عراق میں پھیلتی ہوئی طوائف الملوکی

عراق میں پھیلتی ہوئی طوائف الملوکی
عراق میں پھیلتی ہوئی طوائف الملوکی
کیپشن:   general mirza alam baig سورس:   

  

افغانستان اور عراق کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کی بنیاد فرسودہ اور تعصبانہ عزائم پر مبنی تھی، جس کے منفی اثرات مرتب ہوئے، کیونکہ اس قتل وغارت گری کا بنیادی مقصدسوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد عالمی بالادستی قائم کرنا تھا، جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا اور عالم اسلام کے خلاف جارحانہ حکمت عملی تیار کی گئی، کیونکہ وہ اسلامی دنیا کو اپنے عالمی برتری کے عزائم کی راہ میں بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔اس حکمت عملی کے تحت ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سب سے پہلے مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ اختلافات کو ابھاراتاکہ انہیں اندر سے کمزور کرکے اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے افغانستان، ایران، عراق اور شام جیسے ممالک کے خلاف عسکری کارروائی کا جواز مل جائے اور انہیں اپنا زیر نگیں بنانے کی راہ ہموار کرسکیں۔ نتیجتاً افغانستان اور عراق کے خلاف مہنگی ترین جنگیں لڑنے کے باوجود یہ دونوں ممالک ان کے قابو میں نہ آ سکے اور ان کی مدافعت کو دہشت گردی کا نام دے کر بدنام کیا گیا۔ افغانستان کے بعد عراق میں یہ مدافعتی جنگ پٹھو حکومتوں کے لئے عذاب بن گئی ، جہاں تقریباً 15سے 25 ہزار (15,000 - 25,000) جہادیوں کی جانب سے ممکنہ خطرے کی نوعیت سے ایسا لگتا ہے کہ عراق کی حکومت اس خطرے سے نمٹ نہیں پائے گی اور وہ چند دنوں کی مہمان ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ”ہم جس خطرناک دام میں پھنستے جارہے ہیں، سب سے زیادہ خطرہ شام کی شکست و ریخت اور ابھرتی ہوئی اسلامی جمہوریہ عراق وشام(آئی ایس آئی ایس) ہیں، جنہیں موصل اور صوبہ انبار کے گردونواح میں کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں جو بڑی الجھن کا سبب بنتی جا رہی ہیں۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ عنقریب عراق شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گا، جہاں مغرب کی جانب انتہا پسند سنی مسلمانوں کی علیحدہ ریاست بنتی دکھائی دے رہی ہے اور مشرقی جانب ایران کی حمایت یافتہ ریاست قائم ہو جائے گی۔اس صورت حال سے ”مشن مکمل ہونے“ کے معانی سمجھنا مشکل نہیں ہے۔

