پارکنگ کے مسائل حل کرنے کی ضرورت

پارکنگ کے مسائل حل کرنے کی ضرورت

آبادی کے پھیلاؤ اور گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے شہروں میں پارکنگ بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے، صورت حال یہ ہے کہ مناسب تو دور کی بات یہاں گاڑی پارک کرنے کی گنجائش نہیں ملتی، سڑکوں پر دو دو رویہ پارکنگ ہو جاتی ہے تو ٹریفک کے گزرنے کا راستہ مسدود ہو جاتا ہے، اکثر اوقات دہری پارکنگ کی وجہ سے گاڑی نکالنا ممکن نہیں ہوتا اور دہری پارکنگ کرنے والے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اس کے علاوہ لاہور میں پارکنگ کے ٹھیکے بھی چل رہے تھے۔ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لئے مختلف مقامات پر پارکنگ پلازہ بنانے کے علاوہ ایک لاہور پارکنگ کمپنی قائم کر دی جو لاہور سٹی ٹرانسپورٹ کا ایک جزو قرار دی گئی، لاہور کے تمام پارکنگ سٹینڈ اس کی تحویل میں دے دیئے گئے، اس کمپنی کے حوالے سے ہمارے رپورٹر کی خبر ہے کہ یہ کمپنی خسارے میں چل رہی ہے، جس کا اندازہ صرف ایک سال سے لگایا جا سکتا ہے کہ کمپنی کو سال بھر میں 19کروڑ روپے آمدن ہوئی، سات کروڑ روپے ضلعی حکومت کا حصہ دے کر ان کے 12کروڑ روپے بچے، جبکہ اخراجات15کروڑ روپے ہیں، یوں تین کروڑ روپے خسارہ ہوا۔

جہاں تک پارکنگ کا مسئلہ ہے تو یہ بھی ہمارے کلچر سے تعلق رکھتا ہے، جس طرح اب تک ٹریفک شعور پیدا نہیں ہوا اسی طرح پارکنگ کی تمیز بھی نہیں آئی۔ اس کا حل پارکنگ پلازہ میں ہے، جو لاہور میں بنائے گئے لیکن یہ سب کام نہیں کر رہے، چوک رنگ محل والا پلازہ استعمال ہوتا ہے، وہاں دکانداروں کی گاڑیاں سارا دن کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ پلازہ گنجائش سے کم پڑ گیا، ریگل چوک میں نجی پارکنگ پلازہ ہے وہ بھی کم استعمال ہوتا ہے، لبرٹی والا بھی ناکام جا رہا ہے، اب مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں بنایا گیا، پلازہ نیلام کے پروسیس میں ہے اور ابھی اس کا استعمال شروع نہیں ہوا۔ اندازہ ہے کہ لوگ اس پارکنگ پلازہ کو استعمال کرنے سے گریز کریں گے اور یہی حال شہر کا ہے،یہاں ٹریفک شعور کے ساتھ پارکنگ کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینا ہو گی۔

مزید : اداریہ