بلاول بھٹو ۔۔۔شاہراہ سیاست کا معصوم راہی

بلاول بھٹو ۔۔۔شاہراہ سیاست کا معصوم راہی
 بلاول بھٹو ۔۔۔شاہراہ سیاست کا معصوم راہی

  


جوں جوں ہم بلاول بھٹو کو دیکھتے ‘سنتے اور پڑھتے جا رہے ہیں ان سے ہماری ہمدردی بڑھتی جارہی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ انہیں کس ڈگر پر چلایا جا رہا ہے اور ان سے کیا کچھ کہلوایا جا رہاہے۔۔۔ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ شاہراہ سیاست کایہ معصوم راہی‘ ایک دن پہلے کہے گئے ڈائیلاگ کو ہو بہو دہرابھی نہیں سکتا کہ اس نے گزشتہ کل کس کو کیا کہاتھا۔۔۔نیز انہیں اس امر کا بھی اندازہ نہیں ہے کہ پردوں کے پیچھے چھپے گائیڈز انہیں پاکستانی سیاست کامولا جٹ بناکر پیپلزپارٹی کی رہی سہی ساکھ اور ان کی اپنی وراثتی سیاسی وجاہت کو داغدار بلکہ تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔پوری دنیامیں سیاست کو قومی خدمت کے جذبے سے کبڈی کے کھیل کی طرح کھیلا جاتاہے جس میں زیر و زبر چلتا رہتاہے۔۔۔اناپ شناپ اور بدتمیزی کو سیاست نہیں کہا جا سکتا‘ نہ ہی سیاست میں بدتمیزی کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے‘تعمیر قوم کا تقاضاہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری قوت کے ساتھ اس رحجان کی حو صلہ شکنی کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی خدمت کے حوالے سے سیاست ایک ایسا کار خیر ہے جو عبادت کا درجہ رکھتی ہے اس سلسلے میں نبی پاک ﷺ کا فرمان گرامی ہے کہ بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کی فلاح و بہبود اور انہیں فائدہ پہنچانے کے کاموں میں لگے رہتے ہیں لیکن افسوس کہ بلاول‘جن کو ابھی تک نہ تو کام کا تجربہ ہے اور ہی قوم نے انہیں کوئی ذمے داری سونپی ہے ان سے ایسے بیانات دلوائے جا رہے ہیں جو بزرگان سیاست کے ساتھ اللہ واسطے کا بیر اور چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق ہوتے ہیں جن کے تعصب وتعفن پر مبنی بخارات کراچی کے ساحل سے لے کر گوادر تک محسوس کئے جاتے ہیں۔۔۔انکی روشنی میں بعض اہل الرائے کا کہنا ہے کہ اس سیاسی معصوم کے عقب میں وہی خفیہ عناصر کار فرما ہیں جنہوں نے منظر سیاست سے ان کی عظیم المرتبت والدہ کو ہٹایا اور بغیر محنت کے مقام و ثمر پایا۔۔۔ اب وہی بے رحم اور غیر محسوس قوتیں بھٹو خاندان سے نسبت رکھنے والی اس معصوم نشانی کے بھی درپے ہیں ٗ جنکا بلاول کو ادراک نہیں ۔

پاکستان کی بے رحم سیاست کا ادنیٰ سے ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ کمسن بلاول اپنے دھواں دھار بیانات کو جناب آصف زرداری اور ان کے رفقائے سیاست کی مشاورت اور تائید کے بغیر جاری نہیں کرتے اور جو باتیں آصف زرداری صاحب وغیرہم‘ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کے خلاف کرنا چاہتے ہیں وہ بلاول سے کہلوا دی جاتی ہیں ٗ کیونکہ انہیں اپنے دور حکومت کی ناقص کارکردگی کے تحت خوب معلوم ہے کہ وہ خود فرنٹ پر آکر اگر ایسی باتیں کریں گے تو پی پی پی پنجاب کے بے جان لاشے میں جان نہیں پڑ سکے گی۔ اسی لئے وہ بلاول کو استعمال کر کے ایک بار پھر جھولا جھولنے کی کوشش میں ہیں۔کیا انہیں غیر سنجیدہ بیانات کے ذریعے قومی لیڈر تسلیم کر لیا جائے گا۔ اور پاکستان کے عوام ان کے والد بزرگوار کے دور کو بھول کر اقتدار کی ڈھڈّو اس کے سر پر سجادیں گے لیکن انہیں بالکل نہیں معلوم کہ معاملہ ابھی ’’ ہنو زدلی دور است‘‘ کا ہے۔ان کی سیاسی عدم بلوغت کا بیّن ثبوت ہمارے سامنے ان کا یہ تازہ ترین اخباری بیان ہے۔ جسے پڑھ کر نواز حکومت سے ناراض پنجابیوں کے دل بھی مسلم لیگ(ن) کے حق میں نہال ہوگئے ہیں ۔انہوں نے اپنے اس بیان میں کہا ہے کہ ’’وفاقی بجٹ‘‘ میں پنجابیوں کا بہت زیادہ خیال رکھا گیاہے۔‘‘ بلاول کی اس درفنطنی میں اگرچہ کوئی وزن ہے نہ وژن‘ لیکن اس کا فائدہ براہ راست نواز حکومت کو پہنچا ہے کیونکہ اس طرح کی بات نواز حکومت کے مخالف تحریک انصاف کے کسی رہنما نے کی اور نہ ہی خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت نے یہ نکتہ اٹھایا اور نہ ہی سندھ میں پی پی پی کی حکومت نے اس قسم کی عصبیت اور تنگ نظری پر مبنی کوئی بیان دیا ۔ اور نہ ہی ایسی بات کسی قومی سطح کے علمبردار لیڈر کے شایان شان ہے ۔۔۔ اسی طرح جناب پرویز رشید صاحب کی طرف سے جناب خورشید شاہ صاحب کے گھٹنے چھوتے ہوئے اظہار نیاز مندی کے منظر پر تبصرہ کرتے ہوئے بلاول نے کہا ہے کہ’’ن والے ہر مشکل کے وقت دوسروں کے پیر پکڑ لیتے ہیں ‘‘اس مسئلے پر بلاول سے پوچھا جا سکتاہے کہ اپنی اس چھوٹی سی عمریہ میں انہوں نے ن لیگ کو کتنی بار اورکس کے پیر پکڑتے دیکھا ہے؟۔۔۔ اس موقع پر ہمیں شیخ سعدی کی ایک حکایت یاد آرہی ہے۔ جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں جھک کر ملنے والوں سے بہت ڈرتا ہوں کیونکہ سیلاب جب آتا ہے تو پہلے پیروں ہی کو چھوتا ہے جبکہ پانی کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہورہے بندے کو سیلاب کی دوسری لہر الٹا کر باغ عدن پہنچا دیتی ہے۔ جبکہ کسی دانا نے یہ بھی کہا ہے کہ جھک جانا رفعتوں سے ہمکنار کرتا ہے اور پھل دار ٹہنیاں ہی جھکا کرتی ہیں۔

