پاکستان نے دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس کاروائیاں کی ہیں ،امریکی محکمہ خارجہ

پاکستان نے دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس کاروائیاں کی ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) القاعدہ اور اس کی شاخوں کے بکھرنے کے باوجود شام، عراق، یمن، لیبیا اور نائیجیریا جیسے ممالک کی ناکام یا کمزور حکومتوں نے ایسا سازگار ماحول بنانے میں مدد دی ہے جس میں انتہا پسند پرتشدد دہشت گردی کو ایک بار پھر سر اٹھانے کا موقع ملا ہے، یہ جائزہ امریکی وزارت خارجہ کی اس خصوصی رپورٹ میں شامل ہے جو 2014ء میں دنیا بھر کے ممالک میں دہشت گردی کی صورتحال کے بارے میں گزشتہ روز واشنگٹن سے جاری ہوئی، رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گردی کے حوالے سے گزشتہ برس جو بڑے رجحانات دیکھنے میں آئے ان میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر داعش کا قبضہ، غیر ملکی دہشت گردوں کا دنیا بھر سے آکر داعش کی جنگ میں شامل ہونا اور مغرب میں اکیلے دہشت گردوں کا دہشت گرد کارروائیوں میں حصہ لینا شامل ہے۔ داعش سمیت دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں میں شدت آئی، انہوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شہری آبادیوں کے خلاف ظالمانہ حربے آزمانے اور انہوں نے مخالفت کرنے والوں کو ڈرانے کیلئے قیدیوں کے سر قلم کئے، شمالی نائیجیریا، شمالی کیمرون اور جنوب مشرقی نائیجریا میں یوکوحرام نے داعش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معصوم افراد پر ظلم ڈھائے جن میں عورتوں پر سنگ زنی اور بچوں کو اغواء کرنے اور کھلے عام قاتلانہ حملوں کی وارداتیں کیں، داعش نے مذہبی اقلیتوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا جن میں عیسائی اور یزیدی شامل تھے، شیعہ مسلمان اور سنی قبائلی افراد بھی ان کے ظلم سے نہیں بچ سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث غیر ملکی دہشت گردوں کی وہاں آمد کا سلسلہ بڑھتا رہا ہے، گزشتہ برس نوے ممالک سے سولہ ہزار جنگجو داعش کی مدد کیلئے وہاں پہنچے، یہ تعداد گزشتہ 20 سالوں میں پاکستان، افغانستان، عراق، یمن یا صومالیہ میں مجموعی طور پر پہنچنے والے غیر ملکی جنگجوؤں سے کہیں زیادہ ہے، داعش نے فیس بک، ٹوئٹر اور یو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر اپنی رپورٹیں پیش کرنے میں کافی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

داعش نے عراق اور شام سے باہر مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والی انتہا پسند تنظیموں کی حمایت حاصل کی۔ اکتوبر 2014ء میں ’’انصار اشریعہ‘‘ اور نومبر 2014ء میں ’’انصار بیت المقدس‘‘ نے داعش کی اطاعت قبول کی۔

القاعدہ کی خالق تنظیم کی طرف سے دنیا میں جو خطرہ پایا جاتا تھا وہ گزشتہ برس خاصی حد تک کم ہوگیا جس کا بڑا سبب پاکستان اور افغانستان میں اس کے اہم کمانڈروں کی ہلاکت ہے۔ اگرچہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کمزور ہوچکی ہے لیکن اس سے متاثر ہونے والے ذیلی گروپ ’’اقاپ‘‘، ’’القاعدہ ان اسلامک مغرب‘‘، ’’النصرہ‘‘ اور ’’الشباب‘‘ مسلسل سرگرم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں سرگرم دوسری انتہا پسند تنظیموں کا بھی القاعدہ سے تعلق موجود ہے جن میں ’’اسلامک جہاد یونین‘‘ ، ’’لشکر جھنگوی‘‘ ، ’’حرکت المجاہدین‘‘ ، جمعیت اسلامیہ‘‘، ’’تحریک طالبان‘‘ ’’افغان طالبان‘‘ اور ’’حقانی نیٹ ورک‘‘ شامل ہیں۔

داعش اور القاعدہ کے حامی اکیلے دہشت گردوں نے اپنے طور پر امریکہ اور یورپ میں شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کی قدس فورس بھی دہشت گردی پھیلانے میں ملوث ہے جس کے لبنانی حزب اللہ، عراق کے شیعہ انتہا پسند گروپ، حماس اور ’’فلسطینی اسلامک جہاد‘‘ سے رابطے ہیں۔

پاکستان کے باب میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی مہم میں ایک انتہائی اہم پارٹنر ہے جو اس وقت بہت سی دہشت گرد تنظیموں سے نبرد آزما ہے جو اس کی حکومت اور دوسرے فرقوں کے افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں پاکستان کا تعاون ملا جلا رہا کیونکہ اس نے 2014ء میں پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تربیت فراہم کرنے کیلئے آنے والے ماہرین کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم پاکستان نے شمالی وزیرستان اور اس کے بعد خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس کارروائیاں کیں۔ پاکستانی حکومت نے فوجی آپریشن کی حمایت کرکے اور شہروں میں دہشت گردوں کو جوابی کارروائیوں سے روکنے کے حوال سے انسداد دہشت گردی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 16 دسمبر کو تحریک طالبان پاکستان نے پشاور کے فوجی سکول پر انتہائی مہلک حملہ کیا اور ان کے مطابق انہوں نے شمالی وزیرستان میں ان کے خلاف کارروائیوں کا جواب دیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ لشکر طیبہ اور اس سے ملحق تنظیمیں پاکستان میں کھلے عام کام کر رہی ہیں اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی کر رہی ہے۔ 2013ء میں شیعہ جیسے اقلیتی فرقوں پر بڑے حملے ہوئے لیکن 2014ء کا سال نسبتاً پرسکون رہا۔ تاہم کراچی بدستور سیاسی اور لسانی تشدد کا شکار ہے جہاں انتہا پسند تنظیمیں، قدامت پسند مذہبی تنظیمیں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ سرگرم ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی قومی اتھارٹی ’’نیکٹا‘‘ جسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کیلئے مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے تھی وہ بجٹ کے اور بیوروکریسی کے اختیارات کے مسائل کی وجہ سے عملی طور پر غیر موثر رہی۔

رپورٹ میں 2014ء کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں اور دہشت گردی کے خلاف منظور ہونے والے قوانین کا ذکر ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے گواہوں ، پولیس، وکلاء اور ججوں کو دھمکیوں کے باعث ان کے خلاف قانونی کارروائیوں کا سلسلہ سست رہا اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے بری ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کے ڈائریکٹوریٹ کو وسیع انٹیلی جنس اختیارات حاصل نہیں اور سرحدوں پر سکیورٹی عملاً اس کے کنٹرول میں ہے جس میں قبائلی ملیشیا، فرنٹیئر کور اور صوبائی پولیس اس کا ساتھ دے رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو غیر ملکی شہادتوں کو منظور کرنے کا محدود اختیار ہے۔ 2014ء کے اختتام تک ممبئی سانحے کے سات ملزموں کے خلاف مقدمہ جاری رہا جس میں استغاثہ کے گواہوں نے اپنے بیان ریکارڈ کرائے، 18 دسمبر کو عدالت نے لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے ممبئی سانحے کے سب سے بڑے ملزم اور مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمن لکھوی کو ضمانت پر رہا کیا۔ 19 دسمبر کو حکومت نے اسے کم از کم چار ماہ کیلئے حراست میں لیا۔ پاکستان دہشت گردوں کو فنانس کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے والے گروپ کا اہم حصہ۔ اس نے جون 2014ء میں قانون سازی کرکے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی میں سقم دور کئے۔

مزید : صفحہ اول