پاکستان میں پابندی کا سامنا کرنے والی این جی او کی بیرون ملک بھی بڑی دو نمبری پکڑی گئی

پاکستان میں پابندی کا سامنا کرنے والی این جی او کی بیرون ملک بھی بڑی دو نمبری ...
پاکستان میں پابندی کا سامنا کرنے والی این جی او کی بیرون ملک بھی بڑی دو نمبری پکڑی گئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم ”سیو دی چلڈرن“ نے عطیہ کیے گئے ہارپربیکھم کے ملبوسات کی نیلامی کے لیے انوکھا طریقہ اپنا کر اسے کامیاب بنا دیا۔ 41سالہ والدہ وکٹوریہ بیکھم نے اپنی بیٹی ہارپر بیکھم کے 24ملبوسات سیو دی چلڈرن کو عطیہ کیے جنہیں تنظیم نے گزشتہ ہفتے نیلامی کے لیے ”پرائم روز ہل سٹور“ میں رکھا۔ اس موقع پر سیو دی چلڈرن نے سٹور کھولنے سے قبل اپنے رضاکاروں سے کہا کہ وہ سٹور کے باہر لائنیں بنا کر کھڑے ہو جائیں تاکہ لوگوں کو گمان ہو کہ نیلامی پر لوگوں کا بہت رش ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ نیلامی کی طرف متوجہ ہوں اور آ کر خریداری کریں۔

تنظیم نے اس موقع پر فوٹو گرافرز اور میڈیا کو بلا رکھا تھا، ان کے ذریعے یہ جعلی گاہلکوں کی تصویریں شہر میں پھیل گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سٹور پر اصلی گاہکوں کی بھیڑ لگ گئی۔ سیو دی چلڈرن کا یہ انوکھا طریقہ انتہائی کامیاب رہا اور سٹور کھلنے کے بعد 2منٹ میں ہارپربیکھم کے دوملبوسات گاہکوں نے خرید لیے، اگلے آدھے گھنٹے میں آدھے سے زیادہ ملبوسات خریدے جا چکے تھے۔

مزیدپڑھیں:دنیا کا وہ علاقہ جہاں لو گدھ کا مغز پیس کر سگریٹ میں ڈا ل کر پی جاتے ہیں؟وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی چکرا جائیں گے

برطانوی جریدے ڈیلی مرر کے مطابق سیو دی چلڈرن نے جعلی گاہک بن کر آنے والے اپنے تمام رضاکاروں کو ای میلز میں سکرپٹ بھی بھیجا اور ہدایات جاری کیں کہ وہ میڈیا رپورٹرز کے سامنے خود کو اصلی گاہک ظاہر کریں اور انہیں بتائیں کہ وہ ہارپربیکھم کے ملبوسات خریدنے کے لیے بے چین ہیں اور اس لیے صبح سویرے آ کر سٹور کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں کہ کہیں سارے ملبوسات بک نہ جائیں اور انہیں ایک بھی نہ مل سکے۔

سکرپٹ کے الفاظ کچھ اس طرح تھے ”میں ان خوبصورت ملبوسات کو چھونے کے لیے پرجوش ہوں جنہیں ہارپر بیکھم نے پہنا اور میں یہ سب سیو دی چلڈرن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جو بہت بڑی فلاحی تنظیم ہے۔ میں بھی 2بچوں کی ماں ہوں اس لیے میرا خیال ہے کہ سیو دی چلڈرن جو کر رہی ہے وہ دنیا بھر کے ان مستحق بچوں کی مدد کے لیے بہت اہم ہے جنہیں علاج جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں، اس جدید دور میں بچوں کا بنیادی سہولیات سے محروم ہونا بہت المناک ہے۔ “

ہارپر بیکھم کا پہلا لباس 150پاﺅنڈ جبکہ دوسرا350پاﺅنڈ میں فروخت ہوا۔لوگوں نے جس پرجوش طریقے سے ہارپر بیکھم کے ملبوسات کی خریداری کی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون جس کی بچی کی عمر ابھی 8سال تھی اس نے بھی 3سالہ ہارپر بیکھم کا ایک جوڑا خرید لیا۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ جب میری بیٹی 3سال کی ہو جائے گی تو میں اسے یہ لباس پہناﺅں گی۔

 

مزید : ڈیلی بائیٹس