وزیراعظم نواز شریف کی کارکردگی پرعوام کی اکثریت کا اظہار اطمینان

وزیراعظم نواز شریف کی کارکردگی پرعوام کی اکثریت کا اظہار اطمینان

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی کارکردگی پر اپنے مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق تقریباً 68 فیصد لوگوں سے پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے حوالہ سے سوالات کئے گئے جنہوں نے اپوزیشن کے مطالبہ کو دوغلہ پن قرار دیا اور کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم کے استعفی کا مطالبہ دوغلہ پن ہے۔ روزنامہ دی نیوز میں سروے رپورٹ کے مطابق 54 فیصد لوگوں نے وزیراعظم نواز شریف کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں کے 1707 مردوں اور خواتین کے ایک سیمپل کے ذریعہ سروے کیا گیا جو 30 مئی سے 6 جون 2016ء کے درمیان کیا گیا۔ پانامہ لیکس پر تحقیقات وزیراعظم نواز شریف سے شروع کرنے سے متعلق سوال پر 50 فیصد رائے دہندگان نے اس تصور کو مسترد کیا اور کہا کہ تحقیقات پانامہ پیپرز میں بیان کئے گئے تمام لوگوں کیلئے ایک ساتھ شروع ہونی چاہئے۔ 68 فیصد عوام نے اپنے جواب میں کہا کہ عمران خان کی جانب سے وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کرنا بددیانتی ہے۔29 فیصد نے کہا کہ ایسا معاملہ نہیں اور ان کا مطالبہ جائز ہے جبکہ تین فیصد نے کہا کہ انہیں اس معاملہ کا کوئی علم نہیں۔ مزید برآں لوگوں سے استفسار کیا گیا کہ کیا عمران خان کا موقف منصفانہ ہے جس میں عمران خان نے دعوی کیا کہ اسے آف شور کمپنیاں قائم کرنے کا حق ہے کیونکہ وہ برطانوی شہری نہیں، اس پر ردعمل کرتے ہوئے 62 فیصد لوگوں نے کہا کہ عمران خان کا موقف منصفانہ نہیں جبکہ 36 فیصد نے کہا کہ یہ منصفانہ ہے۔ سروے میں لوگوں سے وزیراعظم نواز شریف کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے بھی کہا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس قدر مطمئن ہیں جس کا جواب دیتے ہوئے 54 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے بہت مطمئن ہیں۔ سروے میں لوگوں سے جمہوریت یا آمریت میں سے حکومت منتخب کرنے کیلئے کہا گیا جس کے جواب میں 84 فیصد عوام نے کہا کہ جمہوریت آمریت سے کہیں بہتر ہے۔ گیلپ پاکستان نے لوگوں سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے مختلف بینکوں سے اپنے قرضے معاف کرائے جس کا دعوی مسلم لیگ (ن) کر رہی ہے، اس جواب پر 38 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دعوی بالکل صحیح ہے جبکہ 40 فیصد نے کہا کہ یہ کسی حد تک صحیح ہے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف الزامات درست ہیں اور کیا اس معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئیں تو اس کے جواب میں 92 فیصد لوگوں نے اس کی حمایت کی اور کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

مزید : صفحہ اول