147 سڑکوں پر کمرشلائزیشن ٹیکس لگے گا

147 سڑکوں پر کمرشلائزیشن ٹیکس لگے گا

 لاہور(اقبال بھٹی) ایل ڈی اے کیلئے نیا چیلنج9ارب روپے کی وصولی کیلئے 147سڑکوں پر کمرشلائزیشن ٹیکس لگے گا۔ایل ڈی اے بجٹ2015-16میں محصولات کا بجٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیامجموعی طور پر ریکوری کا ہدف9ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز۔ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق مالی سال 2015-16کے مجوزہ بجٹ ریکارڈ حد تک زائد مقرر کیا گیا ہے آئندہ بجٹ میں سب سے زیادہ ہدف شعبہ ٹاؤن پلاننگ کو دیا جائے گا۔گذشتہ مالی سال میں ٹاؤن پلاننگ کا ہدف ڈھائی ارب روپے مقرر کیا گیا تھاتاہم آئندہ مالی سال کیلئے ٹاؤن پلاننگ کا ہدف 5ارب روپے تجویز کیا گیا ہے نئے بجٹ میں مختلف شعبوں میں کلاسیفیکیشن کر کے ڈیڑھ ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف بھی تجویز کیا جا رہا ہے جبکہ کمرشلائزیشن کیلئے مشروط منظوری والی پراپرٹیز سے وصولی کا ہدف ایک ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے۔عارضی طور پر کمرشلائزیشن کی مد میں پچاس کروڑ روپے وصولی کا ہدف تجویز کیا گیا ہے جبکہ مستقل کمرشلائزیشن کی آؤٹ سٹینڈنگ رقم پر اقساط کی وصولی کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ ٹی ایم ایز کی 147حلقوں سے کمرشل فیس وصولی کی مد میں پچاس کروڑ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چیف میٹروپولیٹن کے ونگ کو ریکوری کیلئے دو ارب روپے کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔ایل ڈی اے کو اپنی پراپرٹیز کی نیلامی کے عوض دو ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے مجموعی طور پر ریکوری کے ہدف پر ایل ڈی اے بجٹ کا انحصارہو گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ اہداف کے حصول کیلئے مختلف تجاویز دی جائیں گی۔گارڈن ٹاؤن،ٖفیصل ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن کی ری کلاسیفیکیشن سے بجٹ کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔پہلے فیز میں ٹی ایم ایز کی 147سڑ کوں سے کمرشل فیس وصول کرنے کیلئے لوئر مال ساندہ،شام نگر روڈ،ڈیوس روڈ،لارنس روڈ سمیت دیگر شاہراہوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1