بھارتی جمہوریت کا مقبوضہ کشمیر میں حقیقی روپ،حراستی قتل پر انصاف مانگنے والوں پر مقدمہ درج

بھارتی جمہوریت کا مقبوضہ کشمیر میں حقیقی روپ،حراستی قتل پر انصاف مانگنے ...

سرینگر ( کے پی آئی )شمالی کشمیر کیکشتواڑ قصبہ کی چکا چوند سے کافی دور دور افتادہ علاقہ مڑواہ میں 8برس قبل ایک شخص کی حراستی ہلاکت سمیت 3افراد کا پولیس کے ہاتھوں قتل ہنوز معمہ بنا ہوا ہے اور تاحال اس قتل ناحق کے سلسلے میں کوئی کیس درج نہیں کیاگیا ہے اور نہ ہی مقتولین کے لواحقین کو کوئی سرکاری امداد ملی بلکہ الٹا ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرنے والے 100سے زائد مقامی لوگوں کے خلاف درجنوں دفعات کے تحت کیس درج کئے گئے اور وہ آج تک ان کیسوں سے چھٹکارا نہیں پارہے ہیں۔

یہ27 دسمبر2006 کا واقعہ ہے جب مڑواہ پولیس نے ایک شخص کومبینہ طور اپنی حراست لینے کے بعد ہلاک کردیا اور اس قتل کے بارے میں حقائق جاننے کیلئے پولیس تھانہ پہنچے لوگوں میں سے مزید2 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک اور کئی لوگوں کو زخمی کردیا۔ دسمبر2006 کے پہلے ہفتے میں محمد رمضان شیخ ولدغلام محمد شیخ ساکنہ دھرنا تحصیل مڑواہ ضلع کشتواڑ اور محمد امین گنائی سمیت کئی افراد کو پولیس نے اپنے گھروں سے دھوکے سے تھانے بلایا اور بعد میں محمد رمضان کی پولیس تحویل میں مبینہ حراستی ہلاکت ہوگئی۔ بیس دن بعد محمد رمضان کی لاش دریافت کرنے کے بعد جب مقامی لوگ اس بارے میں پولیس سٹیشن مڑواہ پہنچے تو وہاں کے ایس ایچ او ،جو حراستی ہلاکت میں براہ راست ملوث بتائے جاتے ہیں ،کی ایماء پر تیار بیٹھی پولیس نے محمد رمضان کی پولیس حراست میں ہوئی موت کا پتہ لگانے والے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور مزید دو افراد ہلاک کر دیئے۔ محمد رمضان شیخ کی حراستی ہلاکت کے بعد پولیس فائرنگ میں محمد حسین ولد عبدالعزیز وانی ساکنہ دھرنا موقع پر ہی لقمہ اجل بن گیا جبکہ غلام عباس ولد غلام نبی ملک نے اکیس دن بعد جموں میں دم توڑدیا۔ غلام عباس کی ریڑ ھ کی ہڈی گولیوں سے بْری طرح متاثر ہوئی تھی۔اس فائرنگ میں غلام احمد ولد عبدالعزیز آخون ساکنہ چنجر، عبدالرشید ماگرے ولد محمد عبداللہ ماگرے ساکنہ نوا پاچی مڑواہ گولیوں سے زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد رمضان شیخ کو پولیس حراست میں لے جانے کے بعد اْسے مبینہ طور ہلاک کر کے اْس کی لاش جنگل میں پھینک دی گئی اور بعد میں اس ہلاکت کے بارے میں پولیس کے پاس جانیو الوں پر ایس ٹی ایف کی فائرنگ سے دو مزید افراد کا قتل کیا گیا۔ اس واقعہ کے آٹھ سال مکمل ہونے کے بعد بھی لواحقین انصاف اور معاوضے کے منتظر ہیں۔اس قتل عام میں سب سے حیرانی کی بات یہ کہ تین افراد کو ہلاک کرنے کے باوجود بھی نہ اس قتل عام میں کوئی کیس درج کیا گیا اور ناہی مرنے والوں کے لواحقین کو انصاف تو دور کی بات سرکاری معاوضے کی رقم بھی ادا کی جا سکی ہے۔ محمد رمضان شیخ کی ہلاکت کے سلسلے میں پولیس نے ایک کیس زیر ایف آئی آر 29/2006 زیر دفعہ 302/RPC۔7/27AAدرج کیا گیا اور واقع میں پولیس نے کوئی پیش رفت نہ بتاکر اس حراستی قتل کا کیس واقع کے تین سال بعد 29۔12۔