ماہ رمضان کے آغاز سے ہی منافع خور مافیا سرگرم ہو گیا

ماہ رمضان کے آغاز سے ہی منافع خور مافیا سرگرم ہو گیا

کراچی(اکنامک رپورٹر)ماہ رمضان کے آغاز سے ہی منافع خور مافیا سرگرم ہوگیاہے،پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیاہے،جس کے نتیجے میں متوسط اور کم آمدن والے افراد کیلئے افطاری میں دستر خوان پر پھل سجانا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔رمضان المبارک سے قبل ہی پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور ماہ صیام کا چاند دکھائی دیتے ہی پھل فروشوں نے پھلوں کی قیمتیں بڑھا دی ہیں ،شہر میں اس وقت لنگڑاآم60تا80روپے فی کلوگرام،سندھڑی آم 80 تا 120 روپے ، آڑو 160 تا 180 روپے ،آلوچہ 300روپے ، سیب 250 تا 300 روپے ، خوبانی 120 تا140روپے ،کیلا 90 تا 120 روپے درجن، خربوزہ 60 تا 80 روپے اور چیکو 60 روپے فی کلوگرام میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ صارفین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے آتے ہی منافع خور سرگرم ہوگئے ہیں جبکہ کمشنر کراچی اور صوبائی حکام مہنگائی کے جن پر قابو پانے میں حسب روایت ناکام رہے ہیں،عوام کا کہنا ہے کہ محض اخباری بیانات دینے سے منافع خورو ں کی بیخ کنی نہیں کی جاسکتی اور اس ضمن میں شہری حکومت اور صوبائی حکا م کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے ورنہ متوسط اور کم آمدنی والا طبقہ گزشتہ برس کی طرح امسال بھی افطار کے موقع پر اپنے اہل خانہ کو پھل نہیں کھلا سکے گا۔شہر میں پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث روزہ داروں کو کم از کم ماہ رمضان کے 15 ایام تک شدید مشکلات کا سامنا رہے گا کیونکہ امکان ہے کہ پھلوں کی خریداری زائد قیمتوں کے باعث کم رہنے کے بعد ماہ رمضان کے آخری 15ایام میں پھلوں کے نرخ قدرے نیچے آجائیں گے،تاہم اس وقت محض آم ،خوبانی اور چیکو ہی عوام کی دسترس میں دکھائی دیتے ہیں جبکہ سیب،آلوچہ ،آڑو اور کیلے کی قیمتیں انتہائی بلند سطح پر رہیں۔

مزید : کامرس