تفتیش میں تعاون، ایرانی عسکری قیادت اشتہاریوں کی فہرت سے خارج

تفتیش میں تعاون، ایرانی عسکری قیادت اشتہاریوں کی فہرت سے خارج

تہران ( آن لائن )ایران کی مجلس شوریٰ کی قومی سلامتی وخارجہ امور کی نگران کمیٹی کے رکن اور سرکردہ حکومتی عہدیدار محمد صالح جوکار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تفتیش میں معاونت کرنے پر ایرانی عسکری قیادت کو اشتہاریوں کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اب 23 کے بجائے صرف 15 ایرانی فوجیوں سے تفتیش کرے گا۔خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کی عسکری قیادت کو اشتہاریوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ ایران کی جوہری توانائی کمیٹی کی کوششوں کا نتیجہ ہے تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجلس شوریٰ امریکا کو ان پندرہ حکومتی اور فوجی عہدیداروں سے بھی پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دے گی۔ایرانی پارلیمنٹ کے ایک سخت گیر رکن کا کہنا ہے کہ مجلس شوریٰ میں ایک نیا مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے۔ "جوہری حقوق کے حصول میں کامیابیوں کا تحفظ" کے عنوان سے جمع کردہ مسودہ قانون پر آئندہ ہفتے رائے شماری کا امکان ہے۔ اس مسودہ قانون کے تحت کسی بھی دوسرے ملک کو تہران کے فوجی اور حساس مقامات تک رسائی کی ممانعت اور سائنس دانوں سے ملاقات پر پابندی کی منظوری دی جائے گی۔قبل ازیں رکن شوریٰ مہر داد بذرباش نے بتایا تھا کہ امریکا 23 اہم ایرانی عسکری رہ نماؤں سے تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پوچھ گچھ کا ارادہ رکھتا ہے۔ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل علی شمخانی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اہم عسکری رہ نماؤں کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے جس میں تئیس اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ امریکی معائنہ کاران تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔خیال ہے کہ ایران کے عسکری عہدیداروں سے جوہری تنازع کے بارے میں پوچھ گچھ کا معاملہ ایرانی سیاسی اورحکومتی حلقوں میں ایک نئے تنازع کا باعث بنا ہے۔ تیس جون کو ایران اور گروپ چھ کے درمیان متوقع معاہدے کو حتمی شکل میں ایک رکاوٹ ایرانی عہدیداروں سے پوچھ گچھ بھی ہے۔ ایران نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی قیمت پر حساس مقامات عالمی معائنہ کاروں کے لیے نہیں کھول سکتے اور نہ ہی اہم فوجی رہ نماؤں سے تفتیش کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

قبل ازیں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین علاء4 الدین بروجردی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "فریق ثانی کی بلند بانگ توقعات کی وجہ سے شائد کوئی بڑا اور اہم نوعیت کا معاہدہ طے نہ پاسکے۔

مزید : عالمی منظر