ساتھیوں کی کرپشن اور کوتاہیوں کو تحفظ دینے کیلئے سرکاری افسروں کاگٹھ جوڑ

ساتھیوں کی کرپشن اور کوتاہیوں کو تحفظ دینے کیلئے سرکاری افسروں کاگٹھ جوڑ

لاہور(محمد نواز سنگرا) سرکاری افسران نے ایک دوسرے کی کرپشن اور کوتاہی کو تحفظ دینے کیلئے سر جوڑ لیا ہے اور ساتھیوں کی کرپشن اور محکمانہ امور میں غیر ذمہ داری کو پس پشت ڈال کر اوپر سب اچھا کی رپورٹ کرنے لگے ہیں اور اعلیٰ حکام کو حقائق سے لاعلم رکھا جاتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ پی ایس ایس افسر حافظ انیس الرحمن کی مبینہ کرپشن اور ذمہ داری میں کوتاہی کے باعث متعلقہ محکمے نے سرنڈر لیٹرز غائب کر دیئے ہیں۔تاکہ ان کو پیڈ اایکٹ کے تحت کارروائی سے بچایا جا سکے۔ حافظ انیس الرحمن پی ایس ایس گریڈ 18کے آفیسر ہیں جن کو اب تک پانچ محکموں سے سرنڈر کیا جا چکا ہے۔ قانون کے تحت 3یا پھر 5جگہوں سے سزا کے طور پر نکالے جانیوالے افسر کیخلاف پیڈ اایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے اور جرم ثابت ہوجانے پر متعلقہ افسر کو نوکری سے برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔’’روز نامہ پاکستان ‘‘ کے ذرائع کے مطابق حافظ انیس الرحمن کو سب سے پہلے محکمہ صحت نے سرنڈر کیا تھا کہ یہ افسر محکمہ صحت میں موزوں نہیں ہے جن پر مبینہ کرپشن کے الزامات بھی تھے جس کے بعد ان کو سکولز ایجوکیشن میں تعینات کیا جہاں سے بھی اس کو چند ہفتوں بعد سرنڈر کر دیا گیا ،محکمہ سکولز ایجوکیشن کے بعد ان کو وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا وہاں سے بھی ان کو غیر ذمہ داری کی بنیا دپر نکال دیا گیا ۔جس کے بعد ان کو انرجی ڈ یپارٹمنٹ میں تعیناتی کیلئے کیس اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب خضر حیات گوندل کو بھیجا گیا تو چیف سیکرٹری پنجاب نے ایک شخص کی چند ماہ میں تین محکموں سے تبدیل ہونے کی وجہ جاننا چاہی لیکن آخر کار چیف سیکرٹری نے یہ کہ کر تعیناتی کرنے کا کہا کہ اب ان کو مزید کسی محکمے میں فوراًتعیناتی نہیں دی جائے گی اور ان کو انرجی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کر دیا گیا۔جو کہ چند ماہ بعد انرجی ڈیپارٹمنٹ سے بھی نکال دیا گیا۔جس کے بعد ایس ون سے کیس بھیجا گیا کہ ان کو اینٹی کرپشن میں تعینات کر دیا جائے تو سیکرٹری سروسز نے معاملے کا نوٹس لے لیا کہ کس بنیاد پر اینٹی کرپشن میں تعینات کیا جائے۔جس کے بعد سیکرٹری سروسز نے ان کو ڈی او ایچ آر ایم ضلع بھکر تعینات کر دیا جہاں انہوں نے حاضری نہیں دی جس پر ضلع بھکر کے ڈی سی او احمد مستجاب کرامت نے اس کو غیر حاضر لکھ کر بھیج دیا اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ۔جب دریافت کیا گیا تو حافظ انیس الرحمن نے ضلع بھکر میں بیماری کا میڈیکل بنا کر پیش کر دیا۔ جس کے بعد سیکرٹری سروسز نے سیکرٹری صحت کو ریفرنس بھیجا کہ حافظ انیس الرحمن کیلئے میڈیکل بورڈ بٹھایا جائے اور واضح کیا جائے کہ یہ شخص بیمار ہے یا نہیں جس کے بعد معلوم ہوا ہے کہ کیس محکمہ ہیلتھ میں لٹک گیا ہے۔ جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حافظ انیس الرحمن نے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی بجائے جناح ہسپتال سے اپنی مرضی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوا کر پیش کر دیا ہے۔واضح رہے کہ پانچ جگہوں سے سرنڈر ہونے کے بعد پی ایس ایس افسر حافظ انیس الرحمن کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حافظ انیس الرحمن نے مختلف محکموں کی طرف سے بھیجے گئے سرنڈ ر لیٹرز بھی ایس ون سے غائب کر وا دیئے ہیں تاکہ معاملہ اعلیٰ حکام تک نہ پہنچ پائے اور نہ ہی ان کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ماتحت افسران کے ایک دوسرے کو بچانے اور کرپشن اور تاہیاں چھپانے کی وجہ سے جہاں محکمے مسائل کا شکا ر ہیں وہیں چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سروسز کو بھی حقائق سے لا علم رکھا جا رہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر