تبادلہ ماہی گیروں کا، احسان مودی کا؟

تبادلہ ماہی گیروں کا، احسان مودی کا؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مستقل شغل جاری ہے، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے رمضان المبارک کی ہمارے وزیراعظم کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی یہ بھی خبر سنائی کہ خیر سگالی کے طور پر بھارت میں زیر حراست ماہی گیروں کو رہا کر رہے ہیں یہ بڑی فراخدلی دکھائی گئی اور پھر آج ہی یہ تصویر بھی نظر سے گزری کہ پاکستان سے بھی بھارتی ماہی گیروں کی رہائی ہوئی ہے اور وہ بھارت جانے کے لئے بس میں سوار ہو رہے ہیں۔ماہی گیروں کا روزگار ہی سمندر سے وابستہ ہے اور اکثر اوقات یہ لوگ حدود سے تجاویز کر جاتے ہیں، بھارتی اگر پاکستانی سمندر کی حدود میں آ جائیں تو پاکستانی کوسٹ گارڈ ان کو پکڑ کر مال و سامان قبضہ میں لے لیتے ہیں، یہی حالات پاکستان کے ماہی گیروں کے ہیں اور بھارتی ان کو حدود کی خلاف ورزی پر پکڑ لیتے ہیں اور پھر ان کی رہائی قیدیوں کے تبادلے ہی میں ہوتی ہے اور یوں اسے تبادلہ بھی کہا جا سکتا ہے، دونوں مُلک یہ بھی کر سکتے ہیں کہ سمندر میں ان کی حدود سے تجاوز کرنے والوں سے پوچھ گچھ اور تسلی کے بعد چھوڑ دیا جائے، لیکن ایسا نہیں ہوتا،اب نریندر مودی نے جو احسان جتانے کی کوشش کی تو وہ صرف ربط بڑھانے کے لئے ہے

مزید : اداریہ