موبائل فون پر مسلسل آنکھیں جمائے رکھنا ماغی صحت کے لیے خطرناک

موبائل فون پر مسلسل آنکھیں جمائے رکھنا ماغی صحت کے لیے خطرناک

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) موبائل فونز کی صنعت میں جدت آنے سے صارفین میں اس کے استعمال کے طریقے بھی تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے جب موبائل انتہائی سادہ تھے تو صارفین محض کال کرنے یا سننے اور اسی طرح ٹیکسٹ میسج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ فون جتنے سمارٹ ہوتے گئے ان کا استعمال اتنا ہی بڑھتا گیا۔ اب موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ جسے دیکھو ہر وقت اس کی آنکھیں موبائل فون پر جمی ہوتی ہیں، یہ جانے بغیر کہ موبائل فون پر مسلسل آنکھیں جمائے رکھنا ان کی دماغی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے۔ ایسا ہی لندن کے صحافی ایڈم ایسٹس کے ساتھ ہوا۔ ایڈم کو شروع میں سرمیں درد کی شکایت ہونی شروع ہوئی۔ جب اس درد نے شدت اختیار کی تو اس نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ مختلف ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ وہ ’’آکسی پیٹل نیوریلجیا‘‘ (Occipital Neuralgia) کا مریض بن چکا ہے، دماغ کا ایک ایسا مرض جس کا علاج ہی ممکن نہیں۔ ایڈم کا کہنا ہے کہ میرے سر میں اتنا شدید درد ہوتا ہے کہ جیسے کوئی سٹیل کے راڈ سے میرے سر پر چوٹیں لگا رہا ہو،اس سے شدید تکلیف کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں اور یہ درد ناقابل برداشت ہے۔ نیورولوجسٹس کا کہنا ہے کہ اس مرض میں دماغ کی عصبی بافتیں کھنچاؤ کا شکار ہو جاتی ہیں اور انہیں نارمل حالت میں لانا ممکن نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص موبائل فون کی سکرین پر نظریں جمائے کے لیے اپنے سرکو آگے کی طرف جھکاتا ہے تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے جو براہ راست دماغ پر اثرانداز ہوتا ہے۔انہوں نے سمارٹ فون کے صارفین کو مشورہ دیا کہ اول تو وہ زیادہ دیر تک فون استعمال نہ کریں لیکن اگر ناگزیر ہو تو سکرین پر دیکھتے ہوئے اپنی گردن کو سیدھا رکھیں، جتنا آپ اپنی گردن کو آگے کی طرف جھکاتے جائیں گے اتنا ہی آپ میں اس مرض کے چانس بڑھتے جائیں گے۔

مزید : علاقائی