مصری حکومت نے رفح گزرگاہ ایک ہفتہ کھلی رکھنے کے بعد دوبارہ بند کر دی

مصری حکومت نے رفح گزرگاہ ایک ہفتہ کھلی رکھنے کے بعد دوبارہ بند کر دی

رفح (این این آئی) فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں عالمی رابطے کے واحد راستے رفح گزرگاہ کو مصری حکومت نے ایک ہفتہ تک کھلا رکھنے کے بعد دوبارہ بند کردیاغزہ کی پٹی میں گزرگاہ امور کے انچار ج ماہرابو صبحہ نے بتایا کہ مصری حکام نے رفح گزرگاہ کو دو طرفہ ٹریفک کیلئے غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا ہے۔ غزہ وزارت داخلہ کے مطابق بیرون ملک سفر کرنے کیلئے رجسٹرڈ کرانیوالے 12 ہزار افراد نے ایک ہفتے میں بیرون ملک سفر کیا ہے۔فلسطینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ رفح گزرگاہ کی بندش فلسطینی عوام برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ مصری حکومت گزرگاہ کو مستقل بنیادوں پر کھولنے کا اعلان کرے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی انیس لاکھ آبادی کا بین الاقوامی برادری کیساتھ رابطے کا واحد ذریعہ رفح گذرگاہ ہے۔ اگر یہ بند ہوئی تو غزہ کے عوام ایک کھلی جیل میں پھنس جائینگے۔ ابوصبحہ نے کہا کہ جمعہ کے روز 450 مسافر بیرون ملک روانہ ہوئے جبکہ 88 نے رفح گزرگاہ عبور کرکے غزہ میں پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی سے 3819 مسافر بیرون ملک گئے جبکہ 1012 افراد باہر سے آئے،155 فلسطینیوں کو بعض وجوہات کی بناء پر بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا۔

مزید : عالمی منظر