یونیورسٹی ٹاؤن میں اورنج ٹرین ڈپو کے خلافاساتذہ کا احتجاج کا اعلان

یونیورسٹی ٹاؤن میں اورنج ٹرین ڈپو کے خلافاساتذہ کا احتجاج کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب حکومت یونیورسٹی ٹاؤنIمیں ارونج ٹرین ڈپو نہ بنانے کے وعدے سے مکر گئی ہے جس پر پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ ایک مرتبہ پھر بھڑک اٹھے اور انہوں نے دوبارہ احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ میٹرو اورنج ٹرین منصوبے کے لئے پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین پر ہی پارکنگ قائم کرنا چاہتی ہے ۔ اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن (آسا) نے منصوبے کے خلاف احتجاجی تحریک کی حکمتِ عملی ترتیب دینے لئے جنرل باڈی کا اہم اجلاس کل صبح 10بجے طلب کر لیا ہے۔ آسا کے صدر ڈاکٹرحسن مبین عالم اور سیکریٹری ڈاکٹر محبوب حسین کے مطابق احتجاجی تحریک کو موثر بنانے کے لئے کلاسز کے بائیکاٹ ، امتحانی بائیکاٹ ، عدالتی کارروائی اور چائنیز حکومت سے براہ راست بات چیت سمیت تمام آپشن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

۔

یاد رہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ ماہ 29مئی سے سراپا احتجاج ہیں اور اس سلسلے میں اپنے چار جنرل باڈیاجلاس بھی کر چکے ہیں اور ہر جنرل باڈی کے بعد ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں اور کیمپس پل اور مال روڈ اولڈ کیمپس پر بڑے احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے تھے

جس پر حکومت نے اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن سے مذاکرات کئے تھے ۔حکومتی کمیٹی کے میمبران خواجہ احمد حسان ، ڈائریکٹر ایل ڈی اے احد چیمہ، ایم ڈی نیسپاک، کمشنر لاہور عبد اللہ سنبل، متعلقہ ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر نے اساتذہ کو یقین دلایاتھا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کی زمین جس پر ۳۱ سال قسطیں ادا کرنے اور LDA کا حتمی NOC حاصل کرنیکے بعداساتذہ نے درجنوں گھرتعمیر کر لیے ہیں، اسے میٹرو ٹرین کے ڈپو کے لئے استعمال نہیں کریں گے اور ارد گرد موجود خالی زمین استعمال کی جائے گی۔ جس کی وجہ سے اساتذہ نے اپنا احتجاج موخر کیا تھا۔ تاہم دوبارہ حکومت پنجاب یونیورسٹی کی زمین حاصل کرنے کے لئے سروے کر رہی ہے اور اپنے وعدے سے منحرف نظر آتی ہے۔ جس پر اساتذہ اور ملازمین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حنوظ ازسر نو اپنی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4