’’قبلہ گاہی شیخ الاسلام ‘‘ کا پروگرام ، اسرار کے پردوں میں کب جائیں گے؟

’’قبلہ گاہی شیخ الاسلام ‘‘ کا پروگرام ، اسرار کے پردوں میں کب جائیں گے؟

تجزیہ :چودھری خادم حسین

سیاست بھی عجب کھیل ہے۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ، فرزند راولپنڈی گلا پھاڑ کر کہتے ہیں عید کے بعد اور اپنے پیارے ڈاکٹر طاہر القادری دھمکاتے ہیں، دھرنا ملتوی کیا ختم نہیں کیا۔ انصاف نہ ملا تو پھر ہو گا، ابھی تک قبلہ گاہی کے پروگرام کے بارے میں نہیں بتایا جا رہا ہے ۔اب تو عوامی تحریک کو میڈیا سے کھیلنا آ گیا۔ ان کے بھی کئی معتقد ماشاء اللہ ’’خوبصورت الفاظ‘‘ میں مخالفین(میڈیا والے) کو مغلظات ستانے لگے ہیں، محترم نے ہدایت کی تھی کہ دھرنے کے دوران مال روڈ پر گندگی نہ پھیلائیں۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو پندرہ ٹن کوڑا اٹھانا پڑ گیا۔ کئی گرین بیلٹ اور نواحی مقام صاحبان ضرور یہ کے لئے بھی استعمال ہوئے۔ بہرحال بات یہ تھی کہ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے تاحال یہ امر اسرار کے پردے میں ہے کہ شہر اعتکاف آباد ہو گا یا نہیں؟ اور قبلہ شیخ الاسلام کب تک لاہور کو اپنی حاضری سے نوازیں گے اور پھر عازم وطن (کینیڈا) ہوں گے۔ کینیڈا سے ہمارے پرانے ساتھی دوستوں نے ہمیں اطلاع دی کہ محترم ڈاکٹر قادری کی کمر کا علاج ہوا جس کی اطلاع نہیں د ی گئی اور اب وہ بیلٹ باندھ کر زیادہ وقت کے لئے کھڑے ہو سکتے اور چل بھی سکتے ہیں بلکہ تیز چل کر دکھا سکتے ہیں۔

یہ کچھ عجیب سی صورتحال بن چکی، سانحہ ماڈل ٹاؤن حقیقی ہے۔ اس کے حوالے سے میڈیا کے پاس ویڈیوز ہیں تو منہاج القرآن والوں کے پاس باقاعدہ ایڈٹ شدہ ہیں تاہم یہ اطلاع بھی ہے کہ کچھ سرکاری محکموں کے علاوہ بعض نجی لوگوں کے پاس بھی کچھ کلپس ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی طرف سے درست طور پر تفتیش و تحقیق کا کام نہیں ہوا۔ یہ سب اسرار کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔ سانحہ کے دنوں میں ہم نے موصول ہونے والی ’’خاص‘‘ اطلاعات کو بھی تحریر کر دیا تھا، کیا یہ ممکن ہے کہ اس سانحہ کی کوئی ایسی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہو جائے کہ اسرار سے پردہ اٹھ سکے ۔

یہ تو ایک بات ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن کا اتحاد ایک کمزور سا اتحاد ہے جو کچے دھاگے سے بند ھا ہوا ہے ۔ مطالبات کی نوعیت ایک سی ہے لیکن طریق کار میں ہم آراء نہیں ہیں۔ اس کے لئے سید خورشید شاہ کہتے ہیں فیصلہ میٹنگ میں ہو گا۔ ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے انتخابات کا درجہ حرارت بڑھ گیا۔ اپوزیشن میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اکٹھے ہو گئے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں متحارب ہیں۔ بلاول آ گئے وہ پھر آزاد کشمیر جلسہ کرنے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے پروٹوکول منع کر دیا ہے، وزراء تو وزراء خود بلاول کے لئے بھی پریشانی ہو گی۔ابھی اتنے پر گذارہ کریں کہ پیپلزپارٹی والوں کے بقول آصف علی زرداری دوبئی سے کراچی آ رہے تھے۔ فی الحال ان کو منع کر دیا ہے۔ سبحان اللہ جیسے انہوں نے آہی جانا تھا۔ یہاں تو چوہدری نثار اور مولا بخش چانڈیو کے درمیان میچ پڑ گیا ہے۔

مزید : تجزیہ