2009 کو زیر اختتامی نمبر 8 کے تحت بند کردیا۔ حراست میں ہلاک کئے گئے محمد رمضان کے ساتھ محمد امین گنائی ساکنہ دھرینا مڑواہ کو بھی تھانے بلایا گیا تھا اور وہ پولیس کے ظلم وتشدد کے گواہ ہیں اور آج بھی اس واقع کو دہراتے ہوئے محمد امین کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دسمبر 2006 کے پہلے ہفتے میں پورا مڑواہ اور واڑون برفباری کی وجہ سے باقی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ اس واقعہ میں دو ہفتوں تک پولیس کا ٹارچر سہنے والے محمد امین گنائی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مڑواہ پولیس سٹیشن سے وابستہ پولیس اہلکار اْن کے گھر پہنچے اور انہیں کہا کہ پولیس تھانے میں اْن کا کوئی چالان پڑا ہے اس لئے انہیں پولیس سٹیشن مڑواہ آنا ہے۔ محمد امین نے بتایا کہ انہیں اور محمد رمضان کو تھانے پہنچایا گیا جہاں پہنچتے ہی اْس وقت کے ایس ایچ او محمد شریف خان نے اْنہیں ہتھیار دینے کی بات کہنا شروع کر دی اور اگلے دوتین گھنٹوں کے اندر اندرانہیں مار مار کر ادھ مراکر دیا۔امین گنائی نے کہا کہ پولیس سٹیشن مڑواہ کے ایک کمرے میں پیٹ پیٹ کر اْن کا بْرا حال کیا گیا اوربعد میں باہر نکال کر برف پر مار پیٹ کا سلسلہ پولیس نے جاری رکھا۔ محمد امین نے بتایا کہ اْن کے منہ میں کپڑا ٹھونسا گیا اور ان کے سروں کو پانی میں ڈبوئے رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو پولیس اہلکاروں نے پیٹھ کے بل انہیں زمین پر لٹا یا اور ان کے سینے پر اپنے جوتے رکھنے کے بعد اْن کے منہ میں پانی ڈالنا شروع کر دیا اور ایک ایک بالٹی پانی پلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا ایک ہی سوال تھا کہ ملی ٹنٹوں کے ہتھیار کہاں ہیں۔؟ محمد امین نے بتایا کہ پانی میں سر ڈوبانے پر جب میں نے سر ہلا کر چھوڑنے کی درخواست کی تو ایس ایچ او شریف خان نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ اسے بولنے دو شاید یہ ہتھیار دیے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب اْن کے منہ میں ٹھونسا گیا کپڑا باہر نکالا گیا تو میں نے کہا’’میں دم گھٹنے سے مر جاوں گا مجھے چھوڑ دو۔ ہمیں کسی بھی سامان کا کوئی علم نہیں ہے ، اس عذاب اور مارپیٹ سے بہتر ہے ہمیں گولی ماردو ‘‘۔ محمد امین نے بتایا کہ اتنا سنتے ہی ایس ایچ او مڑواہ شریف خان اپنے آپے سے باہر ہوگا اور تھانے بلائے گئے افراد کی مارپیٹ میں مزید اضافہ اور وحشی طریقے سے تشدد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی رات ساڑھے دس بجے ایس ایچ او مڑواہ محمد شریف خان نے ایک کمرے میں موجود پولیس اہلکاروں کو ہتھیار باند ھ کر تیار ہونے کا حکم دیا اوراگلے ہی لمحے پولیس اہلکار تھانے پر بلائے گئے اور تشدد سے نڈھال محمد رمضان کو تھانے سے باہر کسی نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ محمد رمضان کو لیجانے کے چند روز بعد محمد امین سمیت کئی افراد کو جے آئی سی جموں روانہ کیا گیا جہاں دو سے تین ہفتوں کے بعد انہیں بے قصور مان کر چھوڑ دیا گیا لیکن اْن کے جسم پر پڑے نیلے نشان اور بے پناہ مارپیٹ کی وجہ سے اْن سے چلا بھی نہیں جا تا تھا۔