نرسری کلاس کی تعداد پرائمری سکول انرولمنٹ میں شامل نہ کرنا قابل افسوس ہے،سجاد کاظمی

نرسری کلاس کی تعداد پرائمری سکول انرولمنٹ میں شامل نہ کرنا قابل افسوس ...

لاہور(خبرنگار)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، جام صادق، چوہدری محمد سرفراز، رانا انوار،راناالطاف حسین، ساجد محمود چشتی، عبدالقیوم راہی ، سعید نامدار، اسلم گھمن، افضل کیانی، رحمت اللہ قریشی، شیخ اختر، عبد الطارق نیازی،رانا طارق، راؤ عابد، راؤ شمشاد، نجم النساء، صفدر کالرو، ،یونس حسن، منیر انجم ، امتیاز طاہر و دیگر نے کہا ہے کہ نرسری کلاس کی تعداد کو پرائمری سکول کی انرولمنٹ میں شامل نہ کرنا غیر دانشمندانہ اور اساتذہ دشمن طرز عمل ہے۔ ایک طرف تو حکومت 4 سال عمر کے بچوں کو نرسری کلاس میں داخلے کی مہم چلا رہی ہے اس کیلئے ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے لئے کلاس رومز مختص کروا رہی ہے جبکہ نرسری میں پڑھنے والے بچوں کو سکول کی انرولمنٹ میں تصور نہیں کیا جارہا۔

حالانکہ نرسری کلاس کو پڑھانے کیلئے ٹیچرز بھی تعینات ہیں۔یہ بچے ہر ماہ باقاعدہ 20 روپے فروغ تعلیم فنڈ بھی ادا کرتے ہیں۔

سری کلاس میں داخل ہونے والے بچوں کا قاعدہ کابھی داخلہ رجسٹر میں اندراج کیا جاتا ہے۔ جبکہ MEA's کو وزٹ میں نرسری کلاس کی تعداد بھی کاؤنٹ کی جاتی ہے۔اور اگر نرسری کی حاضری 90% سے کم ہو تواساتذہ کو پیڈا ایکٹ کے تحت سزا بھی دی جاتی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اب پیف کو دیئے جانے والے سکولوں کی انرولمنٹ میں نرسری کلاس پڑھنے والے بچوں کی تعداد کو نہیں شامل کیا جاتا

مزید : میٹروپولیٹن 4