ماہِ رمضان اور بجلی کا بحران بلائے جان

ماہِ رمضان اور بجلی کا بحران بلائے جان
ماہِ رمضان اور بجلی کا بحران بلائے جان

  

پہلے پاکستان میں بجلی کا ایک وزیر ہوتا تھا، اب دو ہیں ،کام ڈبل ہو گیا ہے یا ’’حصہ‘‘؟ اس بارے میں تو کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ البتہ ماہِ رمضان کے آتے ہی بجلی نہ ہونے کا جو عذاب عوام پر مسلط ہوا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنے کو ضرور جی چاہتا ہے کہ عوام کو دو وزیروں سے نجات دلاؤ اور ایک ہی اچھا سا وزیر مقرر کرو ،جو کم از کم اور کچھ نہیں تو وزیراعظم نواز شریف کے لفظوں کا پاس ہی رکھ سکے۔حیرت ہے کہ ایک روز پہلے وزیراعظم بجلی کے نظام کی بہتری اور رمضان میں بجلی کی فراہمی کے بارے میں اعلیٰ سطحی اجلاس بلاتے ہیں، اس میں ہدایات جاری کرتے ہیں اور قوم کو یہ خوشخبری سناتے ہیں کہ ماہِ رمضان المبارک کے دوران لوڈشیڈنگ کم ہو گی، مگر اگلے ہی روز پہلے روزے پر عوام پر لوڈشیڈنگ کا نہ ختم ہونے والا عذاب طاری کر دیا جاتا ہے۔ ڈھٹائی کی حد تو یہ ہے کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف ٹی وی چینل پر اس کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ گرمی بڑھ جانے کے باعث طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کا نظام متاثر ہوا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا18جون کو مُلک میں برف باری ہو رہی تھی کہ19جون کو اچانک گرمی آ گئی۔ جو درجہ حرارت18کو تھا، وہی19جون کو رہا، بس فرق صرف یہ پڑا کہ اس دن پہلا روزہ تھا، مانگ کیسے بڑھ سکتی تھی، الٹا اس دن تو مانگ کم ہونی چاہئے تھی، کیونکہ جمعہ کی وجہ سے مُلک کی اکثر مارکیٹیں اور بازار بند ہوتے ہیں، پھر دفاتر بھی12بجے کے بعد بند ہو جاتے ہیں۔ یہ تو نااہلی اور بد انتظامی کا سیدھا سادہ کیس ہے، جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے، مگر وہ نوٹس نہیں، جو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ اکثر لیتے ہیں، بلکہ سنجیدہ نوٹس کہ جس سے ایک طرف عوام کو کچھ ریلیف ملے اور دوسری طرف حکومت کے بارے میں روز بروز بڑھتی ہوئی بے اعتمادی میں کوئی کمی لائی جا سکے۔

آج کل مُلک میں چونکہ رینجرز کا بہت ذکر رہتا ہے، اس لئے اب لوگ ہر کام کے لئے رینجرز کی طرف دیکھنے لگے ہیں۔ ایک منچلے نے سوشل میڈیا پر یہ لکھا کہ جمعہ کی نماز بغیر بجلی کے پسینے میں شرابور ہو کر پڑھ لی ہے۔ اس موقع پر متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی اور وزیر مملکت برائے پانی و بجلی کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔۔۔ خیر اس نے تو یہ ازراہ تفنن لکھا تھا، مگر غور کیجئے کہ اب حالات کس طرف جا رہے ہیں؟ مسائل کو حل نہ کیا گیا تو عوام کی طرف سے کیسے کیسے مطالبے سامنے آئیں گے اور ہم جو روایات بناتے جا رہے ہیں، اُن کی وجہ سے اُن مطالبات کو ٹالنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ موجودہ دونوں وزراء کے دور میں کئی بار ملک گیر بجلی کا بریک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ ہر بار وزیراعظم نوٹس تو ضرور لیتے ہیں، مگر کارروائی کیا ہوتی ہے، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ چند چھوٹے افسران کو قربانی کا بکرا بنا کر کام چلا لیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت صرف لوڈشیڈنگ کے ایشو پر عوام کو ریلیف دینے کے انتخابی وعدے کی بنیاد پر مینڈیٹ لے کر آئی تھی۔

