خوبرو حسینہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بدلہ لینے کیلئے میدان میں آگئی، ایسا کام کرنے کا اعلان کردیا کہ سن کر ٹرمپ بھی گھبرا جائے گا

خوبرو حسینہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بدلہ لینے کیلئے میدان میں آگئی، ایسا کام کرنے کا ...
خوبرو حسینہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بدلہ لینے کیلئے میدان میں آگئی، ایسا کام کرنے کا اعلان کردیا کہ سن کر ٹرمپ بھی گھبرا جائے گا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین سے بدسلوکی کے قصے زبان زد عام ہیں۔ اب ایک ایسی ہی خوبروحسینہ اس سے بدلہ لینے کے لیے میدان میں آ گئی ہے اور ایسا کام کرنے کا اعلان کر دیا ہے جسے سن کر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چکرا جائے گا۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ خوبرو حسینہ سابق مس یونیورس الیشا میکاڈو(Alicia Machado)ہے جو دراصل وینزویلا کی شہری ہے مگر گزشتہ 20سال سے امریکہ ہی میں مقیم ہے۔ اب اس نے امریکہ کی شہریت حاصل کر لی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالنا چاہتی ہوں، اس لیے اب میں نے امریکی شہریت حاصل کی۔“الیشا مکاڈو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ”جب میں مس یونیورس بنی تھی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے میرے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”یہ مس یونیورس نہیں بلکہ مس پگی(Miss Piggi)ہے۔“مس یونیورس کا مقابلہ جیتنے کے بعد میرا وزن بڑھنا شروع ہو گیا تھا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجھے خنزیر سے تشبیہ دی تھی اس لیے اب میں نے اس کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لیے امریکی شہریت حاصل کر لی ہے۔“

مزیدپڑھیں:’بیگم کو مارنے کا حکم اللہ کی طرف سے ہے، مَرد بے بس ہے‘

الیشا کا کہنا تھا کہ ”میں اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے آفس میں کام کرتی تھی۔ اس نے ایک دن مجھے بتائے بغیر میرا کام دکھانے کے لیے میڈیا کو بلا لیا۔ اس سب کچھ کا مقصد میرے موٹاپے کا مذاق اڑانا تھا۔ ڈونلڈ کی اس حرکت کی وجہ سے میں پانچ سال تک ذہنی پریشانی کا شکار رہی۔ وہ لڑکیوں سے نفرت کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں لڑکیاں کم ہوں۔ اس کی نظروں میں ہم عورتوں کادرجہ کچھ مختلف ہے۔اس نے میری توہین کرکے مجھے خود کو گھٹیا خیال کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے مجھے دھمکایا، خوفزدہ کیا اورمیرے ساتھ انتہائی ناروا سلوک روا رکھا۔ وہ اپنے دوستوں کے سامنے مجھے ’مس ہاﺅس کیپنگ‘ (Ms. Housekeeping)بھی کہا کرتا تھا۔ جب امریکی صدارتی مہم کا آغاز ہوا تو میرا خیال تھا کہ ڈونلڈ کبھی نہیں جیت پائے گا لیکن جب سے اس نے پرائمریز کے بعد میں نے اس کے خلاف ووٹ ڈالنے کی ضرورت محسوس کی۔ اگر میں خود شہریت حاصل نہ کرتی اور میرا ووٹ نہ ہوتا تو میں اپنی کمیونٹی کو کیسے اس کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کر سکتی تھی۔ اب میں خود بھی اس کے خلاف ووٹ دوں گی اور اپنی کمیونٹی میں بھی اس کے خلاف مہم چلاﺅں گی۔“ رپورٹ کے مطابق الیشا کی عمر اس وقت 19سال تھی جب اس نے مس یونیورس کا ٹائٹل جیتا تھا۔ اس نے امریکی شہریت کا ٹیسٹ پاس کر لیا ہے اور اب امریکی پاسپورٹ کی منتظر ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس