دہشت گردوں کو ملنے والے فنڈز کے سوتے خشک کرنا ضروری ہے

دہشت گردوں کو ملنے والے فنڈز کے سوتے خشک کرنا ضروری ہے

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے مضبوط مراکز کا خاتمہ کر دیا گیا، لڑائی اب افغان سرحد کے قریب چند علاقوں میں جاری ہے ، دہشت گردوں، سہولت کاروں اور مالی مدد کرنے والوں کو بھی پکڑا جائے گا،دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ، دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قومی عزم اور واضح سمت کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردی سے پاک مُلک بنانے کے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے، آرمی چیف نے پہلا روزہ خیبر ایجنسی میں فوجی جوانوں اور قبائلی عمائدین کے ساتھ گزارا۔ آرمی چیف نے کہا جن علاقوں میں آپریشن کیا گیا ہے وہاں بہت زیادہ بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں جن میں اکثریت غیر ملکی ساخت کی تھی، شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشت گرد خیبر ایجنسی کے مشکل پہاڑی سلسلے کو مراکز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، دورے کے دوران آرمی چیف نے باڑہ میں انسدادِ انتہا پسندی مرکز کا بھی دورہ کیا، جہاں آپریشن کے دوران ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو فورسز کے حوالے کرنے والے شدت پسندوں کو تعلیم اور ووکیشنل تربیت دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے ایجنسی میں قبائلی عوام کے دہشت گردوں کے خلاف فوج کے ساتھ تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا، اور دہشت گردوں کو اپنے علاقوں میں واپس آنے کی اجازت نہ دینے کے عزم پر اُن کی تعریف کی۔

دہشت گردی کے کئی پہلو ہیں، ایک تو وہ دہشت گردی ہے جو سامنے نظر آتی ہے ۔ یہ وارداتیں کرنے والے کسی مقام کو ٹارگٹ کر کے غائب ہو جاتے ہیں، بہت سی وارداتوں کا سراغ بھی لگا لیا جاتا ہے ، جن کی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سلسلہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے اور کون کون لوگ اِن دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں، جو دہشت گرد طویل فاصلہ طے کر کے کسی مخصوص ٹارگٹ پر پہنچتے ہیں، وہ کئی جگہ قیام کرتے ہیں، اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ اِن دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والے انہیں کسی نہ کسی انداز میں پناہ دیتے ہیں، جو اسلحہ دہشت گردوں کے زیر استعمال ہے وہ انتہائی جدید ترین اور قیمتی ہے یہ اسلحے کی عالمی منڈی سے خریدا جاتا ہے اور مختلف طریقوں سے پاکستان لایا جاتا ہے ۔ آرمی چیف نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں درآمدی بارودی سرنگیں پکڑی گئی ہیں جو ظاہر ہے طویل راستوں سے یہاں پہنچتی ہوں گی، اس جدید اسلحے کی خریداری کے لئے بھاری فنڈز بھی درکار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے دہشت گردوں کے گروہ مختلف حربے استعمال کرتے ہیں، بینک ڈکیتیوں میں لوٹا ہوا پیسہ بھی اس مقصد کے لئے استعمال ہوتا ہے ، بہت سی بینک ڈکیتیوں کی تفتیش کے ڈانڈے ان گروہوں تک ملتے ہیں، اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ دہشت گردوں کو پہنچنے والے فنڈز کے سوتے خشک کئے جائیں، نائن الیون کے بعد امریکہ نے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو بیک وقت کئی محاذ کھول دیئے۔ امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ جس بڑے پیمانے پر نائن الیون کی کارروائی کی گئی ہے اس کے لئے کروڑوں اربوں کے فنڈز استعمال ہوئے ہوں گے، اس لئے امریکی حکام نے سب سے پہلے ان ممکنہ سہولت کاروں پر توجہ دی جو دہشت گردی میں تعاون کر سکتے تھے، پھر جہاں جہاں سے مالی امداد ملنے کا امکان ہو سکتا تھا ان پر نظر رکھنا شروع کر دی، امریکہ سے باہر ایک ہزار ڈالر سے زیادہ منتقل کرنے کے نئے ضابطے بنا دیئے،بڑی بڑی خیراتی تنظیموں کی رقوم کی ٹرانزیکشن کا حساب بھی رکھا جانے لگا، نتیجہ یہ ہوا کہ اب تک چودہ برسوں میں امریکہ میں دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات نہ ہو سکی، اور جو ہو گئی اس کے ملزم بھی جلد ہی پکڑے گئے، ابھی دو روز قبل امریکی ریاست کیرولینا میں ایک چرچ پر ایک اکیلے شخص نے فائرنگ کرکے آٹھ افراد کو مار ڈالا، ملزم موقع سے فرار ہو گیا، لیکن بیس گھنٹے بعد ہی پکڑا گیا۔

اس وقت آپریشن ضربِ عضب کا آخری مرحلہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ، آرمی چیف کے بقول اس وقت لڑائی افغان سرحد کے ساتھ کہیں کہیں لڑی جا رہی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد اب پسپائی کی آخری حدوں سے گزر رہے ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ یہ مرحلہ بھی جلد اپنے اختتام کو پہنچے گا، دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کو پکڑنے کا جو اعلان آرمی چیف نے کیا یہ دہشت گردی ختم کرنے کا منطقی تقاضا ہے ، جو لوگ اس قبیح کاروبار میں ملوث ہیں وہ مالی مفادات کے بھی اسیر ہیں، دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے اپنے اس کاروبار کو پیسہ کمانے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں، جن لوگوں کو خود کش حملے کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے ۔ ان کے ورثا کو بھی مالی مفادات کا لالچ دیا جاتا ہے ، اس لئے جب تک دہشت گردوں کو فنڈز ملتے رہیں گے وہ اپنا یہ دھندا بند نہیں کریں گے، اس لئے فنڈز کی فراہمی پر نظر رکھنا اور ان کو روکنا بہت ضروری ہے ۔

فوج نے ہتھیار ڈالنے والوں کی بحالی کے جو مراکز قائم کر رکھے ہیں ان کی بڑی ضرورت تھی، اکثر دیکھا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مقاصد میں جو لوگ استعمال ہوئے وہ کسی نہ کسی طرح مالی مسائل کا شکار تھے، عموماً بیروزگار لوگوں کو لالچ دے کر ایسے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور آسانی سے ان کی برین واشنگ کر لی جاتی ہے ، ایسے گمراہ عناصر جب ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو ان کو مختلف طریقوں سے مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا بہت ضرورت ہے ۔ فوج نے تربیتی مراکز اِسی مقصد کے لئے قائم کئے ہیں۔ ان مراکز کا دائرہ بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے ۔ بلوچستان میں جہاں بیروزگاری باقی مُلک کی نسبت زیادہ ہے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کا مناسب انتظام نہیں وہاں بیروزگار نوجوان آسانی سے دہشت گردی میں ملوث ہو جاتے ہیں، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف بحالی مراکز قائم کئے جائیں، بلکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایسے مراکز بھی قائم کئے جائیں جو بیروزگار نوجوانوں کو کوئی ہنر سیکھنے پر آمادہ کریں، دہشت گردوں کو خام مال بیروزگار نوجوانوں کی طرف سے ہی میسر آتا ہے ، فوج کے بحالی مراکز اس سلسلے میں بڑی مثبت پیشرفت ہے ، حکومت کی سطح پر بھی ایسے مراکز قائم ہونے چاہئیں۔

مزید : اداریہ