جرائم کے صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے آئی جی پنجاب کی سربراہی میں آر پی او کانفرنس میں اہم فیصلے

جرائم کے صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے آئی جی پنجاب کی سربراہی میں آر پی او ...

لاہور ( کرائمز رپورٹر)صوبے بھر میں 21رمضان المبارک کے موقعہ پر یوم شہادت علیؓ، یوم القدس، جمعۃ الوداع اور آخری عشرے کے موقعہ پر مارکیٹوں میں کرائم کو ہر صورت کنٹرول کرنے اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صوبے بھر میں کرائم کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے اور پاکستان سے باہر سفار ت خانوں میں پولیس Liaisonافسروں کی تعیناتی کاتفصیلی جائزہ لینے کے لئے سنٹرل پولیس آفس لاہور میں ویڈیو لنک آرپی او کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی سربراہی انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے کی جبکہ تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اور ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب کیپٹن (ر) عثمان خٹک، ایڈیشنل آئی جی ویلفےئر اینڈ فنانس، سہیل خان، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز /انوسٹی گیشنز پنجاب،کیپٹن(ر) عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، ڈاکٹر عارف مشتاق،کمانڈنٹ PC، حسین اصغر،ایڈیشنل آئی جی PHP، امجد جاوید سلیمی ،ایڈیشنل آئی جی لیگل، علی ذوالنورین،ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب، فیصل شاہکاراور ایڈیشنل آئی جی CTD، رائے محمد طاہرکے علاوہ سی پی او کے دیگر سینئرپولیس افسران نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ماہِ رمضان کے دوران سیکیورٹی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سیکیورٹی کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ 21رمضان المبارک کے موقعہ پر صوبے بھر میں یوم شہادت علیؓ کے موقعہ پر نکلنے والے تمام جلوسوں کی سیکیورٹی کے لئے محرم الحرام والے سیکیورٹی ایس او پی پر عملدرآمد کیا جائے گا اور اسی طرح یوم القدس کے ساتھ ساتھ جمعۃالوداع کے موقعہ پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں گے اور خصوصی طور پر رمضان کے آخری عشرے میں مارکیٹوں اور دیگر علاقوں میں کسی صورت جرائم کو بڑھنے نہیں دیا جائے گا اور لوگوں کو ہر لحاظ سے تحفظ فراہم کیا جائے گا تا کہ وہ ایک پر سکون ماحول میں یکسوئی کے ساتھ عبادت اور بازاروں میں بلا خوف عید کی شاپنگ کر سکیں۔ آئی جی پنجاب، مشتاق احمد سکھیرا نے اس موقعہ پر بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کی سفارشات پر حکومت پنجاب نے تمام Embassiesمیں پولیس Liaisonآفیسرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پہلے افسر کی تعیناتی ترکی میں کی جائے گی۔ یہ Liaisonآفیسر پولیس سے متعلق دوسرے ملکوں میں شہریوں کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ مجرموں کی گرفتاری اور دیگر انفارمیشن کے تبادلے کے لئے باہمی تعاون کو جاری رکھیں گے۔ کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جن اہلکاروں کا سروس رول کمپیوٹرائزڈ نہیں ہو سکا اور ان کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ کانفرنس میں خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری میں مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر متعلقہ SDPOsکو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے تمام فیلڈ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ 15پر موصول ہونے والی کالز کو ڈیلی ڈائری میں انٹری کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان میں سے موصول ہونے والی کتنی کالز پر پولیس کارروائی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ تمام فیلڈ دفاتر میں ایک ایک I.Tروم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ جو بیک وقت کمپلینٹ ہینڈلنگ ، 8787، فرنٹ ڈیسک اور دیگر I.Tاقدامات کے حوالے سے مستقل مانیٹرنگ کرے گا اور اس کے لئے I.T Cadreاہلکاروں کو تعینات کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا۔ کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قتل کی واردات میں کسی صورت بے گناہوں کو ملوث کرنے ، ان کے خلاف مقدمات کے اندراج اور انہیں تھانوں میں بند کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اگر کسی تھانے میں ایسی کارروائی کی گئی تو غلط ثابت ہونے پر سخت ترین محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کانفرنس میں صوبے بھر کی کرائم کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں کار چوری میں کافی حد تک کمی واقعہ ہوئی ہے لیکن موٹر سائیکل چوری کو بھی مزید کم کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں آئی جی پنجاب نے تمام فیلڈ افسران کو حکم جاری کیا کہ وہ موٹر سائیکل چوری کی روک تھام میں اپنا ذاتی کردار ادا کریں تا کہ مڈل کلاس طبقے کے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور وہ بلا خوف و خطر روز مرہ کے معمولات زندگی جاری رکھ سکیں۔ کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ فرنٹ ڈیسک میں درج ہونے والی ہر شکایت پر E-Tagلازمی طور پر سائل کو جاری کیا جائے گا اور اس کے علاوہ ان ڈیسکوں پر 15کی کالز پر موصول ہونے والی کمپلینٹس کے اندراج کے ساتھ ساتھ تھانوں کیRecord Keepingمیں بھی یہ فرنٹ ڈیسک کردار ادا کریں گے۔اس کے علاوہ صوبے بھر میں بنکوں اور جیولرز شاپس کی سیکیورٹی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو بنک پولیس کی طرف سے دئیے گئے سیکیورٹی SOPکی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ان کے مینیجرز کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر