رمضان المبارک کے دوران لوڈ شیڈنگ قابل مذمت ہے الطاف حسین

رمضان المبارک کے دوران لوڈ شیڈنگ قابل مذمت ہے الطاف حسین

 لندن(پ ر)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے رمضان المبارک کے دوران کراچی سمیت ملک کے تمام حصوں میں کی جانے والی لوڈ شیڈنگ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہاکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں سحری ،افطار اور تراویح کے موقع پر بجلی کا غائب ہوجانا صرف افسوسناک اور شرمناک ہی نہیں بلکہ تعجب کا باعث بھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام طویل عرصہ سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے دعوے سن رہے ہیں ، اس دوران مختلف فوجی اور سول حکومتیں آئیں جنہوں نے یہ اعلانات کیے کہ فلاں فلاں ملک سے ہمارا معاہدہ ہوگیا ہے اور اب جلد ہی ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان معاہدوں سے حکمرانوں کی جیبیں توبھرتی رہیں لیکن عوام کو لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا ملنا تو کجا ہرگزرتے روز کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا رہا۔ الطاف حسین نے کہاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی چوری چکاری کے اس مروجہ کرپٹ نظام کے بغیر نہیں ہوسکتی جس کا آج پورے ملک کو سامنا ہے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ آج پورا ملک مکمل طورپر دوفیصد مراعات یافتہ طبقہ کے زیراثراورزیرحکمرانی ہے ۔ سول حکمراں ہو ں یا فوج کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز شخصیات ہوں انہیں نہ تو بجلی کے بحران کا سامنا ہے اور نہ ہی پانی کی قلت کا ان پر کوئی اثر پڑتا ہے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ وفاقی کابینہ اور فوج کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں دیگر باتوں کاتوتذکرہ کیا جاتا ہے لیکن انہیں گلی گلی ، محلہ محلہ ، قصبہ قصبہ ، شہرشہر خالی برتن اورمٹکے اٹھاکرتڑپتے ہوئے اور پانی و بجلی کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 ،کروڑ عوام کا دکھ درد نظرنہیں آتا۔ آخر ان مسائل کے حل کیلئے کوئی اجلاس کیوں نہیں کیاجاتا؟ الطاف حسین نے کہاکہ ملکی وغیرملکی ذرائع ابلاغ لکھ رہے ہیں کہ اس وقت ملک میں غیراعلانیہ فوجی حکومت کا راج ہے ، وفاقی وصوبائی اسمبلیاں کٹھ پتلیوں کی مانند ہیں لہٰذا ان حالات میں اگر عوام پانی وبجلی کا مطالبہ فوج کے اعلیٰ حکام سے کریں تو شاید زیادہ بہتر نتائج ملنے کی توقع ہے ۔ الطاف حسین نے وفاقی کٹھ پتلی حکومت سے کہاکہ اگرآپ باربار کے وعدوں کے باوجود عوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہیں کرتے، عوام کی فلاح وبہبود کے نام پر بھاری سود کے عوض اربوں کھربوں روپے کے غیرملکی قرضے حاصل کرتے رہیں، ان قرضوں سے حاصل ہونے والی رقم کی لوٹ مار کرتے رہیں اور عوام کوفائدہ پہنچانے کے بجائے عوام کو غیرملکی قرضوں کے بوجھ تلے دباتے رہیں تو اس سے کہیں بہتر ہے کہ ملک کو کسی دولت مند ملک کے ہاتھوں پٹے یا ٹھیکے پر دید یا جائے تاکہ چند ہفتوں میں ملک کو انتہائی ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بناکر عوام کو ذہنی مریض بننے سے بچایا جاسکے ۔

مزید : علاقائی