لاکھوں میں ایک

لاکھوں میں ایک
لاکھوں میں ایک

  

یہ کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو ایسے دن بھی دیکھنا پڑیں گے اور وہ دن بھی آ جائے گا جب اس کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہوگا۔ پاکستان کی اس صنعت نے تقسیم ہندوستان کے بعد 1948ء میں فلم ’’تیری یاد‘‘ سے اپنا سفر شروع کیا۔ اگرچہ اس کا آغاز بہت ہی نامساعد حالات میں ہوا، لیکن اس فلم سے وابستہ فلم میکرز نے ان حالات میں بھی وہ کر دکھایا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ بالآخر یہ نوزائیدہ فلم انڈسٹری اپنے سفر پر اس طرح روانہ ہوئی کہ پھر پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا کہ وہ کن حالات سے گزر کر آئی ہے۔ ایک نہیں، دو نہیں، بیسیوں فلمیں یکے بعد دیگر سیٹ کی زینت بننے لگیں۔ اس میں اُردو کے علاوہ پنجابی فلمیں بھی شامل ہیں۔ بعد میں پشتو اور سندھی فلمیں بھی ان میں شامل ہو گئیں۔ باکس آفس نے بھی اُن کو جو پذیرائی بخشی، وہ بھی ماضی کی تاریخ کا ایک حصّہ ہے۔ ہم اس دور کو ہرگز فراموش نہیں کر سکتے، کیونکہ اس دور نے شاہکار فلمیں تخلیق کیں اور برصغیر میں اس بات کا لوہا منوایا کہ کم وسائل اور نایاب جدید مشینری کے باوجود پاکستانی فلمی صنعت کے مصنف، ہدایت کار، اداکار، ٹیکنیشنز اچھی اور معیاری فلمیں بنانے کی وہی صلاحیت رکھتے ہیں جو بمبئی فلم انڈسٹری کے فلم میکرز اور تیکنیک کاروں کو حاصل ہے۔ ا س کے اداکاروں نے بھی ثابت کیا کہ وہ بھی کسی طرح انڈین اداکاروں سے کم نہیں، جو کہانی لکھی گئی، جو میوزک بنا، جو ڈائریکشن اور اداکاری ہوئی، آج بھی وہ فلمیں دیکھ لیں تو گمان ہوتا ہے کہ ہم ’’لاکھوں میں ایک تھے‘‘۔وہ کچھ کر رہے تھے جو اُن دنوں، اُس طرح کے حالات میں ممکن نہیں تھا۔

پھر کسی کی نظر کھا گئی، یا پھر کچھ اور ہوا؟ سب کچھ بدل گیا۔ نہ انڈسٹری میں وہ پہلے کی سی رونقیں رہیں، نہ اُس طرح کی فلمیں بنیں۔ ہم اپنے کلچر اور روایات سے دور ہو گئے۔ اچھی اور معیاری فلم میکنگ کی جو داغ بیل ’’تیری یاد‘‘ نے ڈالی تھی ، وہ کسی تاریک اور بھیانک غار کا حصّہ بن گئی۔ ایسی غار جس کا کوئی سِرا نہیں ہوتا اور اس میں داخل ہونے والا سدا بھٹکتا رہتا ہے۔ کافی لوگ کیبل کو پاکستانی فلمی صنعت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اس میں کچھ حقیقت ضرور ہو گی۔ مہنگائی کا عنصر بھی اس سارے معاملے میں کہیں نہ کہیں ضرور نمایاں نظر آتا ہو گا، لیکن سب سے نمایاں نظر آنے والے اس اہم پہلو کو ہم نے ہمیشہ ہی نظر انداز کیا ہے اور اس پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ اس کی تباہی کی کچھ اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں اچھے فلم میکرز کا نہ ہونا ایک اہم اور سب سے بڑی وجہ قرار دی جا سکتی ہے۔ مَیں نے ہمیشہ اس حوالے سے اپنی رائے دی ہے کہ جب تک فلم میکرز ’’کمیٹڈ‘‘ اور اپنے کام سے سنجیدہ نہیں ہوں گے، تصور بھی نہیں کیا جا سکتاکہ ہم اچھی اور بین الاقوامی معیار کی فلمیں بنا سکتے ہیں۔ ممبئی فلم انڈسٹری آج بھی ۔۔۔جب لاتعداد چینلز اور کیبلز کا دور ہے۔۔۔ کروڑوں کی لاگت سے نہ صرف اعلیٰ درجے کی فلمیں پروڈیوس کر رہی ہے، بلکہ ان کے ذریعے کروڑوں کما بھی رہی ہے۔