محمد رمضان شیخ کے بزرگ اور غم سے نڈھال ہوئے والد غلام محمد شیخ نے مقامی روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اْن کے بیٹے محمد رمضان کو تھانے سے نامعلوم مقام کی طرف لیجانے کے دوسرے دن پولیس اہلکاروں نے اْن کے گھر کا رخ کیا اور اْن کے گھر والوں کو بتایا کہ رمضان پولیس کی تحویل سے بھاگ گیا ہے اور لگتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی طرف ہی بھاگ آیا ہے، پولیس کی بات سن کر لوگوں کو صدمہ ہوا اور انہوں نے ایس ایچ او کو بتایا کہ اگر وہ بھاگا ہے تو آپ کی تحویل سے بھاگا ہے لہٰذا ہمیں فوری طور پر محمد رمضان چاہئے؟ لیکن پولیس نے کوئی کاروائی یا ایف آئی ار درج کرنے کے بجائے چپی سادھ لی۔ محمد رمضان کے گھرو الوں نے اپنے گاوں والوں کی مدد سے محمد رمضان کو زندہ یا مردہ ڈھونڈنے کی کاروائی شروع کی اور بیس روز کے بعد محمد رمضان کی تشد د ذدہ لاش دھرنہ ، مڑواہ کے جنگلوں سے برآمد کی گئی۔ لاش کو تھانے پہنچایا گیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی محمد رمضان کی موت کے حوالے سے پولیس کا موقف جاننے کیلئے تھانے کی طرف چل دی۔ انہوں نے کہا کہ تھانے کی طرف جانے کے دوران وہاں تیار پولیس اہلکاروں نے اپنی بندوقوں کے دھانے لوگوں پر کھول دیئے اور گولیوں کی بوچھاڑ سے ایک شخص محمد حسین وانی ولد عبد العزیز ساکنہ دھرنا کی موت موقع پر ہی واقع ہوگئی جبکہ زخمی محمد عباس ملک ولد غلام نبی ملک ساکنہ کدھرنا، مڑواہ 18جنوری 2007 کی رات گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا ، پولیس فائرنگ میں غلام عباس ملک کی ریڑھ کی ہڈی تباہ ہوئی تھی اور بیس روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاء رہنے کے بعد انہوں نے جموں میں دم توڑ دیا اور اس واقع میں مرنے والوں کی کْل تعداد تین تک پہنچ گئی۔ پولیس کی فائرنگ میں غلام احمد ولد عبدالعزیز آخون ساکنہ چنجر اور عبدالرشید ماگرے ولد محمد عبداللہ ماگرے ساکنہ نوا پاچی مڑواہ زخمی ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس واقع میں ملوث ایس ایچ او محمد شریف خان سمیت تمام اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ پولیس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ ساتھ ایک سو سے زائد مقامی لوگوں کے خلاف ایک کیس زیر نمبر31/2006زیر دفعہ 307, 452, 353, 332, 147 , 148, 149,336, 436, 382, 427 RPCمورخہ 27دسمبر2006کو درج کیا گیا۔ مقتولین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس کے غنڈہ راج کے خلاف یہاں سے اْٹھائے والی ہر آواز یہاں ہی دب کر رہ جاتی ہے کیونکہ ضلع ہیڈ کواٹر کشتواڑ مڑواہ سے کم از کم ایک دن کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد ہی پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین افراد کو سرعام ماردینے والے پولیس افسر اور اہلکاروں کو ترقیوں سے نوازا گیا لیکن مرنے والوں کے لواحقین ابھی بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ایک شخص کی حراستی ہلاکت اور دو افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں تاکہ اِن غریبوں کو بھی انصاف مل سکے۔

مزید : عالمی منظر