صدر اوباما عراق میں عسکری مداخلت سے انکاری ہیں اور ڈرونز (Drones)بھیجنے کے لئے بھی تیار نہیں، حالانکہ اس صورت حال پر اپنے غم و غصے کے اظہار کے طور پر ایک جنگی بحری جہاز خلیج میں تیاررکھا ہوا ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ عراق کے صدرمالکی خوداتنا حوصلہ پیدا کریں کہ آئی ایس آئی ایس (ISIS)کے خلاف مزاحمت کر سکیں، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا صدر مالکی ایسا کر سکیں گے؟ ”کیونکہ اس تمام تر صورت حال کے ذمہ دار وہ خود ہی ہیں، جنہوں نے اپنے شیعہ جنگجوﺅں کو استعمال کر کے سنی اقلیت کو حکومت سازی کے عمل میں ان کے جائز حق سے محروم کرکے یہ حالات پیدا کئے ہیں۔بدقسمتی سے شام اورعراق، دونوں ہی ایک طرف سے آمروں اور دوسری جانب سے بنیاد پرستوں کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں۔” دی اکانومسٹ“ کے تجزئیے کے مطابق یہ صورت حال کسی طور بھی خوش کن نہیں ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان اور عراق کی جنگ سے جو تلخ سبق سیکھا ہے، وہ یہ ہے کہ غیر متعلق بیرونی ممالک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب، صرف معاملات کو بگاڑنے کا ہی سبب بنتا ہے ۔عراق اور شام میں،ابو بکر بغدادی کی سربراہی میں قائم ہونے والی آئی ایس آئی ایس کی تعداد10 سے 12 ہزار جہادیوں پر مشتمل ہے ،جن میں برطانیہ، یورپ اور امریکہ کے تقریباً تین سے چار ہزار جہادی بھی شامل ہیں۔مغربی ممالک کو زیادہ خطرہ اپنے ہی شہریوں کی جانب سے ہے جو جہادیوں میں شامل ہو چکے ہیں اور وطن واپس آکر اپنے ملک کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سینیٹر ایل گراہم کا انتباہ بالکل بجاہے کہ : ”عراق اور شام کے جہادی مل کر نائن الیون جیسا ایک اور سانحہ دہرانے کے لئے سٹیج تیار کر رہے ہیں“.... لیکن یہاں افغانستان کے عبداللہ عبداللہ کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے، جن کی تربیت عراقی صدر مالکی کے خطوط پر کی جارہی ہے اور شمالی اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے افغانستان کا حاکم بنایا جا رہا ہے،جنہوں نے 2001ء میں امریکی ٹینکوں پر سوار ہو کر کابل پر قبضہ کیا تھا ، جبکہ طالبان، جو کہ اکثریت میں ہیں اور جارحیت کی مرتکب فوجوں کے خلاف فتح یاب ہوئے ہیں، انہیں حکومت سازی کے عمل میں ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ملا عمر جنہیں افغانستان کے اسی فیصد (80%)علاقوں پر کنٹرول حاصل ہے، ابوبکر بغدادی کی طرح اس انتظار میں ہیں کہ جونہی قابض فوجیں افغانستان سے نکلیں ،وہ کابل پر قبضہ کر لیں۔

افغانستان اور عراق کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں کا ہدف مسلم دنیا کے، قلبی علاقوں (Heartland) پر دسترس حاصل کرنا تھا ،لیکن یہ کارروائی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بہت مہنگی پڑی ہے۔ دو مہنگی ترین جنگوں اور 2007ءکے اقتصادی بحران کی وجہ سے، عالمی نظام قائم رکھنے کے لئے ان کی عسکری طاقت بے حد کمزور ہو چکی ہے اور عسکری قوت کو مدد دینے والی اقتصادی برتری بھی بری طرح زوال پذیر ہے، لہٰذا عام طور پر پایا جانے والا یہ تاثر بالکل صحیح ہے کہ ”امریکہ جوکہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور ہے، رو بہ زوال ہے اور یورپ بھی ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے، لہٰذا دونوں طاقتیں اس حالت میں نہیں ہیں کہ وہ یوکرائین، شام، عراق اور افغانستان جیسے معاملات میں نقصانات کی تلافی کے اقدامات کر سکیں۔ایسے حالات میں یہ کہنا کہ ”کام مکمل ہو گیا ہے“....محض جذباتی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

موجودہ سخت ترین حالات سے دوچار امریکہ ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے۔ اب اس کے لئے ایران قابل اعتماد ہو گیا ہے جسے وہ گزشتہ تین دہائیوں سے ”سنی مسلمانوں،اسرائیل اور پورے خطے کے لئے سب سے بڑے خطرے “کے طور پربدنام کرتا رہا ہے اور اب چاہتا ہے کہ ایران،عسکری مداخلت کر کے عراقی صدر مالکی کی حکومت کوبچائے۔ دوسری جانب جنگ عظیم دوم کی دو بڑی عسکری قوتوں، یعنی جرمنی اور جاپان کو ترغیب دے رہا ہے کہ وہ چین اور بھارت کے ساتھ مل کر خطے میں اپنی کھوئی ہوئی عسکری طاقت دوبارہ بحال کریںتاکہ عالمی طاقت کے توازن میں جو بگاڑ پیدا ہوگیا ہے ،اسے درست کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ ایک دوسری پالیسی پر بھی عمل شروع ہے کہ چین کی ابھرتی ہوئی طاقت سے نمٹنے کے لئے امریکہ، جاپان اور بھارت پر مشتمل ”ایشیا پیسفک عسکری اتحاد“ قائم کیا جائے، لیکن دونوں پالیسیوں میں تضاد ہے۔ ایسے ہیجانی فیصلوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی پریشانی اس کے ٹھنڈے دماغ پر غالب آ چکی ہے۔