بہر حال بلاول کو استعمال کرنے والے سیاسی زخمیوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر وہ بلاول سے واقعتا مخلص ہیں‘ تو اس طرح کے الٹے سیدھے بیانات دلوا کر اس معصوم کا سیاسی کیرئر تباہ نہ کریں‘ اسے پھونک پھونک کر ٹھنڈا کرکے کھانے کا سبق دیں۔۔۔ ادھر بلاول میاں کو بھی چاہئے کہ وہ ان سٹھیائے ہوئے‘ شکست خوردہ اور مسترد لوگوں کے بہکاوے میں آکر غیر سنجیدہ ‘بے تکے بیانات داغنے اور بڑھکیں لگانے سے گریز کریں کیونکہ انہوں نے ابھی تھوڑا ہی عرصہ پہلے میدان سیاست میں قدم رکھا ہے۔ انہیں سیاست کی پر خار وادی میں اپنے دامن کو کانٹوں سے بچا کر کسی بڑے مقام پر پہنچنا ہے ۔ ہمیں امیدہے اگر وہ سیاسی پنڈتوں کے چنگل سے بچ نکلے تو ان شاء اللہ منزل مقصود تک ضرور پہنچیں گے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا دماغ استعمال کریں صرف اپنا دماغ ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ بظاہر دوست لیکن پوشیدہ دشمنوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔ نیز ان کی عمر کا تقاضا ہے کہ حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے اپنے سے ہر بڑے کی عزت کریں اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں کہ انہیں جناب ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین اور محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی عظیم المرتبت ہستیوں سے نسبت حاصل ہے۔ وراثت کی سیاست نے انہیں بغیر محنت کے جس مقام پر کھڑا کردیاہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں بے کار اور مسترد ٹولے کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بنیں۔ کام کرنے والوں کے کام کو دیکھیں۔اور اچھے کام کو سراہیں اور اختلاف ہو تو عمدہ دلائل اور قابلِ عمل تجاویز پیش کیا کریں‘ بے جا تنقید اور بدنیتی کی سیاست سے پرہیز کریں۔ کیونکہ پاکستان کے عوام اب بہت سمجھدار ہو چکے ہیں۔ نیز شکست خوردہ عناصر کے فیڈ کردہ خیالات کا مائیک نہ بنیں اگر وہ ایسا نہیں کریں گے اور سیاسی معاصرین پر بے جا تیر و تفنگ برساتے رہیں گے تو ہمارا یہ لکھا اپنے پاس محفوظ رکھیں کہ ان کی موجودہ روش ان کو اپنے نانا اور والدہ جیسا قومی اور مقبول لیڈر بننے کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنی رہے گی۔۔۔ نیز ہماری یہ بات بھی یاد رکھیں کہ پاکستان کے عوام ان سے صرف محترمہ بینظیر کا بیٹا اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کانواسا ہونے کی بنا پر پیار کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بلاول کو بھٹو صاحب کا صحیح جانشین بنائے وہ بھٹو جنہیں ایک تہائی دنیا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے یاد کرتی ہے ۔۔۔اگرچہ یہ ہے تو مشکل۔۔۔ لیکن قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہی زندہ کو مردہ سے نکالتاہے۔۔۔۔۔۔ وما علینا الاالبلاغ

مزید : کالم