مقبوضہ کشمیر میں رمضان المبارک کے پہلے روزغیر اعلانیہ کرفیواور دیگر پابندیوں کی وجہ سے شہری آبادی گھروں میں محصوررہی

مقبوضہ کشمیر میں رمضان المبارک کے پہلے روزغیر اعلانیہ کرفیواور دیگر ...

سرینگر(کے پی آئی )مقبوضہ کشمیر میں رمضان المبارک کے پہلے روزغیر اعلانیہ کرفیواور دیگر پابندیوں کی وجہ سے شہری آبادی گھروں میں محصوررہی جبکہ سوپور میں بھی کرفیوجیسی پابندیاں عائد رہیں اور تاریخی جامع مسجد سری نگراورجامع مسجد سوپور میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دوران حریت قائدین کے سوپور چلو پروگرام پر ممکنہ احتجاجی کے پیش نظرسیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق ،شبیراحمدشاہ ،محمدیاسین ملک ،مولانا عباس انصاری،نعیم احمدخان،محمداشرف صحرائی ،آغاسیدحسن، انجینئر ہلال وار ،ایاز اکبر، مسرور عباس ،یاسمین راجہ اورپیرسیف اللہ سمیت بیشتر لیڈران کوپولیس تھانوں یاگھروں میں بندرکھاگیا جبکہ ظفراکبربٹ، سید مظفر رضوی،مختار احمد صوفی، انجینئر فاروق احمد، ظہور احمد شیخ اورمحمد یوسف میر سمیت کئی کارکنان کوسوپورجانے کی کوشش کرتے ہوئے مختلف مقامات پر گرفتار کیا گیا۔

