سفارتی تعلقات قائم کئے بغیر ایران اور امریکہ میں اربوں ڈالر کی تجارت شروع

سفارتی تعلقات قائم کئے بغیر ایران اور امریکہ میں اربوں ڈالر کی تجارت شروع

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ایران پر امریکی اور عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو ایرانی آرڈر ملنے لگے ہیں، اس سلسلے کا سب سے بڑا لینڈ مارک سودا ایرانی شہری ہوا بازی کے محکمے نے امریکہ کی دنیا کی سب سے بڑی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے ساتھ کیا ہے۔ جنوری میں ایران پر اقتصادی پابندیاں اٹھ گئی تھیں اور امریکی حکام نے بوئنگ کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ طیاروں کی فروخت کے سلسلے میں بات چیت کی اجازت دی تھی۔ فروری کے بعد اب تک اس سلسلے میں تفصیلی بات چیت کے بعد 17 بلین ڈالر کا سودا طے پاگیا ہے۔ اس رقم سے ایران ایک سو بوئنگ کمرشل طیارے خریدے گا، ہوا بازی کی تاریخ کا یہ سودا اگر سب سے بڑا سودا نہیں تو بھی ان چند بڑے سودوں میں سے ایک ہے جو بوئنگ نے دنیا کی بڑی ہوائی کمپنیوں کے ساتھ کئے ہیں۔ اس وقت متحدہ عرب امارات کی ایئر لائن ’’ایمریٹس‘‘ کا شمار ان ایئر لائنوں میں ہوتا ہے جو بیک وقت درجنوں طیاروں کی خریداری کا آرڈر دیتی ہیں، خود ایران نے بھی اس سے پہلے بیک وقت اتنے طیاروں کا آرڈر کبھی نہیں دیا۔ ایران کے پاس اس وقت 250 مسافر جہاز ہیں جن میں 230 ایسے ہیں جن کی جگہ نئے طیارے ایئر لائن میں شامل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے طویل دور کے بعد ایرانی ایئر لائنوں کے بہت سے طیارے اڑان بھرنے کے قابل نہ رہے کیونکہ ان کی مرمت اور دیکھ بھال کیلئے فاضل پرزے دستیاب نہیں تھے۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں اٹھتے ہی دنیا کی بڑی بڑی کاروباری کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو اور دوسرے عہدیدار بڑی تعداد میں تہران پہنچنا شروع ہوگئے تھے اور اب تقریباً چھ ماہ بعد ان عہدیداران کے دورے برگ و بار لانے لگے ہیں۔ 17 ارب ڈالر کا سودا بوئنگ کمپنی کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ تاہم ابھی امریکی حکومت کی منظوری حاصل نہیں ہوئی جو معینہ وقت کے اندر ملنے کی امید ہے۔

پابندیاں اٹھنے کے بعد ایرانی ایئر لائنوں نے ایئر بس سمیت تین یورپی کمپنیوں سے بھی 200 طیارے خریدنے کے آرڈر دیئے ہیں ان طیاروں میں چھوٹے طیارے بھی شامل ہیں جو یہ یورپی کمپنیاں بناتی ہیں۔ انقلاب سے پہلے ایران میں امریکی اثر و رسوخ اپنے عروج پر تھا اور امریکہ نے شاہ ایران کو ’’خلیج کا محافظ‘‘ بنا رکھا تھا۔ ایران امریکی فوجی سازو سامان خریدنے والا بڑا ملک تھا لیکن 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلا آرڈر ہے جو امریکہ کو تہران کی طرف سے ملا ہے۔ امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات اگرچہ بحال نہیں ہوئے تاہم دونوں ملکوں کے کاروباری تعلقات کا آغاز ہوگیا ہے اور بعید نہیں کہ تجارت کے بعد سفارت کے میدان میں بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کا آغاز ہو جائے۔

ایران کا چھ عالمی طاقتوں (5+1) کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل گزشتہ برس جولائی میں طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کی تھیں تو جواب میں امریکہ نے ایران پر طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی تھی۔ امریکی کانگریس نے ایران کے ساتھ اس معاہدے کی شدید مخالفت کی تھی یہاں تک کہ تمام سفارتی حدود و قیود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی کانگریس کے 70 کے قریب ارکان نے ایرانی صدر اور دوسرے رہنماؤں کو ایک خط لکھ دیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ صدر اوبامہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں کیونکہ امریکی قوم کو یہ قبول نہیں اور اگلا امریکی صدر اس معاہدے کو منسوخ کردے گا۔ یہاں تک کہ اسرائیلی وزیراعظم کو امریکی کانگریس سے خطاب کی دعوت دیدی گئی جنہوں نے اپنے خطاب میں ایران امریکی ڈیل کو شدید نکتہ چینی کا ہدف بنایا۔ دوسری جانب صدر اوباما نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران ڈیل کو کانگریس نے مسترد کیا تو وہ صدارتی ویٹو کا استعمال کریں گے تاہم اس کی نوبت نہیں آئی اور ڈیل پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔ یورپی طیارہ ساز کمپنیاں ایران سے آرڈر حاصل کرنے میں بوئنگ کی نسبت پہل کرگئیں کیونکہ بوئنگ کو سودے کیلئے امریکی حکومت کی اجازت کی ضرورت تھی۔ یورپی ملکوں کی کمپنیوں کے ساتھ اس طرح کی کوئی مشکل نہیں تھی۔ ایرانی ہوا بازی کے محکمے کے سربراہ علی عابد زادہ کا کہنا ہے کہ یہ سودا امریکی حکومت کی منظوری سے شروع ہوا ہے۔ چند دن پہلے بوئنگ کمپنی کے نمائندے نے تصدیق کی تھی کہ وہ ایرانی ایئر لائنوں کو طیارے فروخت کرنے کیلئے مذاکرات میں شریک ہیں۔ ایران نے 118 ایئر بس طیارے خریدنے کیلئے ایئر بس کمپنی سے جنوری میں ہی معاہدہ کرلیا تھا لیکن اس پر بھی ابھی تک عملدرآمد شروع نہیں ہوسکا کیونکہ اس سودے کیلئے بھی امریکی محکمہ خزانہ کی اجازت درکار ہے کیونکہ ایئر بس طیارے میں جو پرزے استعمال ہوتے ہیں ان کا دس فیصد امریکہ میں تیار ہوتا ہے۔ امکان ہے کہ بوئنگ اور ایئر بس طیاروں کے سودے بیک وقت شروع ہو جائیں گے۔

مزید : تجزیہ