مثبت حکومتی جواب تک متحدہ اپوزیشن کا ٹی او آر کمیٹی کے بائیکاٹ کا اعلان

مثبت حکومتی جواب تک متحدہ اپوزیشن کا ٹی او آر کمیٹی کے بائیکاٹ کا اعلان

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) متحدہ اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ آنے تک ٹی او آرز پارلیمانی کمیٹی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حکومت ٹی او آرز کے معاملے پر مثبت جواب نہیں دیتی اپوزیشن کمیٹی میں نہیں جائے گی،حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ آیا تو کمیٹی میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں، حکومت پانامہ پیپر سے متعلق نہ قانون بنانا اور نہ ہی پانامہ پیپرز کی تحقیقات کروانا چاہتی ہے،حکومت ایسا کمیشن بنانا چاہتی ہے جس میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن والا واقعہ سمیت تمام معاملات کی تحقیقات ہو سکے جبکہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پانامہ پیپرز جیسے جرائم کی روک تھام کیلئے خصوصی قانون ہونا چاہیے،حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ آیا تو عید کے بعد عمران خان اور پیپلز پارٹی کا ایک ہی کنٹینر ہو سکتا ہے، حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ ان ٹی او آرز کو تسلیم کرے جس سے جمہوریت اور اسمبلیاں زندہ رہیں گی،وزیراعظم کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنا نام پانامہ پیپرز سے نکلوا سکیں۔ان خیالات کا اظہارسینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور مسلم لیگ (ق) کے طارق چیمہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے کیا۔ اس موقع پر متحدہ اپوزیشن کی 9 جماعتوں میں سے صرف 5 جماعتیں پریس کانفرنس میں شریک ہوئیں جبکہ ایم کیو ایم، اے این پی ، قومی وطن پارٹی اوربی این پی عوامی نے متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔متحدہ اپوزیشن کا ٹی او آرز کے حوالے سے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پریس کانفرنس کے بعد دوسری پریس کانفرنس بھی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کیا اور سپریم کورٹ کو تحقیقات کیلئے خط لکھا مگر سپریم کورٹ نے قانون اور ٹی او آرز مناسب نہ ہونے کی وجہ سے تحقیقات کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد متحدہ اپوزیشن نے 15 ٹی او آرز بنائے جو حقیقت پر مینی اور شفاف تحقیقات کیلئے مناسب تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں حکومت نے تھوڑی بہت ردوبدل کر کے تقریباً ٹی او آرز پیش کئے جن کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن کھلے دل سے ٹی او آرز کمیٹی میں حصہ لیتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کیلئے پیش کیا گیا، ابتدائیہ مان لیا جبکہ حکومت کے 4میں سے 3ٹی او آرز بھی مان لئے، پارلیمانی کمیٹی بننے سے قبل جو تحریک ایوان میں پیش کی گئی اس میں تحقیقاتی کمیشن کی ترجیحات کا تعین کرنا بھی پارلیمانی کمیٹی کے ذمہ لگایا گیا تھا، اپوزیشن نے حکومت کے تین ٹی او آرز مان لئے اور ان میں فہرست میں نیچے رکھے ہوئے پہلا ٹی او آرز پانامہ پیپرزکی تحقیقات کیلئے بنانے کا کہا، مگر پانامہ پیپر سے متعلق حکومت نہ قانون بنانا چاہتی ہے اور نہ ہی پانامہ پیپرز کی تحقیقات کروانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے موقف میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حکومت ایسا کمیشن بنانا چاہتی ہے جس میں ایبٹ آباد اسامہ بن لادن والا واقع، حمود الرحمان کمیشن اور ہر قسم کی تحقیقات ہو سکے یعنی کوئی فیصلہ ہی نہ ہو سکے جبکہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پانامہ پیپرز کے ذریعے ایک مخصوص قسم کے جرم کا ارتکاب ہوا ہے، اس جرم میں مالیاتی کرائم ہوا ہے، جس میں پاکستان کا سرمایہ خفیہ ذرائع سے ملک ملک سے باہر گیا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت کا خون ہوا ہے، اس کی روک تھام کیلئے خصوصی قانون ہونا چاہیے، جس کے چند مخصوص نقاط ہوں گے، جس میں سے ایک نقطہ یہ ہو گا کہ اگر کسی کے پیسے بیرون ملک ظاہر ہوتے ہیں تو ان کی تحقیقات ہوں گی کہ یہ پیسے کیسے اور کیوں رکھے گئے تھے اور یہ پیسے کیسے حاصل کئے گئے تھے، دوسرے نقطے میں جس شخص کے نام پر بیرون ملک پیسے ثابت ہوئے ہیں اس شخص سے اور اس کے خاندان کے افراد سے مختار نامے لئے جائیں تا کہ تحقیقات کرنے والوں اور فرانزک آڈیٹر کو اختیار دیا جا سکے کہ وہ بینک اکاؤنٹس تک رسائی اور رقوم ٹرانسفرز کا ڈیٹا حاصل کر سکے، قانون میں تیسرا نقطہ انتہائی اہم ہے جس میں وہ شخص جس کے پیسے بیرون ملک افشاں ہوئے ہیں وہ ثابت کرے کہ یہ پیسہ کس طریقے سے حاصل کیا گیا اور جس ذرائع سے یہ پیسہ حاصل کیا گیا وہ قانونی تھا یا غیر قانونی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کیلئے جو بھی ضابطہ کارہے وہ یکساں طور پر پانامہ لیکس میں آنیوالے اہم ناموں کی تحقیقات پر لاگو ہوں گے، ہم وزیراعظم اور ان کے بچوں کیلئے کوئی امتیازی قانون نہیں بنا رہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا آغاز وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان سے ہو، ہم وزیراعظم کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنام نام پانامہ پیپرز سے کلیئر کریں، ہم وزیراعظم کو مجرم نہیں کہہ رہے ان پر الزام لگا ہے، اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کسی ایک شخص شخص کے خلاف تحقیقات نہیں چاہتے ہم صاف اور شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وہ حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ ان ٹی او آرز کو تسلیم کرے جس سے جمہوریت اور اسمبلیاں زندہ رہیں گی۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ پاکستانی عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن ٹی او آرز میں رکاوٹ نہیں بنی ہوئی بلکہ حکومت رکاوٹ بنی ہوئی ہے، اپوزیشن پانامہ پیپرز کی خود مختار کمپنی سے تحقیقات کروانا چاہتی ہے۔

مزید : صفحہ اول