بنگلہ دیشیوں نے سعودیوں کی امید پر پانی پھیردیا ،مشکل میں ڈال دیا

بنگلہ دیشیوں نے سعودیوں کی امید پر پانی پھیردیا ،مشکل میں ڈال دیا
بنگلہ دیشیوں نے سعودیوں کی امید پر پانی پھیردیا ،مشکل میں ڈال دیا

  

جدہ (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں بنگلہ دیشی قونصلیٹ کے لیبر کونسلر محمد سرور عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں گھریلو ملازماﺅں کے طور پر کام کرنے کیلئے بہت کم خواتین نے اپلائی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں قائم قریباً 100 دفاتر پر صرف 500 کے قریب خواتین نے رجسٹر کیا ہے۔ ان میں سے بھی میڈیکل ٹیسٹ اور دیگر وجوہات کے بعد شائد تعداد کافی کم رہ جائے۔

محمد سرور کا کہنا تھا کہ اب تک قریباً 500 ملازماﺅں کیلئے پیپر ورک مکمل کرلیا گیا ہے جو کہ رمضان کے مہینے میں سعودی عرب پہنچ جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشیوں کی جانب سے عدم دلچسپی کی بنیادی وجہ کم تنخواہ ہے۔ یہاں پر 800 سعودی ریال تنخواہ مقرر کی گئی ہے جبکہ دیگر ممالک میں تنخواہیں قدرے زیادہ ہیں جیسے کہ ہانگ کانگ میں اسی کام کے لئے 937 سے 1,125 سعودی ریال تک کی رقم ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ عام تاثر یہی ہے کہ سعودی عرب میں ملازمین کو مکمل قانونی حقوق نہیں دئیے جاتے۔

آٹھ سال پہلے بنگلہ دیش نے ملازمین کو سعودی عرب بھیجنا بند کردیا تھا لہٰذا کام دوبارہ شروع ہوتے ہوتے وقت لگے گا۔ مزید یہ کہ جو لوگ یہاں کام کرچکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بھی اپنے مالکوں کو کچھ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے۔ دوسری جانب سعودی اخبارات میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ چھپ رہی ہیں کہ گھریلو ملازمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے بہت سے سعودی شہری کافی پریشان ہیں۔ پہلے سے سعودی شہری کافی پریشان ہیں۔ پہلے امید کی جارہی تھی کہ بنگلہ دیش سے معاہدے کے بعد یہ مسئلہ ختم ہوجائے گا لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

مزید : بین الاقوامی