ہائی گام سوپور اور بانڈی پورہ میں پتھراو کے واقعات پیش آئے۔سوپور میں عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف حریت قائدین کی آپسی مشاورت کے بعدایک مشترکہ پروگرام کے تحت جمعہ کو ’’سوپور چلو‘‘ کی کال دی تھی جسے ناکام بنانے کیلئے پولیس نے آزادی پسندتنظیموں کے کم و بیش تمام لیڈروں کو گرفتار اور خانہ نظر بند کیا۔سوپور چلو پروگرام کے پیش نظر امن وقانون کی صورتحال کوبرقرار رکھنے کیلئے پائین شہر کی سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی اور غیراعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر لوگوں کو گھروں میں محصور کیا گیا۔ نوہٹہ ، مہاراج گنج، رعناواری ، صفا کدل ،رعناواری ، خانیارمائسمہ اور پارم پورہ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جگہ جگہ خاردار تار بچھائی گئی تھیں ،یہاں تک کہ پولیس نے گاو کدل ،بربرشاہ پل ،کوہنہ کھن پل اور پائین شہرکے دیگر سڑکوں کو مکمل سیل کردیا تھا۔اس صورتحال کی وجہ سے پورے پائین شہر میں سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا اور سخت ترین ناکہ بندی کی وجہ سے تاریخی جامع مسجد اور دیگر چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔صفاکدل ،سکہ ڈافر، نواب بازار، حبہ کدل، زالڈگر، گاو کدل، نوہٹہ ، جمالٹہ، مائسمہ ، خانیار، رعناواری، راجوری کدل ، علمگیری بازار، لالبازار، حول، درگاہ، صورہ، زونی مر،بہوری کدل ، مہا راج گنج اور شہید گنج سمیت کم وبیش تمام علاقوں میں سڑکوں پرناکہ بندی کے نفاذ کیلئے بھاری تعداد میں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ لوگوں کے مطابق انتظامیہ نے اگر چہ کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا تاہم پولیس اور فورسز اہلکاروں نے عملاً کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا تھا جس کے دوران شہریوں کو اپنے ہی گھروں کے اندر قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائین شہر کے چپے چپے پر پولیس اورسی آر پی ایف اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور جو لوگ مجبوراً اپنے گھروں سے نکلے تھے انہیں بھی نصب کی گئی خار دار تاروں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔پائین شہر کو سیول لائنز علاقوں کے ساتھ جوڑنے والے تمام راستوں کو سیل کیا گیا تھا اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جگہ جگہ سیکورٹی فورسز نے ناکے لگائے تھے۔ سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم سول لائنز کے لالچوک ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،ریگل چوک،بٹہ مالو اور دوسرے بازاروں میں سناٹا چھایا ہوا تھاتاہم اس دوران صرف نجی گاڑیاں اور آٹو رکھشا چلتے نظر آئے۔شہر کے بیشتر علاقوں میں ناکہ بندیوں کے نتیجے میں سرینگر میں معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئیں جس دوران شہر کے تمام علاقوں میں چھوٹے بڑے بازار اور کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی مراکز بھی بند رہے۔سوپور میں ممکنہ احتجاج کو روکنے کیلئے قصبہ سوپور میں بلا اعلان کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور لوگوں کو قصبہ میںآنے سے روکنے کیلئے بانڈی پورہ ،کپوارہ ،سرینگر اور دیگر روٹوں کو صبح سے ہی بند کردیا گیا اور ان روٹوں پر رکاوٹیں کھڑا کی گئیں۔جس کی وجہ سے پورے قصبہ میں ہو کا عالم رہا۔قصبہ میں فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم اس دوران حالات پرامن رہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی جبکہ سرکاری ونیم سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری بہت کم رہی۔ سمبل ،بانڈی پورہ ، حاجن، نائدکھے اورصفاپور ہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ بانڈی پورہ مارکیٹ میں پتھراؤ بھی ہوا۔ کپوارہ ،ہندوارہ سے کسی بھی گاڑی یا پیدل چلنے والو ں کو کو لنگام ،رفیع آباد اور لنگیٹ میں روک دیا گیا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔کولنگام ،لنگیٹ اور کرالہ گنڈ جہا ں سے ضلع کپوارہ کی گا ڑیا ں سوپور میں داخل ہوجاتی ہیں پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا۔اس دوران نماز جمعہ کے بعد کپوارہ قصبہ میں لو گوں نے جلوس نکالا اور سوپور ہلاکتو ں کے خلاف نعرۂ بازی کی۔ ریگی پورہ اور قصبہ کے دیگر شاہراو ں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان پتھراو ہو ا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس کے گولے داغے تاہم کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ،ہندوارہ ،لنگیٹ اور کرالہ گنڈ میں بھی لو گو ں نے نماز جمعہ کے بعد پر امن جلوس نکالے ،پولیس نے حریت (گ) چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کو اس وقت چند ساتھیوں سمیت گرفتار کیا جب انہوں نے اپنی رہائش گاہ سے باہر آکر سوپور جانے کی کوشش کی تاہم ان کی رہائش گاہ کے باہر پہرے پر بیٹھے پولیس نے انہیں چند ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے ہمہامہ پولیس اسٹیشن پہنچایا۔ ان کے ساتھ سید امتیاز حیدر، سید ظہور الحق گیلانی، رمیض راجہ، عمر عادل ڈار کو بھی گرفتار کیا گیا۔ اس دوران رکاوٹوں اور قدغنوں کے باوجود تحریک حریت کے لیڈران امیرِ حمزہ شاہ، راجہ معراج الدین، محمد یوسف فلاحی، بشیر احمد قریشی، عبدالغنی بٹ، غلام محی الدین اندرابی اور سلمان یوسف سوپور پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے مختلف مساجد میں خطابات کئے اور نماز جمعہ کے بعد جلسوں کی قیادت بھی کی۔ادھر صنعت نگر میں پولیس نے فریڈم پارٹی کے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا جب انہوں نے پارٹی دفتر سے جلوس نکالنے کی کوشش کی۔ حریت (ع) چیئر مین میرواعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں سید علی گیلانی اور محمد یاسین ملک کو پابندسلاسل بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ لیڈران کی گرفتاری کیساتھ شہر خاص میں کرفیو اور دیگر علاقوں میں پابندیوں ، قصبہ سوپور ، پٹن، پلہالن اور ملحقہ علاقوں میں شدید کرفیو اور قدغن اور جگہ جگہ فورسز کی تعیناتی سے مشترکہ پروگرام کو نا کام بنانے کی مذموم کوشش کی گئی۔حتی کہ مرکزی جامع مسجد سرینگر کی شدید ناکہ بندی اور دیگر مرکزی مقامات پر جمعہ کے بڑے بڑے اجتماعات کو ناکام بنا یا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران دیگر سینئر حریت رہنماوں مولانا محمد عباس انصاری، مولوی مسرور عباس انصاری کو اپنے گھروں میں جبکہ مختار احمد وازہ ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، انجینئر ہلال احمد وار اور محمد صدیق ہزار کو تھانوں میں بند کر دیا گیا ، محمد مصدق عادل کو سوپور جاتے ہوئے راستے میں ہی روک دیا گیا اس کے علاوہ پولیس نے کئی دوسرے قائدین و اراکین کو گرفتار کرنے کیلئے انکے گھروں پر شبانہ چھاپے مارے اور انکے گھر والوں کو ماہ مقدس میں تنگ طلب کیا۔دریں اثنا بیان میں کہا گیا ہے کہ حریت کانفرنس (گ) سے وابستہ مسلم ڈیموکریٹک لیگ کے سربراہ حکیم عبد الرشیداور پیپلز لیگ کے لیڈر امتیاز ریشی اور انکے ہمراہ ظہورصدیقی نے شہری خاص میں نماز جمہ کے بعد ایک پر امن احتجاج کیا۔ایک بیان کے مطابق سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کو ساتھیوں سمیت سوپوررجاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔بیان میں کہا گہا ہے کہ پارٹی سے وابستہ کئی ذمہ داراں و کارکنان جن میں فاروق احمدڈار ،جاوید احمد ڈار،مشتاق احمد شیخ اور عبدالحمید وغیرہ شامل ہیں، سوپور پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔جہاں انہوں نے غم زدہ لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

مزید : عالمی منظر