آج محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ ہے!

آج محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ ہے!
آج محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ ہے!

  

محفل گرم تھی، پروفیسر گل دلیل سننے پر آمادہ نہیں تھے۔ وہ سابق صدر کے لَتے لے رہے تھے، ان کا موقف تھا کہ جو بھی کارروائی ہوئی یا ہو گی درست ہے۔ وہ تو یہ بات بھی ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا الزام لگا رہے ہیں تو خود ان کی پارسائی کا کیا ثبوت ہے، اس پر خواجہ طارق نے گرہ لگائی کہ کون اچھا ہے، سبھی ایک جیسے ہیں، جبکہ پروفیسر منور حسین مرزا کے مطابق تاریخ کے تناظر میں دیکھنا چاہئے، انہی میں ایک صاحب نے کہا کہ بے نظیر زندہ ہوتیں تو یہ حالات پیدا نہ ہوتے، ایسی ہر محفل میں آج کل آصف علی زرداری کی تقریر اور جوابی طور پر حکومت کرنے والوں کے رویے پر ہی بات ہوتی ہے، تاہم جس دوست نے یہ کہا کہ بے نظر ہوتیں تو؟ ان کی طرف دیکھا اور کہا یوں نہ ہوتا، تو یوں ہوتا والی بات نہیں، بے نظیر نہیں ہیں۔ اگر وہ ہوتیں تو27دسمبر2007ء کے بعد سے اب تک جو کچھ ہوا وہ نہ ہوتا، ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ جن صاحب نے بے نظیر کا نام لیا وہ ان کے حمایتی تو نہیں، لیکن ان کی قیادت کے قائل ضرور نظر آئے۔

اس صورت حال نے ہم جیسے لکھنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ آج (اتوار21-جون) ان کا جنم دن ہے۔ آج کی تاریخ کو1953ء میں پیدا ہوئی تھیں، اب یہ مفروضہ ہے تو پھر وہ62 برس کی ہوتیں، لیکن دست اجل نے ان کو جلدی ہی لے لیا، اس وقت وہ مکمل سیاسی فارم میں تھیں، اور جلا وطنی کے بعد وطن واپس آنے تک زیادہ مدبر ہو چکی تھیں، کہ آنے سے پہلے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کر چکی تھیں، اس کے لئے ہمیں نوابزادہ نظر اللہ (مرحوم) بھی یاد آتے ہیں کہ اپنی وفات سے قبل انہوں نے ہی یہ بڑا کارنامہ انجام دیا کہ ماضی کے حریف، مستقبل کے حلیف بن گئے تھے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو بھی دوسرے سیاست دانوں کی طرح ایک سیاست دان ہی تھیں تاہم ان میں خوبیوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ یہ تسلیم کہ ہر لیڈر پبلک پراپرٹی ہوتا ہے اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ان رہنماؤں پر تنقید بھی کر سکیں، اس لئے محترمہ تنقید سے ماوراء تو نہیں تھیں تاہم آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو پھر خیال آتا ہے کہ ان کے جانے سے کتنا نقصان ہوا ہے اور جن کے راستے میں وہ رکاوٹ تھیں یا جو ایسا سمجھتے تھے۔ انہوں نے کس طرح یہ کانٹا نکال دیا۔1997ء کا انتخابی دور تھا، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی مدمقابلِ تھے کہ 1988ء سے اس وقت تک دونوں جماعتیں حکومت کرتی چلی آ رہی تھیں، انتخابی مہم جاری تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو خود قیادت کر رہی تھیں ، جنوبی پنجاب کے دورے کا پروگرام بنا تو اس وقت کے میڈیا کوآرڈینیٹر منور انجم نے لاہور سے پیپلزپارٹی کے چند بیٹ رپورٹروں کو ساتھ لیا تو ہم بھی ان میں شامل تھے، محترمہ کے لئے ایک رشین ہیلی کاپٹر کرائے پر لیا گیا تھا، جس میں ان کے آرام کے لئے بھی گنجائش پیدا کر دی گئی تھی، ہیلی کاپٹر کے ذریعے یہ انتخابی مہم کئی روز تک جاری رہی اور یہ بھی اتفاق ہے کہ اِسی دوران رمضان المبارک بھی تھا اور ہم روزے بھی رکھتے تھے۔

