پاک افغان تعلقات میں بہتری۔۔۔ وقت کی اہم ضرورت

پاک افغان تعلقات میں بہتری۔۔۔ وقت کی اہم ضرورت
پاک افغان تعلقات میں بہتری۔۔۔ وقت کی اہم ضرورت

  

عالمی سیاست میں ریاستوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ دوستیاں دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور صدیوں پرانے دشمن بدلتی صورت حال کے پیش نظر رقابتوں کو بھول کر امن کے راستے پر آجاتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کسی بھی ملک کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ معیشت اور اثرورسوخ کا انحصار انٹرنیشنل ریلیشنز ہی پر ہوتا ہے۔ یہ تعلقات اس وقت مزید اہم ہوجاتے ہیں، جب آپ کا واسطہ کسی دوسرے براعظم کے ملک سے نہیں، بلکہ اپنے ہی ہمسایہ ملک سے ہو۔افغانستان پاکستان کے مغرب میں واقع ہے۔ افغانستان سے ہمارے تعلقات 1947ء میں سے کشیدہ رہے ہیں۔کبھی پختونخوا کا شوشہ چھوڑا گیا تو کبھی دراندازی کی آڑ میں الزام تراشی کی گئی۔افغانستان کرۂ ارض پر واحد ملک تھا،جس نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان کی آزادی سے ہی افغانستان کی کوشش یہ رہی کہ شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبرپختونخوا) کے ایک بڑے حصے کو افغانستان میں ضم کر دینا چاہیے۔ افغان حکومتوں نے ڈیورنڈ لائن پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایسی معاندانہ روش پر پاکستانی حکومتوں نے صبر کا مظاہرہ کیا اور یہ کوشش جاری رکھی کہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کئے جائیں۔ 1994ء میں جب طالبان نے حکومت سنبھالی تو کچھ عرصہ تک پاک افغان تعلقات بہتر رہے، مگر جلد ہی تعلقات میں وہ گرمجوشی نہ رہی اور سیاسی رہنماؤں کے ذاتی اختلافات نے ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیا۔ افغانستان میں امریکی مداخلت کی بناء پر جب حامد کرزئی نے صدارت کی کرسی سنبھالی تو ایک بار پھر پاکستان کو افغانستان کی شکل میں مشکل ہمسائے سے واسطہ پڑا۔

ایک دوسرے پر الزامات لگتے رہے اور اس کا فائدہ ہمارے دشمن اٹھاتے رہے۔ خصوصاً بھارت نے افغان پاک تعلقات میں سرد مہری کو افغان بھارت تعلقات میں بہتری کے لئے استعمال کیا۔اربوں روپے افغانستان میں انوسٹ کرکے افغانوں کا دل جیتنے کی کوشش کی گئی۔ بھارت نے اپنے ایجنٹ بھی افغانستان بھیجے، جن کا مقصد پاک افغان سرحد سے پاکستان میں داخل ہو کر ہمارے ملکی مفادات کونقصان پہنچانا تھا۔ کرزئی کا دور ختم ہوا اور اب اشرف غنی منصب صدارت پر براجمان ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے پاک افغان تعلقات کی خطے کے لئے اہمیت کے پیش نظر افغانستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ دورہ نہایت کامیاب رہا۔ مشترکہ بیان میں یہ کہا گیا کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور پاکستان کا دشمن افغانستان کا دشمن ہے۔ وقتاً فوقتاً پاکستان کے مختلف سیاسی اور عسکری وفود نے بھی افغانستان کا دورہ کیا۔ نوازشریف حکومت کی کوششوں سے تعلقات میں بحالی کی جانب پیش رفت ہوئی اور تاریخ میں پہلی بار انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس معاہدے کے مطابق آئی ایس آئی اور افغانستان کا نیشنل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ ایک دوسرے سے دہشت گردوں اور دوسرے اہم معاملات پر معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ افغان انٹیلی جنس کے ترجمان حسیب صدیقی اور آئی ایس پی آر کے ڈی جی عاصم باجوہ نے ایم اویو کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان حکومت کے اس اقدام کا پاک افغان تعلقات بحالی پر بہت اثر پڑے گا۔

ایسے ماحول میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اشتعال انگیز بیانات خطے کی فضا کو کشیدہ کررہے ہیں اور وزیر دفاع منوہر پاریکر اپنی گیدڑ بھبکیوں سے پاکستان کو ڈرانے کو ناکام کوشش کررہے ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں بہتری پاکستانی سلامتی کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ موجودہ حکومت جس دانشمندی سے پاکستان کے مفادات کو عالمی سطح پر تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ ایسی صورت حال میں جبکہ ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں جانب سے چھپے ہوئے اور ظاہر دشمن کا سامناہے، سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ ملکی سلامتی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اور پاکستان کے مفاد کو ذاتی پسند و ناپسند پر ترجیح دیں۔ اسی میں پاکستان کی بقاء، ترقی اور خوشحالی مضمر ہے۔

مزید : کالم