عراق کے حالات کو دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ اس کی قومی سلامتی داﺅ پر لگ چکی ہے اور عنقریب ملک تقسیم ہو جائے گا۔2007ءسے 2009ءکے دوران قابض فوجوں کی جانب سے ابھارے گئے فرقہ وارانہ اشتعال کی وجہ سے سنی اور شیعہ آبادی کے مابین وسیع خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ دوسری جانب کردوں نے تیل پیدا کرنے والے خطے کرکوک تک کے علاقوں پر قبضہ کر کے کردستان کی سرحدوں کو مزیدپھیلا دیا ہے۔ حالیہ رپورٹیں خاصی پریشان کن ہیں، جن میں کہاجارہا ہے کہ دور و نزدیک کے ممالک کے جہادی عراق کا رخ کر رہے ہیں،جبکہ سابق صدر صدام حسین کے وفادار سابق فوجیوں نے،عزت ابراہیم الدوری کی سربراہی میں، چھینے ہوئے جنگی جہازوں، گن شپ، ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ساتھ ایک قابل ذکر جنگی طاقت تیار کر لی ہے۔ ادھرایران اور امریکہ بھی مداخلت کے لئے پر تول رہے ہیں، جس نے صورت حال کو مزید پراگندہ کر دیا ہے ۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے مناسب ہو گا کہ وہ اسلام کے ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ آج سے1400 سال قبل عالم اسلام اسی قسم کے فرقہ وارانہ مسائل میں الجھا ہوا تھا، جس میں تکفیری، سلفی، عرب و عجم کی تفریق ، ملحدوں کی سازشیںاور مختلف قسم کے لسانی ونسلی تعصبات عروج پر تھے، لیکن ان تمام مسائل کے باوجود مسلمان پُرامن رہنے کا سلیقہ جانتے تھے اور اسی دور میں ایک عظیم اسلامی سلطنت قائم کی گئی تھی۔ پاکستان اس کی ایک عمدہ مثال ہے، جہاں فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت گری اور سازشوںکے باوجود تمام مذاہب و مسالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی فضا قائم ہے۔ہم جانتے ہیں کہ معاشرتی انصاف ایک بنیادی عنصر ہے جو ہمارے قومی و ملکی مفادات کے لئے طاقت کے سرچشمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی معاشرتی انصاف کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی اہل شخص کے لئے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک پہنچنے کے لئے کسی قسم کی کوئی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔

مسلمان ممالک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیل کر کمزور کرنے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے اور نہ ہی عالم اسلام کو عسکری طاقت کے زعم پر دبانے کے حربے مطلوبہ نتائج دے سکے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے اورمذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہوئے قابل احترام پوپ فرانسس نے 8 جون 2014 ءکو تینوں اہل کتاب یعنی، مسلم، عیسائی اور یہودی اکابرین کو یکجا کر کے مشترکہ طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور رحم و کرم کی دُعا کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ویٹیکن سٹی چرچ جیسے اعلیٰ ترین مقام سے اذان کی آواز گونجی اور نماز ادا کی گئی اوربین المذاہب ہم آہنگی، امن و امان اور پرامن عالمی نظام کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے دعا کی گئی،قابل تقلید عمل ہے۔

اہم خبر: صدر اوباما نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ عراق کی حکومت خود معاملات کو درست کرے اور سنبھالا دے تاکہ سیاسی منصوبے پر عمل در آمد ہو سکے، کیونکہ امریکہ عراق میں عسکری مداخلت نہیں کرے گا، صرف فضائی حملے کر کے اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنائے گا ۔ البتہ اگر عراق حکومت چاہے گی، تو 300امریکی فوجی ماہرین مدد کے لئے بھیجے جا سکتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں امریکہ ایران کی جانب سے کسی مداخلت کے حق میں نہیں ہے۔ ٭

مزید :

کالم -