توہین عدالت کیس: سپریم کورٹ میں ملک ریاض پھر موم ہوگئے، 28جون تک مہلت مل گئی

توہین عدالت کیس: سپریم کورٹ میں ملک ریاض پھر موم ہوگئے، 28جون تک مہلت مل گئی
توہین عدالت کیس: سپریم کورٹ میں ملک ریاض پھر موم ہوگئے، 28جون تک مہلت مل گئی

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی درخواست پر وکیل نہ ملنے کے باعث سماعت 28جون تک کے لیے ملتوی کردی ہے ، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ وکیل کا نہ ملنا ملزم کا مسئلہ ہے ، عدالت کو جواب چاہیے ۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ برے سے برے آدمی کو بھی وکیل مل جاتاہے ۔عدالت نے راولپنڈی اور اسلام آباد بار کو اپنی قراردادوں میں نرمی لانے کی ہدایت کی ۔ملک ریاض نے ایک موقع پر کہاکہ ریمنڈ ڈیوس کو وکیل مل جاتاہے لیکن اُنہیں نہیں ۔توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاکراللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بن کے روبروبحریہ ٹاﺅن کے بانی ملک ریاض نے موقف اپنایاکہ کوئی وکیل اُن کی وکالت کرنے کو تیار نہیں ، ہر کوئی انکا ر کردیتاہے جس پر جسٹس شاکراللہ جان کاکہناتھاکہ وکیل کا نہ ملنا آپ کا مسئلہ ہے ، عدالت کو شوکاز نوٹس کا جواب دیں ۔ملک ریاض نے کیس میڈیا پر پیش کرنے کی اجازت مانگتے ہوئے کہاکہ عدالتی حکم پر اُنہوں نے زبان بند ی کرلی تھی اور وہ بتاناچاہتے ہیں کہ یہاں آنے تک کی نوبت کیسے آئی ۔عدالت نے کہاکہ آپ کو صرف ایسی باتوں سے روکاتھاجو توہین عدالت کے زمرے میں آئیں ۔ ملک ریاض نے کہاکہ وہ عدلیہ کا احترام اور سلام کرتے ہیں ، نو مارچ کی جدوجہد کا ذکر کالموں میں بھی کیا۔جسٹس شاکراللہ جان نے کہاکہ آپ نے جو کچھ کیا، وہ اچھاکام تھالیکن اظہار وجوہ نوٹس کا جواب چاہیے ۔ملک ریاض نے استدعا کی کہ اُنہیں کچھ وقت دیاجائے اور اگر ہوسکے تو دس دن دے دیںکیونکہ کچھ وکلاءنے سوچنے کا وقت مانگاہے ۔جسٹس شاکراللہ جان نے کہاکہ فیصلہ نہیں دے رہے ، الفاظ توہین عدالت کے زمرے میں آئے تو کارروائی کریں گے ، آپ کا موقف مانگ رہے ہیں ۔پہلے ہی سات دن دیئے ، کل تک کا وقت دیتے ہیں ۔ملک ریاض نے کہاکہ وکیل نہ ملنے کا جھوٹ نہیں بول رہا،قصور وار ہوں توسزا دی جائے،قبول کروں گا۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ برے سے برے آدمی کو بھی وکیل مل جاتاہے اور بہتر ہوگا کہ اِس معاملے پر آپ بات نہ کریں جس پر ملک ریاض نے ارسلان افتخار کو بھی میڈیا پر آنے سے روکنے کی استدعا کردی۔ عدالت نے ملک ریاض سے استفسار کیاکہ بارآپ کو کوئی وکیل دے تو آپ کو قبول ہوگا؟ جس پر ملک ریاض نے قبولیت سے انکار کردیا۔عدالت نے کہاکہ کسی کو حق سے محروم کردیناقانون کے خلاف ہے ۔عدالتی استفسار پر ملک ریاض نے بتایاکہ پہلے والے وکیل بھی چھوڑ گئے ہیں اور اب جسٹس ریٹائرڈطارق محمود سے بھی بات ہوئی ہے ۔جسٹس طارق پرویز نے کہاکہ ملک ریاض کی وکالت کرنے والے وکلاءکا بار حقہ پانی بند نہ کرے ، عدالت نے کہاکہ بار کوئی قرارداد پاس کرتے وقت یہ بھی سوچے کہ کہیں انصاف کی فراہمی میں کہیں کوئی رکاوٹ تو نہیں آرہی۔مخالف وکیل اشرف گجر نے کہاکہ ملک ریاض پر ڈیڑھ سو مقدمات ہیں اور تمام میں وکلاءپیش ہورہے ہیں ، اُن کی اپنی لیگل ٹیم ہے ، وکیل نہ ملنے کا بیان غلط ہے ۔ایک موقع پر ملک ریاض نے کہاکہ اُنہوں نے آپریشن موخر کرادیا، حاجت زیادہ دیر تک نہیں روک سکتا۔عدالت نے کہاکہ بار قراردادیں پا س کرتے وقت خیال کریں ورنہ ملک ریاض بھی تاریخیں لیتارہے گا، راولپنڈی اور اسلام آباد بار اپنی قراردادوں میں نرمی لائیں اور بعدازاں سماعت28جون تک کے لیے ملتوی کردی گئی ۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں /Breaking News