لوڈ شیڈنگ۔۔۔لوڈ شیڈنگ۔۔۔عوام پر رحم کریں

لوڈ شیڈنگ۔۔۔لوڈ شیڈنگ۔۔۔عوام پر رحم کریں
لوڈ شیڈنگ۔۔۔لوڈ شیڈنگ۔۔۔عوام پر رحم کریں

  

موسم بھی گرم ہے روزے بھی سخت ہیں۔ لوڈ شیڈنگ بھی عروج پر ہے۔ وزیراعظم نے نوٹس بھی لیا ہے۔ خواجہ آصف بھی آواز لگا رہے ہیں۔ لوگ بلبلا رہے ہیں،لیکن حل کوئی نہیں۔ برداشت نہیں ہو رہا، لیکن اس کے سوا کوئی حل نہیں ۔

ہر سال رمضان کے آغاز پر یہ اعلان کیا جا تا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ ہر سال ان اعلانات پر عمل نہیں ہو تا۔ پھر سال گزر جا تا ہے۔ معاملہ گول ہو جا تا ہے اور پھر نیا سال نیا رمضان ۔ اور وہی پرانے اعلانات ۔

پیپلزپارٹی اس وقت اپنی بحالی کی جدو جہد کر رہی ہے۔ اس نے اپنی پارٹی کے سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو مستعفی ہو نے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلاول کی ’’لانچنگ‘‘ کی تیاریاں ہیں۔ فوج کو للکارا جا رہا ہے، لیکن پیپلزپارٹی آج جس حال میں ہے۔ اس کی وجہ لوڈ شیڈنگ ہی ہے۔

جب پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی تب وہ بھی عوام کی اس چیخ و پکار کو سنجیدہ نہیں لیتی تھی۔ جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔ تب بھی اسی طرح لوڈ شیڈنگ پر عوامی احتجاج کو سیاسی قرار دیکر ان کو نظر انداز کیا جا تا تھا اور گزشتہ انتخاب میں حال آپکے سامنے ہے۔

افسوس کی بات یہی ہے کہ آج مسلم لیگ(ن) کی حکومت بھی عوامی چیخ و پکار کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت نے بہت سے توانائی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ امید دی جا رہی ہے کہ 2017ء تک توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جا ئے گا، لیکن 2017 ء کے انتظار میں عوام کا آج خراب نہ کیا جائے۔

سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ کی مختلف تو جیحات پیش کی جا رہی ہیں۔ کبھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹرانسفارمرز کیو جہ سے ہے ۔ کبھی کہا جا رہا ہے کہ یہ زیادہ لوڈکی وجہ سے ہے۔کبھی کچھ جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعلان کرنے سے پہلے اس سب کا پتہ نہیں تھا۔ یہ سب وہی بہانے ہیں جو ہر سال اعلان کے بعد کئے جاتے ہیں۔ ہر سال لوڈ کا مسئلہ ہو تا ہے۔ ہر سال ٹرانسفارمرز کا مسئلہ ہوتا ہے۔ آخر حکمران ایک جیسے کیوں ہو تے ہیں۔ ان کے بہانے ایک جیسے کیوں ہو تے ہیں۔ ان کی تو جیحات ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں۔ ان کی بے حسی ایک جیسی کیوں ہوتی ہے۔

یہ کیا توجیح ہوئی کہ اگر پورے مُلک میں 10فیصد ٹرانسفارمرز بھی خراب ہو جائیں تو میڈہاء میں شور مچ جا تا ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ مُلک میں چھ لاکھ سے زائد ٹرانسفارمرز نصب ہیں۔کیا کِیا جائے۔ کیوں نہیں حکومت یہ اعلان کر دیتی سارے دن میں10فیصد ٹرانسفارمرز خراب رہیں گے۔ تا کہ اس کے بعد اس کو خبر نہ بنا یا جائے۔

جب مُلک میں درجہ حرارت اس قدر گرم ہے۔ بالخصوص سندھ میں گرمی عروج پر ہے۔ویسے تو سندھ میں سیاسی گرمی عروج پر ہے، لیکن سیاست دان تو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر گرم ہیں اور عوام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گرم موسم میں بھی گرم نہ ہوں۔ رینجرز کے ایک چھاپے پر سابق صدر آصف علی زرداری نے جس قدر جوش اور غصہ دکھا یا ہے۔ کاش لوڈشیڈنگ پر بھی اتنا غصہ اور جوش دکھا یا جاتا۔ اِسی طرح تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی دھاندلی سمیت ہر مسئلہ پر میدان میں آنے کے لئے تیاررہتے ہیں، لیکن لوڈ شیڈنگ تو عمران خان کے لئے بھی ایسا کوئی مسئلہ نہیں، جس پر عوام کے جذبات کی ترجمانی کی جائے۔

ویسے تو اسلام آباد سے بارش کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ وسطیٰ پنجاب تک آجائے گا۔ لاہور ٹھنڈا ہو جائے گا،لیکن سندھ تو گرم رہے گا۔ اگر سندھ میں بالخصوص کراچی ایک سیاسی جماعت عوام کو لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ پر باہر لے آئے تو کیا لوگ اس لئے چپ کر جائیں گے احتساب ہو رہا ہے۔ اس لئے لوڈ شیڈنگ کو برداشت کر لیا جائے۔

میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو یہ بات سمجھنا ہو گی۔ کہ لوڈ شیڈنگ ان کی سیاسی ساکھ کوتباہ کر رہی ہے۔ ملک کا سیاسی منظر نامہ ایسا نہیں ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کو آسان سمجھیں۔ ایک چنگاری ساری بساط کو جلا دے گی۔ جمہوریت کے دشمن پورے زور میں ہیں۔غلطی کی گنجائش نہیں۔ اس لئے لوڈ شیڈنگ پر عوامی غصہ کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ سحری اور افطاری میں دس فیصد کیا ایک بھی ٹرانسفارمرکے ٹرپ ہو نے پر سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ ترجیحات کی بجائے عوام کے احترام کی ضرورت ہے۔ ورنہ شائد سب کچھ کر کے بھی کچھ نہ رہے۔

مزید : کالم