تحریک طالبان کے قائدین کا احسن اقدام

تحریک طالبان کے قائدین کا احسن اقدام

کرم ایجنسی سے ایک بہتر خبر موصول ہوئی جس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کے بھائی اور ایک چچا نے تائب ہو کرخود کو حکام کے حوالے کردیا ہے۔ان کو حفاظتی تحویل میں لے کر حکام نے مذاکرات کئے ہیں، بتایا گیا کہ حکیم اللہ محسود کے ایک بھائی اعجاز اللہ محسوداور چچا خیر محمودمحسود نے رضا کارانہ طور پر کرم ایجنسی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد خود کو حوالے کیا۔ یہ ایک اچھی خبر ہے اور ان حضرات کی تعریف بھی کرنا چاہیے جنہوں نے بالآخر یہ احساس کرلیا کہ کالعدم تحریک طالبان جو کررہی ہے وہ دین اور ملک کے لئے بہتر نہیں ہے، اللہ کرے یہ احساس دوسرے برسر پیکار اراکین کوبھی ہو جائے کہ آپس میں لڑائی سے دونوں طرف مسلمان ہی مارے جاتے ہیں، یہ بھی عجیب سی بات ہوتی ہے کہ پاکستان کی طرف سے جان جائے تو ہم اور تحریک طالبان کا کوئی رکن مارا جائے تو تحریک طالبان والے اسے شہید کہتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان اپنے ہی بھائیوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔ جید علماء کرام اور دینی جماعتوں نے ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ اسے ناجائز اور خلاف شرع بھی قرار دیا ہوا ہے، اس کے باوجود ضد نہ چھوڑنا یوں بھی درست نہیں۔ تحریک طالبان کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان کے راہنماؤں کے روابط بھارتی ایجنسی ’’را‘‘سے ہیں جو ان کی مالی امداد اور تربیت کے فرائض بھی انجام دیتی ہے، اس کالعدم تنظیم کو افغانستان کے اندر پناہ حاصل ہے اور افغان حکومت مطالبے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی اور یہ امر دونوں طرف کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے، بہتر قدم یہی ہے جو حکیم اللہ محسود کے چچا اور بھائی نے اٹھایا ہے۔

مزید : اداریہ