چاہئے تو یہ تھا کہ سب سے زیادہ اسی پہلو پر توجہ دی جاتی۔۔۔مگر توجہ صرف اس حد تک دی گئی کہ آتے ہی پانچ کھرب روپے کا سرکلر ڈیٹ ادا کر دیاگیا، دوسرا کام یہ کیا کہ نندی پور پراجیکٹ کو چالو کرنے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے گئے، اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ البتہ بجلی کے ریٹ دو گنا کر دیئے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا۔ جھوٹ سے کب تک کام چلایا جا سکتا ہے۔ ان دونوں وزراء نے یہ تکنیک بھی استعمال کی کہ جہاں بجلی چوری زیادہ ہے، وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی بڑھا دی۔ شاید ہی دُنیا میں ایسا کوئی سکھاشاہی فرمان جاری کیا گیا ہو، گویا آپ نے اپنی ناکامی تسلیم کر لی اور ان علاقوں کو یہ کھلی چھوٹ دے دی کہ جتنی بھی بجلی آتی ہے، اسے چوری کر کے استعمال کر لیا کرو۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا کیا قصور ہے جو اُن علاقوں میں رہتے ہیں اور بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ چلو جی مان لیتے ہیں کہ آپ نے یہ کام ملکی مفاد میں کیا ہے، تو پھر اس بچنے والی بجلی سے عوام کو کیا ریلیف دیا ہے؟ لوڈشیڈنگ تو اب بھی18سے20گھنٹے تک ہو رہی ہے اور بل بھی پورے آ رہے ہیں۔اس ظلم کا حساب بھی شاید کبھی رینجرز والے ہی مانگیں گے جو اوور بلنگ کے ذریعے ہو رہا ہے۔

میری ذاتی تحقیق کے مطابق اب ہر سب ڈویژن کے ایس ڈی او کو اس بات کا پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سب ڈویژن میں آنے والے یونٹس کے مطابق بجلی کی بلنگ کرے، لائن لاسز کو بھی اس میں ڈالے اور چوری کو بھی اس میں شامل کرے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور نہ اوور بلنگ پر کوئی باز پُرس ہو گی۔ یہ ایک طرح سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے اور کرپشن کو فروغ دینے کی انتہائی ظالمانہ کوشش ہے۔ہر ماہ ہزاروں صارفین واپڈا دفاتر کے دھکے کھاتے ہیں کہ اُن کے بل درست کئے جائیں، مگر اوپر سے لے کر نیچے تک اُن کی شنوائی اس لئے نہیں ہوتی کہ اوور بلنگ کو تو پالیسی کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ فیصل آباد کی ایک عورت نے 60ہزار روپے کا بل آنے پر خود کشی کر لی تھی، کیونکہ وہ بل درست کرانے کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکی تھی، جب کہیں سے ریلیف نہ ملا تو اُس نے موت کو ہی سہل راستہ سمجھ لیا۔مُلک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں فرنٹ مینوں کے ذریعے بھتہ خوری کا سلسلہ بھی جاری ہے، ان باتوں کا شاید وزیراعظم کو کوئی علم نہ ہو، لیکن یہ دونوں وزراء اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جب اس انداز سے مُلک کے اہم ترین ادارے کو چلایا جائے گا، تو اُس کی کارکردگی ایسی ہی ہو گی، جیسی اس وقت نظر آ رہی ہے۔ واپڈا کے ذیلی اداروں میں احتساب نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں۔ ایف آئی کے لئے بھی یہ محکمہ غیر ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ اوور بلنگ ایک جرم ہے، مگر آج تک کسی بڑے افسر کو اس حوالے سے قانون کی گرفت میں نہیں لایا گیا۔ مجھے اُس وقت بہت ہنسی آتی ہے، جب مَیں کبھی یہ خبر پڑھتا ہوں کہ فلاں علاقے کے میٹر ریڈر کے خلاف اوور بلنگ پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ کام تو ایس ڈی اوز اور ایکسین کی سطح کے افسران کر رہے ہیں، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔

پیپلزپارٹی کے دور میں وزیراعلیٰ شہباز شریف لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام کی آواز بن کر ابھرے تھے۔ مَیں سمجھتا ہوں انہوں نے مینارِ پاکستان پر بیٹھ کر ہاتھ کے پنکھوں کا جو سٹیج سجایا تھا، اس کا پیپلزپارٹی کو بہت نقصان ہوا، جس کا غصہ عوام نے 2013ء کے انتخابات میں نکالا، مگر اب وہ خاموش ہیں، وہ ہر معاملے میں عوام کی آواز بنتے ہیں، اس معاملے میں ان کی لاتعلقی خود اُن کے لئے عوامی مقبولیت کے نقطۂ نظر سے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ جب سندھ میں سائیں سرکار سید قائم علی شاہ اور خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں تو وہ پنجاب میں اذیت ناک لوڈشیڈنگ پر کیوں خاموش ہیں؟ اُن کا تو حکومت میں اثرو رسوخ بھی بہت زیادہ ہے، انہیں اس بحرانی کیفیت میں کہ جو عوام کو آئے روز احتجاج پر اکسارہی ہے، اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اب شاید مسلم لیگ(ن) کو پیپلزپارٹی کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑے۔ ایسے میں بجلی کے حوالے سے بدترین کارکردگی پیپلزپارٹی کی طرح مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، مَیں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپشن کو کم کر کے اور ایک اچھے فل ٹائم وزیر پانی و بجلی کے ذریعے موجودہ حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے، اس کام کے لئے وزیراعلیٰ شہباز شریف ہی وزیراعظم کو آمادہ کر سکتے ہیں۔

مزید : کالم