آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  

سورۃ الانعام۔۔۔ 6 ویں سورت

سورۃ انعام نزول کے لحاظ سے مکی سورت ہے۔ 166 آیات اور 20رکوع ہیں۔ پہلے بارہ رکوع ساتویں پارہ میں اور باقی آٹھ رکوع آٹھویں پارے میں شامل ہیں۔ اس سورت مبارکہ کا اصل موضوع توحید الٰہی ہے۔ اس میں مشرکین کی ان رسوم کابھی ذکر ہے جو ان میں مروج تھیں۔ مشرکین کی ازلی بدبختی کا ذکر کر کے توحید کے دلائل دیئے گئے ہیں اور ساتھ ہی مشرکین کی حرام سے رغبت کا بھی بیان ہے۔ اسی طرح اسلام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے انجام کا بھی تذکرہ ہے۔ کفار کی اس ذلیل خواہش کا بھی تذکرہ کیاگیا ہے کہ ’’رسالت جیسا عظیم منصب اور اس کے انعامات ان کو بھی دیئے جائیں‘‘۔

کفار کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ تبلیغ کے لئے فرشتے کیوں نہیں آئے۔ کفار تو ان پر بھی اعتراض کرتے اور اگر کاغذ پر لکھا ہوا نازل ہوتاتو اس پر بھی اعتراض ہوتا کہ وہ تو جادو ہے۔ اللہ کی نافرمانی سے تباہی اوربربادی ہے، جس کی شہادت تباہ شدہ قوموں کے کھنڈروں سے ہو سکتی ہے۔ مسلمان بن کر ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی ہو سکتی ہے اور اسلام کے معنی ہی اطاعت کے ہیں اور آپﷺ فرما دیں کہ مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کروں۔ وہ حکمت والا اور خبروالا ہے۔ ہمیشہ یہ ہوا کہ انبیاء علیہ السلام تشریف لائے تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا اور انہیں جھٹلایا اس لئے وہ برباد ہوئے اور دنیا کے عیش کی وجہ سے خدا کو بھول گئے، پھر عذاب الٰہی نے ان کو پکڑ لیا اورا للہ کی گرفت سے کوئی شخص باہر نہیں۔ آپﷺ فرما دیں کہ کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری سماعت اور تمہاری بینائی تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پرمہر کر دے تو اللہ کے سوا کون ہے جو یہ قوتیں تم کو واپس دلا سکتا ہے۔ پھر عذاب کی وعیدہے اور ایمان والوں کو خوشخبری ہے۔ قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، نہ سفارش چلے گی اور نہ مال و دولت فائدہ دیں گے۔ صرف عمل صالح ہی سے عذاب ٹل سکتا ہے۔ پھر حضورﷺ کو اور آپؐ کے واسطے سے امت کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ذکر الٰہی سے غافل نہ رہیں اور جو لوگ اللہ کے ذکر میں لگے رہتے ہیں، انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹائیں، بلکہ ان سے احسن سلوک کریں۔ رحمت والا خدا ضرور توبہ کرنے والوں کو بخش دے گا۔ کسی کی خواہش کی پیروی نہ کی جائے۔ صرف اللہ کی اطاعت کی جائے، ہر قسم کے شرک سے بچیں۔

پھر ارشاد ہے کہ غیب کی کنجیاں اللہ کے پاس ہیں اور اس کو ذرے ذرے کا علم ہے۔ درخت کا پتا اس کے علم کے بغیر نہیں گرتا۔ زمین کی تہہ ہو، خشکی ہو، تری ہو، ہر چیز کا اسے علم ہے۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ ایمان کی تلقین، اتحاد و اتفاق کی تعلیم، دنیا پرستی سے احتراز کا حکم ہے اور یہ حکم بھی ہے کہ ان لوگوں سے دور رہیں جو اللہ پر اور اس کے رسولﷺ پر اعتراض کرتے ہیں اوردنیا میں غرق رہتے ہیں۔ پھر قیامت کا ذکر ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ شرک کا نتیجہ کیا ہو گا۔ اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنے باپ کو بت پرستی پرٹوکاتھااور کہا تھا کہ وہ اور ان کی قوم گمراہی میں مبتلا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی رسالت کے بعد دوسرے پیغمبروں کی رسالت کا ذکر آتا ہے کہ ان کی دعوت بھی وہی تھی جو قرآن کی ہے، یعنی توحید، آخرت پر ایمان اور عمل صالح کی ترغیب۔ یہود کہتے ہیں کہ خدا نے آج تک کوئی کتاب کسی پر نازل نہیں کی۔ اگر ایسا ہے تو تورات کس نے نازل کی اور وہ جس پر نازل ہوئی وہ بھی انسان ہی تھا اور قرآن تو ایسی مبارک کتاب ہے جوتصدیق کرتی ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی، مکہ والوں اور تمام انسانوں کو اس سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔

