طیاروں کے جیٹ انجنوں کا شور کنٹرول کرنے کے لئے حل نکال لیا گیا

طیاروں کے جیٹ انجنوں کا شور کنٹرول کرنے کے لئے حل نکال لیا گیا

ایمسٹرڈیم (نیوز ڈیسک) جدید دور میں مشینوں اور گاڑیوں کا شور ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن ائرپورٹوں کے قریب رہنے والے ہی جانتے ہیں کہ طیاروں کے جیٹ انجنوں کا شور کتنا بڑا عذاب ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں اس مسئلے کا کوئی قابل زکر حل موجود نہ تھا لیکن نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم ائر پورٹ کی انتظامیہ نے اس مسئلے کا ایک انتہائی سادہ، خوبصورت اور دلچسپ حل نکال لیا ہے۔ ٖفضا سے دیکھنے پر شیفول ائرپورٹ کے ارد گرد کی زمین پر کم گہری کھالیوں کی صورت میں بنائے گئے ڈیزائن نظر آتے ہیں جنہیں ڈائمنڈ کی شکل میں بنایا گیا ہے اور بظاہر یہ وسیع و عریض بھول بھلیوں جیسی نظر آتی ہیں لیکن دراصل یہ جہازوں کے شور کا بہترین علاج ہے۔ یہ منفرد تکنیک آرٹسٹ پال ڈی کورٹ نے متعارف کروائی ہے اور شیفول ائر پورٹ کے اطراف میں زمین پر بنائے گئے ڈیزائن بھی انہوں نے ہی تیار کئے ہیں۔ ائرپورٹ کے قریبی علاقے میں میدانی زمین پر لمبی کھالیاں بنائی گئی ہیں اور ان کے کناروں کے اندر جھریاں بنائی گئی ہیں جن کا یہ حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا ہے کہ طیاروں کے انجنوں سے نکلنے والا بلند شور نصف سے بھی کم ہو گیا ہے۔ شیفول ائرپورٹ کے قریب 80 ایکڑ پر محیط رقبے کو بیوٹنشوٹ لینڈ آرٹ پارک کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی تیاری کے لئے ایک پرانی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے جسے مصروف شاہراہوں کے قریب رہنے والے کسان ٹریفک کے شور سے نجات کے لئے استعمال کرتے تھے۔ ائرپورٹ نے نیدرلینڈز آرگنائزیشن فار اپلائیڈ سائنٹیفک ریسرچ سے اس تکنیک کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لئے تحقیق کرنے کو کہا تھا جس میں ثابت ہوا کہ اسے جہازوں کے شور سے نجات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ جب زمین میں ہل چلا کر اسے کھالیوں کی شکل دے دی جاتی ہے تو نرم مٹی سے بنے ان کے ڈھلوان کنارے شور جذب کرنے والے اسفنج کا کام کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے بعد آرٹسٹ پال ڈی کورٹ نے جی پی ایس کا استعمال کرتے ہوئے 150 کھالیاں بنائیں جن کے ڈھلوان کناروں کی بلندی 6 فٹ ہے۔ یہ تکنیک انتہائی کامیاب رہی ہے اور اب اسے دیگر ائرپورٹوں پر بھی استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ شیفول ائرپورٹ کے قریبی علاقے میں بسنے والے رہائشیوں نے بھی اس منصوبے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اب اس علاقے میں جہازوں کا شور نصف سے بھی کم رہ گیا ہے۔

مزید : علاقائی