ممبئی کی فلموں کو کوئی سرخاب کے پَر نہیں لگے ہوئے۔ اتنا فرق ضرور ہے کہ وہ مکمل طور پر فلم کو صر ف فلم کی طرح ہی بناتے ہیں۔ اُس میں کہانی بھی ہوتی ہے۔ ڈائریکشن بھی اچھی، لوکیشنز اور کہانی کے مطابق سیٹوں کا انتخاب بھی اور ایسا میوزک اور اداکاری بھی، جنہیں لوگ دل سے پسند کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کیا ٹیلنٹ کا فقدان ہے؟ ’’مَیں کہوں گا، ہر گز نہیں‘‘ ۔۔۔فقدان ہے تو صرف اس بات کا کہ نہ تو اس حوالے سے جدید اور نئے تقاضوں کے مطابق ہماری کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی ہم گزشتہ دس، پندرہ سال کے دوران اس کے لئے کبھی سنجیدہ ہوئے ہیں،جبکہ حالات بے حد سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جن برسوں کا مَیں ذکرکر رہا ہوں۔ اُن برسوں میں ایسے لوگ فلم میکرز بن کر انڈسٹری میں گھس آئے، جن کے پاس پیسہ تو تھا ،سوچ نہیں تھی، جبکہ کوئی بھی آرٹ یا فن ہو، وہ ’’سوچ‘‘ کا محتاج رہتا ہے اور اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔’’سوچ‘‘ کیا ہے۔ تخلیق ہی ہے اور جب تخلیق نہیں ہو گی تو ’’حشر‘‘ یہی ہو گا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کی فلمی صنعت کو کئی حکومتی ادوار میں صنعت تو مانا گیا، لیکن اسے کبھی اس طرح تسلیم نہیں کیا گیا کہ حکومتی سطح پر کچھ کرنا بھی ہے، جو انڈسٹری حکومت کو ٹیکس کی مَد میں ہر سال کروڑوں روپے دیتی تھی، وہ اب خود مدد کی محتاج ہے۔ اس سے تعلق رکھنے والے، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں ، بے روزگار ہو چکے ہیں اور سالہا سال سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ حالات کے ہاتھوں تکلیف، اذیت اور عبرت و عسرت کا ایسا نشان بن چکے ہیں کہ شاید اس پر تاریخ بھی ہمیں معاف نہ کر سکے۔ بہت کچھ بگڑ چکا ہے، شاید اور بھی بہت کچھ بگڑ جائے، پتہ نہیں کب تک بگاڑ کا یہ عمل یونہی جاری رہے۔ ہمیں اس سے پہلے ہی کچھ کر لینا چاہئے۔ فلم ایک بڑی سکرین کا بڑا میڈیم ہے۔ ہمیں اسے مرنے سے بچانا چاہئے۔ اس میں جہاں فلمی صنعت کے سنجیدہ اور اس سے محبت کرنے والوں کا کردار ہو گا وہاں حکومتی کرداری بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت چاہے تو فلمی صنعت والوں کے ساتھ مل کر اس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے مثبت اقدامات کرے،جن کی آج اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے فلمی دُنیا کی اے پی سی بلانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

مزید : کالم