دونوں ٹیمیں کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کو تیار

دونوں ٹیمیں کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کو تیار

دورہ سری لنکا میں پاکستان کرکٹ ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلنے میں مصروف ہے دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچوں کے علاو ہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز بھی کھیلی جانی ہے یہ دورہ پاکستان کے لئے بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے اس کی وجہ اس سیریز میں کامیابی حاصل کرکے پاکستانی ٹیم کا چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنا ہے اگر ٹیم نے اس ایونٹ میں اچھی پرفارمنس نہ دکھائی اور اس کو ٹیسٹ سیریز میں شکست ہوئی تو اس سے پاکستان پہلی مرتبہ اس اہم سیریز میں شرکت سے محروم رہ جائے گی بنگلہ دیش ، ویسٹ انڈیز کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ ٹیم بھی اس وقت اس حوالے سے مشکلات کا شکار ہے اور اس کی یہ مشکل اس وقت ہی حل ہوگی جب وہ سری لنکا سے سرخرو ہوکر وطن واپس آئے گی پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت بہت مشکل مر حلہ سے گزر رہی ہے ہوم سیریز کا اس کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے اور اس کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کھیلنے کے بعد لگ رہا تھا کہ ٹیم کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اور اس کی کارکردگی میں بہتری آنے میں بہت وقت لگے گا سری لنکا کے خلاف پاکستان کو ہمیشہ ہی کامیابی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سری لنکا کی ٹیم ہمیشہ ہی پاکستان کے لئے ایک مضبوط حریف ثابت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہی پاکستان کو اس نے ٹف ٹائم دیا ہے اگر بات کی جائے سری لنکا کی اس کی اپنی سر زمین پر کارکردگی کی تو اس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو بہت مشکلات کا سامنا ہے سری لنکا کی ٹیم کا شمار دنیا کی ان ٹیموں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور کسی بھی ٹیم کے خلاف چاہے وہ اپنی سر زمین پر کھیل رہی ہو یا پھر کسی اور جگہ پر اس نے ہمیشہ ٹف ٹائم دیا ہے سری لنکا کرکٹ ٹیم میں جیت کا جذبہ موجود ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کی بات کی جائے تو اس نے بھی جب بھی یک جان ہوکر کھیلا ہے عمدہ کھیل پیش کیا ہے اور اس وقت اس کو سخت ضرور ت ہے کہ مل کر کھیلیں بہرحال امید ہے کہ پاکستانی ٹیم اس دورہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرے گی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق پر عزم ہیں کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی عمدہ انداز سے کھیل پیش کرتے ہوئے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے اور اس کے لئے وہ تیار ہیں بہرحال اس وقت ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں میں جیت کا جذبہ برقرار رہنے کی ضرورت ہے اور اسی جوش و جذبہ کی وجہ سے وہ عمدہ کھیل پیش کرسکتی ہے پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس سیریز کے بعد اہم سیریز میں شرکت کرنا ہے اور اس میں بھارت کے خلاف سیریز بھی شامل ہے اس لئے اس سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا بہت عمدہ پرفارمنس دینا بہت ضروری ہے بیٹسمینوں کواس سیریز میں عمدہ بیٹنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور امید ہے کہ پاکستان سیریز میں مجموعی طور پر عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کردار اس وقت بہت اہمیت کا حامل ہے اس کی وجہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے جس کا آغاز ہوگیا ہے اور اب امید ہے کہ دیگر ملکوں کی ٹیموں کے کھلاڑی بھی پاکستان کا دورہ کریں گے اس حوالے سے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ بھارت سے کرکٹ سیریز کا قوی امکان ہے تاہم بھارتی بورڈ کو سیاست کو جواز بنا کر کرکٹ کھیلنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ شہریار خان نے کہا کہ سیاست اور کرکٹ کو الگ رکھا جائے، ماضی میں خطرات کے باوجود پاکستانی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا اب بھارتی بورڈ کو بھی سیاست کو جواز بنا کر کرکٹ کھیلنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ لیگ آئندہ سال دبئی میں منعقد کرائیں گے جب کہ 2 سال لیگ باہر کروانے کے بعد اپنے ملک میں کرائیں گے تاہم دیکھنا ہوگا کہ اس کرکٹ لیگ سے کیا معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔چیرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ہماری فرسٹ کلاس کرکٹ میں فٹنس نہیں ہے اور یہی ہماری ٹیم کی شکست کی بنیادی وجہ ہے تاہم اب اس مسئلے کو حل کرکے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لائیں گے اور اسی سلسلے میں 2 سے 3 ماہ میں ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کریں گے۔ انہوں نے اپنے استعفے کی خبروں کو مسترد کردیا۔پاک بھارت سیریز کا انعقاد اس سال یقینی بنانے کے لئے دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کو مل جل کر ساتھ چلنے کی ضرورت ہے اور اگر دونوں بورڈز کی جانب سے کوئی چپقلش سامنے آئی تو پھر اس کا نتیجہ منفی صورت میں سامنے آئے گا اور اس سے پاک بھارت کرکٹ سیریز متاثر ہوگی اور اس کا نقصان بہت زیادہ ہوگا شائقین کرکٹ کو اس وقت اس سیریز کا شدت سے انتظار ہے بہرحال امید ہے کہ جس طرح دونوں کرکٹ بورڈز نے اس حوالے سے اب تک اقدامات کئے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سیریز دسمبر میں ضرور منعقد ہوگی اور اس کے بعد دونوں کرکٹ ٹیموں کے درمیان سیریز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور متواتر چلنا بھی رہے گا امید ہے کہ شائقین اس حوالے سے جو چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشوں کی اس حوالے سے تعریف کی جانی چاہئیے اور امید رکھنی چاہئیے کہ جس طرح حال ہی میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا کامیاب دورہ مکمل کرکے وطن واپس گئی ہے اب جلد ہی کوئی اور غیر ملکی ٹیم بھی پاکستان کو میزبانی کا شرف ضرور دے گی۔

***

مزید : ایڈیشن 1