افطار ڈنر۔ اندازے غلط، سب پہنچے، تحفظات اپنے اپنے ہیں!

افطار ڈنر۔ اندازے غلط، سب پہنچے، تحفظات اپنے اپنے ہیں!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

سابق صدر آصف علی زرداری کی تقریر پر عمومی ردعمل یہی تھا کہ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن پیپلزپارٹی کے راہنماؤں نے افطار ڈنر کے بعد تقریر کو اپنے معنوں کے مطابق مناسب قرار دیا اور کہا کہ واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کے ساتھ ہی جنرل راحیل شریف کا نام لے کر تعریف کی اور پاک فوج کی بھی حمایت کی۔ قمر زمان کائرہ کی یہ بات دلچسپ تھی کہ پیپلزپارٹی قومی ایکشن پلان پر مکمل اور جلد عمل کی حامی ہے اور پارٹی نے کبھی بھی کرپشن کی حمایت نہیں کی اور ہمیشہ اسے ختم کرنے کے لئے کہا، شیری رحمان اور قمر زمان کائرہ کی وضاحت کے بعد تو معاملہ کی صورت یہ بنی کہ کچھ کہا نہیں تو معذرت یا واپسی کیسی!

اسلام آباد وفاق ہے اور وہاں کام کرنے والے بھی بڑے زرخیز ہوتے ہیں۔ اب میڈیا نے آصف علی زرداری کے افطار ڈنر میں سب کو غیر حاضر قرار دے دیا تھا اور یہ حضرات بھول گئے کہ یہ سیاست ہے اور سیاسی لوگ دیکھ بھال کر کام کرتے ہیں چنانچہ افطار ڈنر میں چودھری شجاعت اور مولانا فضل الرحمن بھی آ گئے تو اب اسے دوسرے انداز سے ناکامی سے دو چار کیا حالانکہ سیاست دان ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہیں اور اپنے مفاد کے لئے پورے بھی رہتے ہیں چنانچہ ان حضرات سے براہ راست سوال کریں تو جواب آئے گا مناسب نہیں کیا۔ ڈنر میں گئے تو ہلکے پھلکے انداز میں کہا گیا کہ یہ بہتر نہیں تھا۔ جواب میں وضاحت کر دی گئی۔

بہر حال یہ تو اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں حکومت کی عمل داری کہیں نظر نہیں آ رہی۔ رینجرز اپنے طریقے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس صورت حال میں متحدہ اور پیپلزپارٹی کو بہت نقصان ہوا اور ہوگا لیکن یہ کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے کہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی کوئی حمایت کر سکتا ؟ تاہم ایک بات آصف علی زرداری ہی جانتے ہیں کہ ایسی تقریر کیوں کی؟ اور وہ یہ بات شاید اپنے صاحبزادے کو بھی نہ بتائیں بات کئی روز تک ہوتی رہے گی۔

اس پورے سلسلے میں جو بات نظر انداز کی جا رہی ہے وہ یہ کہ ڈوبتا ہوا میثاق جمہوریت جو یوں بھی کاغذ کا ٹکڑا رہ گیا تھا بالکل ڈوب گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی بصیرت کہاں تک کام کرتی ہے۔ دونوں پھر سے محاذ آرا ہوتے ہیں یا آنکھوں کی حیا باقی رکھ کر ہی چلیں گے۔ جنرل راحیل شریف اور فوج کی طرف سے ردعمل نہ دینا پسند کیا گیا۔ پھر ان کو ضرورت بھی کیا ہے۔ وہ اپنا کام کر رہے ہیں تاہم وزیر اعظم کی بے تابی پر باتیں کی جا رہی ہیں، اس کا جواب مسلم لیگ (ن) ہی کے ذمہ ہوگا۔ ویسے بھی اسلام آباد ہی کے دو سینئر صحافیوں نے بھی ’’انصاف سب کے ساتھ‘‘ کی بات کر دی ہے وہ بھی قابل غور ہے اور غور ہونا چاہئے۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے کہ اس کے لئے مختلف خبریں چلتی ہیں اور چلتی رہیں گی۔ کام اس وقت شروع ہوگا جب بلاول عمل میں آئے گا کب ایسا ہوگا اب بھی کسی کو علم نہیں۔ بہر حال ایک بات طے ہے کہ اب آصف علی زرداری کو بہر صورت پس منظر میں ہی رہنا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بقا اسی میں ہے، ویسے مچھلیوں نے کشتی سے پھسلنا شروع کر دیا ہے۔

اندازے غلط

مزید : تجزیہ