محکمہ ایکسائز پوش علاقوں سے ریکوری میں ناکام ، غریبوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

محکمہ ایکسائز پوش علاقوں سے ریکوری میں ناکام ، غریبوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

 لاہور(لیاقت کھرل)مالی سال 2015-16ء میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے لاہور میں بڑے بڑے محلات ، بنگلوں اور لگژری گھروں کے مالکان، بڑے بڑے قانون دان، رئیل اسٹیٹ مالکان، جیولرز سمیت دیگر اربوں کے نادہندگان ( ڈیفالٹرز) سے پراپرٹی ٹیکس اور پروفیشنل ٹیکس وصول کرنے کے بجائے عام شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا۔ بڑے بڑے امیروں، جاگیرداروں اور کاروباری حضرات کے سامنے ’’خاموشی ‘‘ جبکہ غریبوں کو جائیداد کی قرقی اور تھانوں میں بند اور گرفتاری کی دھمکیاں دے کرسالانہ ٹارگٹ پورا کرنے کاانکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو حکام کی جانب سے دو ریجن یعنی دو ڈائریکٹوریٹ میں تقسیم کرنے ، جائیداد کی قرقی اور گرفتاری کے اختیارات دینے کے باوجود بڑے بڑے محلات ، بنگلوں کے مالکان ، بڑے بڑے قانون دان وکلا اور پراپرٹی ڈیلروں سمیت جیولروں سے پروفیشنل ٹیکس کی وصولی میں ناکام ہے۔ محکمہ کے حکام نے بڑے بڑے ڈیفالٹرز اور لگژری گھروں اور بنگلوں و محلات سمیت پروفیشنل اورپرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کے مالکان سے ٹیکس کی وصولی میں گرفت کمزور ہونے پر موقف اختیار کیا ہے کہ ہزاروں بڑے بڑے نادہندگان ڈیفالٹرز نے ریکوری کی بجائے عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے۔تاہم لاہور میں چھوٹے بڑے نادہندگان جن کی تعداد 5لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔ ان سے مجموعی طور پر اب تک تین ارب 22کروڑ روپے کی ریکوری کی جا چکی ہے جو کہ مالی سال کے دیئے گئے ٹارگٹ کا 85سے 90فیصد ہے، تاہم مالی سال 2015-16ء کے 30جون تک ختم ہونے پر دیے گئے ٹارگٹ تین ارب 65کروڑ روپے کی وصولی میں کامیابی حاصل کر لی جائے گی۔ اس حوالے سے محکمہ ایکسائز کے ڈائریکٹر رضوان اکرم شیروانی نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ بڑے بڑے محلات اور بنگلوں کے مالکان سمیت بڑے بڑے پروفیشنل ٹیکس نادہندگان نے دو سے اڑھائی سال سے عدالتوں کے حکم امتناعی حاصل کر رکھے ہیں اور عدالتوں کا سہارا حاصل کر کے اربوں روپے کے ٹیکس کی ریکوری دبا رکھی ہے ۔ تاہم اس حوالے سے عدالتوں میں اپیلیں بھی کی گئی ہیں امید ہے کہ محکمہ کے حق میں جلد فیصلے ہو جائیں گے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1