قرآن میں حلال اور حرام کے متعلق واضح احکام موجود ہیں۔ اللہ کے نافرمانوں کو اپنے اعمال خوش نما معلوم ہوتے ہیں اس لئے وہ اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ آخرت سے ڈرتے ہیں، یہ نفس کا فریب ہے۔ جن یا انسان جو بھی خدا سے باغی ہوگا وہ سب جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اللہ جس کو ہدایت فرمانا چاہتا ہے اس کے لئے اسلام کا راستہ کھول د یتا ہے۔ جن و انس کی ہدایت کے لئے ہادی اور رسول آئے کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ بغیر اتمام حجت کے کوئی بستی تباہ نہیں کرتا اور اسے ہر طرح قدرت حاصل ہے اور وہ کل کی طرح آج بھی بستیوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ شرک اور مشرکین کی مذمت بھی ہے کہ مشرکین نئی نئی باتیں گھڑ لیتے تھے، اولاد کو قتل کر دیتے تھے اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو بغیر علم کے حرام قرار دے دیتے تھے۔ ایسی تمام حرکتیں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ اب حکم ہے کہ باغ یا کھیتی کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ پھر اللہ کے انعامات کا ذکر ہے جو بندوں پر کئے گئے ہیں۔ مثلاً سواری اورگوشت کے لئے جانور پیدا کئے گئے ہیں۔ حلال جانوروں کے سلسلے میں ارشاد ہے کہ ان کو بتوں پر چڑھانا محض مشرکانہ رسم ہے، خدا کا حکم ایسا نہیں ہے۔ ارشاد ہے کہ خدا نے مردار اور بہتا ہواخون خنزیر یا جس پرخدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو حرام قراردیاہے۔ ہرناخن سے کھانے والا جانور بھی اور بعض دوسری چیزیں بھی ان پر حرام ہیں۔

بطور سزا کے یہ بھی ارشاد ہے کہ منکرین اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، مسلمانوں کو ان سے بچنا چاہئے۔ اب ایسی دس باتیں بتائی گئی ہیں جن کا ارتکاب سخت گناہ اور قیامت میں عذاب کا موجب ہے۔ یعنی (1) شرک (2) والدین سے حسن سلوک نہ کرنا (3) مفلسی کے خوف سے اولاد کا قتل (4) زنا (5) ناحق قتل (6) یتیم کا مال ہڑپ کرنا (7) ناپ تول میں کمی بیشی (8) عدل وانصاف نہ کرنا (9) عہد شکنی اور (10) اسلام پر نہ چلنا۔ بلکہ ایک ملت میں رہ کر دین میں فرقہ بندی کر کے اس پر چلنا۔ اس طرح کے احکامات تورات میں بھی تھے۔ اب قرآن کے نزول کے بعد حجت تمام ہو گئی اور اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہماری طرف کتاب نہیں بھیجی گئی یا کوئی رسول نہیں آیا۔ حضور انورﷺ تشریف لے آئے ہیں اور قرآن بھی نازل ہوچکا ہے۔ اب توہدایت حاصل کر لینی چاہئے، ورنہ قیامت میں سخت عذاب ہو گا اور عذاب آتا دیکھ کر ایمان لانا مقبول نہیں۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی وہ ہدایت دہرائی گئی ہے جو انہوں نے اپنی قوم کوعطا فرمائی تھی، یعنی یہ کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا اور تمہارے درجے ایک دوسرے پر بلند کئے، وہی عذاب دینے والا اور وہی بخشنے والا بھی ہے۔

مزید : کالم