لاہور سے روانگی کے بعد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ بوریوالہ پہنچیں تو افطار اور قیام کا انتظام قربان چوہان سابق رکن قومی اسمبلی نے کیا تھا، ہم اخبار نویس الگ الگ گھر میں ٹھہرے، یہیں ہمیں پیغام ملا کر افطار محترمہ کے ساتھ ہو گی، جو بالمقابل کوٹھی میں ٹھہرائی گئی تھیں، اس روز میاں محمد نواز شریف کی ٹیلی ویژن پر تقریر تھی، محترمہ نے فیصلہ کیا کہ تقریر سُن کر بات بھی کر لیں گی۔ افطار پر جمع ہوئے تو آف دی ریکارڈ گفتگو شروع ہو گئی۔ بے نظیر بھٹو نے اس دوران بہت زیادہ فکر مندی ظاہر کی وہ زیادہ تر بیرونی خطرات کے تناظر میں ملکی حالات کے حوالے سے گفتگو کرتی رہیں، ان کی گفتگو میں فکر مندی تھی، اس کے مطابق بیرونی قوتیں پاکستان کے در پے ہیں اور موجودہ خطے میں غربت بہت بڑا مسئلہ ہے جو صرف امن ہی سے حل ہو سکتا ہے۔ وہ پیپلزارٹی کے منشور روٹی،کپڑا اور مکان پر قائم تھیں اور اپنے دونوں ادوار1988+1993ء کے حوالے سے بات کرتی رہیں، ان کے سامنے واضح پروگرام تھا جس کے مطابق وہ مُلک سے غربت دور کرنا چاہتی تھیں۔بے نظیر بھٹو کے ساتھ طویل عرصہ تک رپورٹنگ کے دوران ان کے بارے میں ہمارے خیالات اچھے تھے کہ باہر جو الزام لگتے وہ اس دوران بہت ہی غلط لگتے تھے۔

جہاں تک محترمہ سے اکثر نجی گفتگو کا موقع ملا تو ایک بات بہت واضح تھی وہ اپنے بچوں کے بارے میں بہت حساس تھیں اور ان کی پرورش پر خصوصی توجہ دیتی تھیں۔ انہوں نے خود کہا کہ بچے سکول سے آ جاتے ہیں تو وہ وقت نکال کر ان کا ہوم ورک خود دیکھتی اور کرواتی ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ دبئی میں پیپلزپارٹی کی مجلس عاملہ یا بعض دوسری میٹنگیں ہوتیں تو جو شخصیات یہاں سے جاتیں ان میں سے چنیدہ لوگوں کو خصوصی طور پر بچوں سے ملاتی تھیں اس لحاظ سے بلاول، بختاور اور آصفہ کو اپنی والدہ کے وفاداروں کا بخوبی علم ہے، لیکن ان کو وقت اور موقع نہیں مل رہا کہ وہ جماعت کو بے نظیر کی جماعت بنا سکیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے تاہم موجودہ حالات میں کیا کِیا جائے۔ محترمہ فوج سے نہ تو بگاڑتی تھیں اور نہ ہی یہ تاثر پیدا کرتیں کہ وہ فوج کی مرہون منت ہیں، انہوں نے ایٹمی پروگرام کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ میزائل ٹیکنالوجی میں جی کھول کر تعاون کیا اور مُلک کو یہ تحفہ انہی کا دیا ہوا ہے۔ ان کے میثاق جمہوریت پر اس لحاظ سے عمل نہیں ہوا، جس جذبے کے تحت یہ معاہدہ ہوا، اب تو اس کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ گیا، لوگ بجا پوچھتے ہیں، بھٹو اور بے نظیر کی پیپلزپارٹی کو کیا ہوا، کب بلاول کھلے بندوں سنبھالے گا؟

مزید : کالم