عوامی تحریک کے کارکن شکیل وحید اور انصر حیات کے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق شہادت قلمبند

عوامی تحریک کے کارکن شکیل وحید اور انصر حیات کے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ...

لاہور(نامہ نگار)انسداددہشت گردی کی عدالت میں عوامی تحریک کے استغاثے کی سماعت ہوئی ،عوامی تحریک کے کارکن شکیل وحید اور انصر حیات نے سانحہ سے متعلق شہادت قلمبند کروائے ان کا کہنا تھا ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کے حکم پر ڈی ایس پی عمران کرامت نے خود کارکن رضوان خان پر گوئی چلائی،انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم نے پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دائراستغاثہ کی سماعت کی، دوران سماعت عوامی تحریک کے دو گواہان شکیل وحید اور انصر حیات نے سانحہ میں ہلاکتوں سے متعلق اپنی شہادتیں قلمبند کرائیں۔گواہ شکیل وحید کا کہنا تھا کہ کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کے حکم پر ڈی ایس پی عمران کرامت نے کارکن رضوان خان پر گولی چلائی جس سے وہ شدید زخمی ہوا اور جناح ہسپتال پہنچ کر زندگی کی بازی ہار گیاجبکہ گواہ انصر حیات کا کہنا تھا کہ وہ خود سانحہ میں زخمی ہوا، کانسٹیبل داود نے اس کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

اور دیگر زخمی کارکنوں کے ساتھ نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور حبس بے جا ہیں رکھا استغاثہ میں پولیس پر الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے حکومت کے اشارے پر ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کو کچلنے کے لئے ادارہ منہاج القران پر حملہ کیا ،واضح رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ میں وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف سمیت 139افراد کا نام شامل ہے۔استغاثہ کی مزید عدالتی کارروائی 28جون کو ہو گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4