برطانوی پولیس نے ہماری بیویوں کو داعش کے چنگل میں پھنسا دیا ،شہریوں کا تہلکہ خیز دعویٰ

برطانوی پولیس نے ہماری بیویوں کو داعش کے چنگل میں پھنسا دیا ،شہریوں کا تہلکہ ...
برطانوی پولیس نے ہماری بیویوں کو داعش کے چنگل میں پھنسا دیا ،شہریوں کا تہلکہ خیز دعویٰ

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی ممالک میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرف بڑھتے عوامی رجحان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ جیسے جدید اورترقی یافتہ معاشروں سے مردوخواتین کی بڑی تعداد شام میں برسرپیکار دہشت گرد تنظیم داعش کی مدد کو پہنچ رہے ہیں، خصوصاً خواتین کی تعداد حیران کن حد تک زیادہ ہے جو ان مغربی ممالک سے شام کا سفر کر رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ سے 3بہنوں کے حوالے سے خبر آئی تھی جو اپنے 9بچوں کے ہمراہ سعودی عرب عمرے پر گئیں لیکن واپس برطانیہ جانے کی بجائے داعش کو جوائن کرنے کے لیے شام چلی گئیں۔

مزیدپڑھیں:اب گورے معافی کیوں مانگ رہے ہیں ؟پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ نے مغربی دنیا کو آئینہ دکھا دیا،کھری کھری سنادیں

بچوں کے ہمراہ شام جانے والی ان برطانوی خواتین میں سے دو کے شوہروں 48سالہ اختر اقبال اور 39سالہ محمد شعیب نے الزام لگایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنائی جانے والی برطانوی ٹیرر پولیس نے ان کی بیویوں میں شدت پسندی کے جذبات کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیویوں کا ایک بھائی شدت پسندی کی طرف راغب تھا اور وہ ایک دنداعش کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے شام چلا گیا۔ ہماری بیویاں اپنے بھائی کے حوالے سے پہلے ہی پریشان تھیں، اوپر سے ٹیرر پولیس نے انہیں اپنے بھائی سے مسلسل رابطہ رکھنے کو کہا۔ پولیس کے اس عمل سے ہماری بیویوں کا اپنے بھائی سے رابطہ رہا اور وہ خود بھٹک گئیں اور شدت پسندی کی راہ پر چل پڑیں۔

اختر اور شعیب کے وکلاءنے برطانوی داخلہ و خارجہ سیکرٹریز اور چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے امور داخلہ کیتھ واز کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ٹیرر پولیس نے ہمارے کلائنٹس کی بیویوں کو اپنے بھائی سے، جو شام میں داعش کے لیے کام کر رہا ہے، رابطہ رکھنے کو کہا۔ ٹیرر پولیس نے اس معاملے میں انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اورپولیس حکام نے ایک دہشت گرد سے رابطے کے ان خاندانوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی پرواہ نہیں کی۔ واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم ہاﺅس و حکومتی جماعت کے دیگر اراکین کی جانب سے دونوں بھائیوں کے بیان کو غلط اور معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ٹیرر پولیس کی طرف سے بھی اس دعوے کی نفی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کی طرف سے کبھی ان خواتین کو اپنے بھائی سے رابطہ کرنے کو نہیں کہا گیا۔

 

مزید : ڈیلی بائیٹس