توانائی بحران دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے،ڈاکٹر وسیم اختر

توانائی بحران دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے،ڈاکٹر وسیم اختر

لاہور(پ ر)پارلیمانی لیڈرصوبائی اسمبلی و امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے کہاہے کہ رمضان المبارک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اشیاء خوردونوش اور پھلوں کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ ہوچکا ہے رہی سہی کسر لوڈشیڈنگ نے پوری کردی ہے۔نمازتراویح اور صحر وافطاری میں بجلی غائب ہونے سے شہرشہراحتجاج ہورہے ہیں۔رمضان کے بابرکت مہینے میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے تمام حکومتی دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں ۔ 18کروڑ عوام کی زندگی عملاً اجیرن ہوچکی ہے۔

ایک طرف سورج آگ اگل رہاہے

تودوسری جانب واپڈا حکام اورحکمرانوں کے ناقص اقدامات نے روزہ داروں کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں دن بدن توانائی بحران سنگین ہوتاجارہا ہے۔ہرسال حکومت توانائی کے کاغذی منصوبوں کاافتتاح کرتی ہے مگر ان سے عوام کودرپیش لوڈشیڈنگ میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کالااغ ڈیم سمیت چھوٹے بڑے پانی کے ذخائر کوفوری تعمیر کیا جائے ۔ بصورت دیگر اس حکومت کے دور اقتدار میں بھی توانائی بحران ختم ہوتانظر نہیں آتا۔انہوں نے کہاکہ عوام حق بجانب ہیں کہ جولوگ لوڈشیڈنگ کوچھ ماہ، ایک سال اور دوسال میں ختم کرنے کے دعوے کرتے رہے اب پانچ سالوں کاراگ الآپ رہے ہیں۔جن لوگوں نے مسلم لیگ(ن)کوووٹ دیئے تھے اب وہی ان کا احتساب کریں گے۔ جماعت اسلامی پنجاب کے رہنماؤں نے مزیدکہاکہ وزیراعظم کی جانب سے محض نوٹس لینا کافی نہیں بلکہ متعلقہ حکام نماز تراویح،صحروافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے احکامات پر سختی سے عملدرآمدکروائیں۔اس وقت بجلی کی طلب 18 ہزار میگاواٹ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پیداوار صرف 14ہزار میگاواٹ ہے۔4ہزارمیگاواٹ تک کے شارٹ فال میں حکومت کی جانب سے 6سے 8گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کاشیڈول دیاگیا تھامگر شہروں اوردیہات میں 18سے20گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4