کاش ! اب کوئی انقلاب آئے

کاش ! اب کوئی انقلاب آئے
کاش ! اب کوئی انقلاب آئے

  

میرا ملک ایک ہنستا بستا وطن تھا جہاں امن کی فاختہ وقت کے شجر پر نغمے سناتی تھی دو دن پہلے میں اپنے گاؤں میں مکان کی چھت پر سویا ہوا تھا ابھی فجر کی اذان نہیں ہوئی تھی کہ کوئل کی خوبصورت آواز نے دل کو خوش کر دیا کاش میرے گاؤں کی طرح سارے ملک میں صبح کے وقت کوئل کے نغموں کی آوازسنائی دے میرے ملک کے ہرے بھرے کھیتوں کی شادابی سال بھر موسم بہار کا سراغ دیتی تھی سکھ کی کوئل یہاں کے بسنے والوں کو آزادی کے سندیسے سناتی تھی یہاں کی راتوں میں روشنیاں تھیں زندگی تھی چہل پہل تھی پریشانی کے عالم میں کوئی ماں کوئی بیٹی کوئی بہن چوکھٹ کی راہ نہیں تکتی تھی،لوگوں کا ہجوم تو ہوتا تھا مگر اس ہجوم کے کاندھوں پر جنازے نہیں ہوتے تھے جہاں قہقہوں کی آوازیں آتی تھیں گولی کی نہیں۔ جہاں شامیں نئی دلہن کی طرح خوشبو بکھیرتی تھیں مگر اب چشم فلک نے وہ وہ تماشے دیکھے کہ تماشا ختم ہو گیا صرف مداری رہ گئے اور مداری بھی وہ جو باری باری اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں مگر کوئی کرتب نہیں دکھاتے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم ان کے کرتب بار بار دیکھ چکی ہے اب اس میں کوئی نیا پن نہیں رہا۔

حکمران طبقات اور طبقہ اشرافیہ اس کوشش میں ہے کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ دولت کما سکتا ہے اور کس طرح بیرون ملک دولت کو جمع کر سکتا ہے حکمران اپنے ساتھیوں کے اثاثوں میں اضافے کر رہے ہیں اور دوسرے ملکوں سے کشکول میں ملنے والے سرمائے کو بے دریغ خرچ کر رہے ہیں جس قدر پاکستانی غریب عوام کے یوٹیلیٹی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اس سے زیادہ حکمران اپنی مراعات میں اضافہ کر کے عوام پر بوجھ ڈالتے ہیں ان دنوں سارے ایماندار، دیانت دار، با ضمیر پرہیز گار لوگ ایک دوسرے کے خلاف بول کر ڈنگ ٹپا رہے ہیں عوام ہر طرح مہنگائی، بدامنی، کرپشن، لوٹ مار ڈاکے زنی سے تنگ ہیں۔ بڑے بڑے منصوبوں کی اشتہار بازی ہو رہی ہے لیکن زمین پر ان منصوبوں کا ابھی تک نام و نشان نہیں حکمرانوں کی تصویری نمائش جاری ہے ملک کو عوام کو بجلی کی ضرورت ہے گیس کی ضرورت ہے بجلی کے منصوبوں کی سالانہ مدت میں تکمیل کی ضرورت تھی وہ بیس سالہ منصوبے جاری کئے جا رہے ہیں اگلے دس سال تک لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں سارے قرضے اور ملکی سرمایہ غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ اقتدار کی باریاں لینے والے پھر تیاریاں کر رہے ہیں سات سال تک برسرِ اقتدار طبقے نے سابقہ حکومتوں کی کرپشن، کمزوریوں کا رونا رو کر گزارہ کر لیا ہے اور اب اپنی نئی نسل کو اقتدار میں لانے کی تیاریاں شروع ہونے والی ہیں ہر طرف فوٹو سیشن ہو رہے ہیں کسی شاعر نے کہا تھا:

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

نفرت کی آگ عوام کے درمیان دلوں میں دن بدن زیادہ ہو رہی ہے مذہب اور حقوق کے نام پر قتل و غارت گری کا خون آلود کھیل جاری ہے محبتیں، خلوص خواب و خیال ہو گئے ہیں اب تو تاحدِ نظر وحشت کے سائے زندگی کے دشت پر منڈلا رہے ہیں۔ بلوچستان کی شاہراہوں پر چلتی بسوں، ویگنوں کو کھڑی کر کے ان میں مسافروں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور لاشوں کی شناخت بھی ختم کر دی جاتی ہے اور برسرِ اقتدار لوگ اقتدار کے نشے میں مرنے والوں گولیوں کا ایندھن بننے والے جسموں کو کسی دوسرے ہمسایہ ملک کے ذمہ ڈال دیتے ہیں اور ایک دو دن بیان بازی چلتی رہتی ہے اور بس۔ دشمن ملک کی ایجنسیوں کے لوگ ملک کی شاہراؤں پر قتل و غارت کر کے غائب ہو جاتے ہیں تو پھر حکمران طبقے کو اقتدار میں رہنے کا کیا حق ہے۔

شمالی علاقوں میں پاکستان آرمی دہشت گردوں کو ختم کر رہی ہے تو آرمی کو شمالی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے پہاڑوں کا رخ بھی کرنا پڑے گا۔ ان حالات میں سول انتظامیہ قطعی ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنی باری کی حکومت کر کے فارغ ہونے والے ہیں اگلی آدھی مدت کے لئے کسی دوسری پارٹی کا وزیر اعلیٰ بن جائے گا اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف حکمران پہاڑوں میں چھپے ہوئے عوام دشمنوں کو کس طرح ختم کر سکتے ہیں۔کراچی میں اسماعیلی فرقے کی بس کو روک کر تمام لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن کسی بھی حکمران نے کرسی نہ چھوڑی بلکہ دوسرے صوبوں کی مثالیں دے کر عوام کے سامنے سرخرو ہو گئے۔ میڈیا کی آزادی نے بھیانک چہروں کو بے نقاب کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن پاکستان کے دشمنوں کے پاس بے پناہ وسائل ہیں وہ ان کو استعمال کر کے وقتی طور پر بچنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی کبھی ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں پاکستان بنانے کے لئے جو ہر طرح کی جانی، مالی قربانیاں دی تھیں ان کا مقصد یہی عہد حاضر کا پاکستان بنانا تھا؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں اس وقت واقعی مسلمانوں کے لئے ایک پاک وطن کی ضرورت تھی جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا کیا۔

علامہ اقبالؒ کا خواب تھا قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت تھی اس وقت مسلمانوں کو اپنے لیڈروں پر اعتماد تھا ان کو اپنے لیڈروں پر بھروسہ تھا ان سے دلی لگاؤ تھا اور تمام مسلمانوں کے جذبات ایک آزاد ملک کے لئے نمایاں تھے اور اس آزاد ملک کے اپنے اندر بسنے والوں کو پیار دیا محبت و یگانت سے رہنے کا درس دیا جو لوگ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان کی سرزمین پر آئے ان کو پہلے سے آباد لوگوں نے خوش آمدید کہا اور اس ملک سے وابستہ لوگوں نے سہانے خواب دیکھنے شروع کئے مگر پاکستان کے دشمنوں نے خود غرض اقتدار کے بھوکے عناصر نے اپنی ریشہ دوانیاں شروع کر دیں اور ایک کے بعد ایک کرسی کا کھیل شروع ہو گیا ہم اب اپنی ہی صفحوں کے درمیان بے امان کھڑے ہیں ۔ زمین پیروں سے آہستہ آہستہ سرک رہی ہے اور سر پر آسمان نہ ہونے کا یقین ہونے لگاہے۔ زندگی میں انقلاب آتے رہتے ہیں ہمیں بھی اس انقلاب کا انتظار ہے جو بغیر خون بہے آجائے۔

مزید : کالم