وزیر اعظم کی سیکرٹری پانی و بجلی کو سرزنش ،لوڈشیڈنگ پر رپورٹ مسترد

وزیر اعظم کی سیکرٹری پانی و بجلی کو سرزنش ،لوڈشیڈنگ پر رپورٹ مسترد

 لاہور(کامرس رپورٹر) وزیر اعظم نواز شریف کے سخت نوٹس اوروزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیرعلی کے معافی مانگنے سمیت شہری علاقوں میں گھریلو صارفین کیلئے 6گھنٹے بجلی کی بندش کے اعلان کے برعکس ہفتہ کو دوسرے روزے کے دن بھی بد ترین لوڈ شیڈنگ نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ نماز عشاء ، نماز تراویح ،سحری و افطاری کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش رہی جس پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے اورلیسکو ، وزارت پانی و بجلی اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو جھولیاں پھیلا کربد دعائیں دیتے رہے۔ صارفین نے ارباب اختیار سے صورتحال کافوری نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔ تفصیل کے مطابق متعدد مقامات پر بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا، لاہور میں کینال روڈ، رحمان پورہ، تاج باغ، کاہنہ ، سمن آباد، رانی پنڈ اور ہربنس پورہ سمیت شہریوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر حکومت مخالف نعرے لگائے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے رمضان المبارک کے دوران بد ترین لوڈشیڈنگ کے فوری خاتمہ کے احکامات جاری کئے ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے پانی وبجلی عابد شیر علی نے بھی طویل لوڈشیڈنگ پر عوام سے معافی مانگتے ہوئے اعلان کیاکہ گھریلو صارفین کیلئے چھ، دیہی علاقوں کیلئے آٹھ گھنٹے ، بڑی صنعتوں کیلئے آٹھ گھنٹے جبکہ دیگر صنعتوں کیلئے چھ گھنٹے کے لوڈ مینجمنٹ شیڈول پر عمل کیا جائیگامگر اس کے برعکس لیسکو کی تقریباً تمام سب ڈویژنوں میں نماز عشاء ، نماز تراویح ، سحر وافطار کے اوقات میں بد ترین لوڈشیڈنگ کاسلسلہ کل بھی جاری رہا۔ بیشتر سب ڈویژنوں میں ہر پانچ ، دس منٹ بعد بجلی کی ٹرپنگ کی آڑ میں بجلی بند کردی جاتی رہی جبکہ رات کے اوقات میں بجلی کی بندش کا جو دورانیہ ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے تک تھا اسے دو دو گھنٹے تک بڑھا دیاگیاہے۔ہفتہ کی صبح سحری اور افطار کے اوقات میں بھی لوڈ شیڈنگ جاری رہی۔صارفین نے وزیر اعظم نواز شریف سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ، اے این این) وزیراعظم نواز شریف نے ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش پر وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس داغا کو سرزنش کی ہے اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ان کی ابتدائی رپورٹ پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ طویل لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شہریوں کی شکایات کا جلد از جلد ازالہ کریں، جمعہ کے روز ملک بھر سے سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف کئی شہروں میں مظاہروں کا وزیراعظم نواز شریف نے نوٹس لیا تھا اور وزارت پانی و بجلی سے رپورٹ طلب کی تھی، ہفتے کے روز سیکرٹری پانی و بجلی یونس داغا نے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی اور کہا کہ ان کی وزارت پہلے روزے پر ملک کے 70 تا 80 فیصد علاقوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کے قابل تھی مگر لاہور اور پشاور میں مشکلات پیش آئیں، یونس داغا نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا کہ بجلی کی کمی کے حوالے سے ہنگامے اس لیے ہوئے کہ دو تین دن سے گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے اور بجلی کی مانگ 21 ہزار میگاواٹ سے بڑھ گئی ہے، ماہ رمضان میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول