی طور پر ضروری ہے کہ نئے وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 میں سے 51 فیصد ارکان یعنی 172 ایم این ایز کا ا عتماد حاصل ہو۔ آئین کے آرٹیکل 91 میں واضح کردیا گیا ہے کہ وزیراعظم کے چناﺅ کے لئے حاضر ارکان نہیں بلکہ کل ارکان کے 51 فیصد کا اعتماد درکار ہوگا، لیکن اسی آرٹیکل میں ایک ایسی شق موجود ہے جس کے تحت 172 سے کم ارکان کی حمایت سے بھی کوئی ایم این اے وزیراعظم منتخب ہوسکتا ہے۔ آرٹیکل (4)91 میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے عہدہ کے امیدوار کے لئے مسلمان اور قومی اسمبلی کا رکن ہونا ضروری ہے۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لئے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، جو امیدوار 172 ووٹ حاصل کرلے اسے منتخب تصور کیا جائے گا اور صدر اسے حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ اگر پہلے انتخابی مرحلہ میں کوئی امیدوار 172 ووٹ حاصل نہ کرسکے تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔ اگر دوبارہ الیکشن میں دونوں برابر ووٹ حاصل کریں تو ووٹنگ کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حق رائے دہی استعمال کرنے والے حاضر ارکان کی اکثریت ان میں سے کسی ایک کی حمایت نہ کردے۔ ایسی صورت میں کل ارکان کی اکثریت کی شرط ختم ہوجائے گی اور ووٹ ڈالنے والے حاضر ارکان کی اکثریت کو وزیراعظم منتخب کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اس مرحلہ پر کل ارکان کی اکثریت کے اصول کو سبوتاژ کرنے کے لئے اگر ایک دھڑا انتخابی عمل کا بائیکاٹ بھی کردے تو آئینی طور پر وہ مو¿ثر نہیں ہوگا۔ آئینی طور پر صدر مملکت پابند ہوں گے کے ایسے منتخب وزیراعظم کو حکومت بنانے کی دعوت دیں، تاہم بعد میں صدر مملکت کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہیں، لیکن اس اختیار کا استعمال صدر کی صوابدید پر ہے۔ تاہم آرٹیکل 95 کے تحت قومی اسمبلی کے کل ارکان میں سے 20 فیصد ارکان ایسے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی لاسکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 63 (اے) کے تحت کوئی رکن قومی اسمبلی اپنی سیاسی جماعت کی پالیسی کے برخلاف وزارت عظمیٰ کے کسی دوسرے امیدوار کو ووٹ نہیں دے سکتا، جو ایسا کرے گا اس کے خلاف متعلقہ سیاسی جماعت اسمبلی سے رکنیت کی منسوخی کے لئے کارروائی کرسکتی ہے۔

اس وقت صدر مملکت اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے کیونکہ آئین کے آرٹیکل (1)58 کے تحت صدر اپنے وزیراعظم کی ایڈوائس پر ہی اسمبلی توڑ سکتے ہیں اور ایڈوائس دینے کے لئے وزیراعظم موجود نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل (2)58 کے تحت اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے صدر کو صوابدیدی اختیار بھی حاصل ہے لیکن اس اختیار کا استعمال اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ ایک وزیراعظم کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے رخصتی کے بعد کوئی دوسرا شخص اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور صدر مملکت کو یہ یقین ہوجائے کہ کوئی رکن قومی اسمبلی اپنے اس ایوان کے کل ارکان کی اکثریت (172 ارکان) کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتا تو صدر اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت اسمبلی تحلیل کرسکتے ہیں، جو لوگ وزیراعظم کے الیکشن سے قبل ہی اسمبلی کی تحلیل اور آرٹیکل 224 کے تحت نگران حکومت کے قیام کی خواہش رکھتے ہیں انہیں ابھی یہ خواہش دل میں دبا کر رکھنی چاہئے، اسمبلی کی تحلیل کا مرحلہ نئے وزیراعظم کے انتخاب کے بعد ہی آئے گا۔

مزید : تجزیہ