سعودی عرب کا وہ امام مسجد جسے 9/11 حملوں کے پیچھے اصل کہانی معلوم ہے، امریکی اخبار نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

سعودی عرب کا وہ امام مسجد جسے 9/11 حملوں کے پیچھے اصل کہانی معلوم ہے، امریکی ...
سعودی عرب کا وہ امام مسجد جسے 9/11 حملوں کے پیچھے اصل کہانی معلوم ہے، امریکی اخبار نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) نائن الیون کے سانحے میں سعودی عرب کے کردار پر گزشتہ کچھ عرصہ سے امریکہ میں شدومد کے ساتھ بحث جاری ہے اور سانحے میں جاں بحق ہونے والے کے لواحقین اوبامہ انتظامیہ پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کے وہ 28صفحات منظرعام پر لائے جائیں جن میں مبینہ طور پر سعودی عرب کا کردار بے نقاب کیا گیا ہے۔ اب اس حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں ایک تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کا ایک امام مسجد جس کا نام فہد الظمیری (Fahad al-Thumairy)ہے نائن الیو ن کے واقعے کی تمام روداد جانتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق فہد الظمیری لاس اینجلس میں سعودی قونصلر آفیشل بھی رہ چکا ہے۔ نائن الیون کے واقعے میں ملوث دو ہائی جیکرز نے سانحے سے قبل فہد الظمیری سے ملاقات کی تھی۔اس لیے امریکی ایجنسیوں کو شبہ تھا کہ وہ واقعے کے حقائق سے آگاہ ہے۔ نائن الیون کے تحقیقاتی کمیشن نے فہد الظمیری سے تفتیش بھی کی تھی تاہم اس نے تمام تر الزامات کی تردید کر دی۔ حالانکہ ایجنسیوں کے پاس اس کی فون کالز کا ریکارڈ موجود تھا جن سے ثابت ہو رہا تھا کہ فہد الظمیری نے دوران تفتیش سوالات کے جوابات درست نہیں دیئے تھے۔ایف بی آئی کے سابق عہدیدار لیمبرٹ (Lambert)کا کہنا ہے کہ ”میں سانحے کی تحقیقات کے دوران بھی شک میں مبتلا رہا تھا کہ ہائی جیکروں کو بائی چانس معاونت فراہم کیسے کی جا سکتی ہے۔ ہائی جیکرز انگریزی نہیں جانتے تھے۔ انہیں یہاں رہنے اور روزمرہ استعمال کی اشیاءکا انتظام اور حملے کی تیاریاں کرنے کے لیے کسی نہ کسی کی مدد درکار تھی۔میرا خیال ہے کہ ان کی مدد اور پرورش کے لیے کچھ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ہائی جیکروں کے حامیوں کے ایک ممکنہ نیٹ ورک کی اطلاعات بھی تھیں۔اس نیٹ ورک کے سلسلے میں سین ڈیاگو کی ایک مسجد کے امام مہضار (Mihdhar) اور حضمی (Hazmi)نامی افراد کے نام بھی سامنے آتے ہیں لیکن تحقیقاتی کمیشن کو سب سے زیادہ شبہ فہد الظمیری پر ہی تھا۔ “

مزید : بین الاقوامی