کراچی کے بڑے رہائشی اور تجارتی منصوبے کی الاٹمنٹ منسوخ

کراچی کے بڑے رہائشی اور تجارتی منصوبے کی الاٹمنٹ منسوخ

کراچی (خصوصی رپورٹ) لائنز ایریا ری ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیس میں نیب کے زیر حراست ملزمان نے اہم انکشافات کئے ہیں، نیب کی تفتیش کے بعد ایک بڑے تجارتی اور رہائشی منصوبے کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ جعلی طریقوں سے کی گئی دو شادی ہالوں کی الاٹمنٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے، الاٹمنٹ کی منسوخی سے زمین سرکاری ملکیت میں واپس آگئی ہے، سرکاری افسروں نے غیر قانونی طریقوں سے چھوٹے چھوٹے پلاٹ مختلف ناموں پر الاٹ کئے تھے، جعلی ناموں پر الاٹ پلاٹس کو یکجا کرکے رہائشی منصوبے کی منظوری دی گئی، نیب ذرائع کے مطابق منسوخ کی گئی زمین کی مالیت اربوں روپے کی ہے۔ تفصیل کے مطابق کراچی کی 18 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری اور نجی زمین پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہے ، کسی نے پارک پر قبضہ کرلیا تو کسی نے کھیل کے میدان پر تعمیراتی منصوبہ شروع کردیا ، کسی نے ریلوے کی زمین ہتھیالی تو کسی نے نالوں پر عمارتیں تعمیر کر دیں۔ کراچی میں زمین کا پیسہ بہت سے لوگوں کو راس آیا ، دیکھتے ہی دیکھتے لکھ پتی سے کروڑ پتی ہوگئے اور جو تھے کروڑ پتی وہ ارب پتی کہلانے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق شہر قائد کی 18 ہزار ایکڑ سرکاری اور نجی زمین پر قبضہ ہوچکا ہے ، سرجانی ہو یا ملیر ، کورنگی ہو یا اورنگی ، ناظم آباد ہو یا نارتھ ناظم آباد ہر جگہ ناجائز قبضہ ہی قبضہ ہے۔ شہر کے تمام پارکس ، کھیل کے میدان ، نالے ، رفاہی پلاٹس قبضہ مافیا کے سپرد ہوئے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی قبضہ مافیا کے اہم کرداروں پر ہاتھ ڈالنا شروع کردیا۔

مزید : صفحہ اول