پاکستان میں تعمیرات کا معیار بہت بلند ہوا ہے‘ چیئرمین سدرن ریجن آباد

پاکستان میں تعمیرات کا معیار بہت بلند ہوا ہے‘ چیئرمین سدرن ریجن آباد

کراچی (اکنامک رپورٹر) ایسو سی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سدرن ریجن کے چےئرمین محمدحسن بخشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعمیرات کا معیار بہت بلند ہوا ہے اور کراچی کی جدید ترین کثیر المنزلہ عمارتوں کا موازنہ ترقی یافتہ عمارتوں سے کیا جا سکتا ہے۔ وہ گزشتہ روز جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی(جیکا)کے مطالعاتی وفد سے آباد ہاؤس میں بات چیت کر رہے تھے۔ جاپانی وفد حدیکی کرروکی،ستوشی کوہنواور چوہدری محمد الیاس پر مشتمل تھا۔ اجلاس میں آباد کے وائس چےئرمین محمدحنیف میمن، فارغ ندیم، محمودٹبا، عبدالکریم آڈھیا، مصطفےٰ شیخانی، اویس احمد اور دانش بن روف موجود تھے۔آباد کے ارکان کو بتایا گیا کہ جیکا کی ٹیم پاکستان میں توانائی کی فعالیت، حفاظت سے متعلق سروے کے لیے پہنچی ہے۔ ریجنل چےئرمین آباد نے وفد کو بتایا کہ پاکستان میں تعمیراتی لاگت 22امریکی ڈالر فی مربع فٹ جبکہ بھارت میں45ڈالر فی مربع فٹ اور متحدہ ارب امارات میں65ڈالر فیمربع فٹ ہے۔ پاکستان میں چلرز تیار نہیں ہوتے۔ جاپان اور کوریا سے منگوائے جاتے ہیں۔ بقیہ تمام اقسام کے بلڈنگ مٹیر یلز پاکستان میں بنائے جاتے ہیں۔

وفد کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ پاکستانی عمارتوں میں چھت کی موٹائی6سے8انچ جبکہ دیواروں کی موٹائی4سے8انچ ہوتی ہے۔وفدکے استفسار پر محمد حسن بخشی نے کہا کہ پاکستان میں تجارتی عمارتوں میں سینٹرلی ائیر کنڈیشننگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔بڑے شہروں میں سینٹرلی ائیر کنڈیشننگ مالز تعمیر کیے جارہے ہیں۔ کراچی میں عمارتوں میں روشنی اورہوا کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ عمارتوں کی ڈیزائننگ میں وینٹیلیشن کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ وفد کے سربراہ حدیکی کوروکی نے کہا کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کو چند بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ بجلی کی پیداواری لاگت زیادہ، بجلی کازیاں بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے بجلی کی طلب ورسد کا مسئلہ نہایت سنگین ہوگیا ہے۔

مزید : کامرس