موسمی تغیرات ۔۔۔ہوشیار باش!

موسمی تغیرات ۔۔۔ہوشیار باش!

مون سون کے حوالے سے تیاریوں کی ہدایات اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے انتباہ کیا ہے کہ اس مرتبہ معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔ اندازہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ دس سے پندرہ اور بیس فیصد تک معمول سے زیادہ ہوں گی۔ دوسری طرف گلوبل وارمنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی کا مہینہ ماضی کی نسبت کئی درجے زیادہ گرم گزرا اور گلیشیر پر جمی برف کے تناسب میں بھی فرق آیا ہے، ایجنسی کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگربروقت، مناسب حفاظتی انتظامات نہ کئے گئے تو دنیابھر کے ممالک کو نقصان کا اندیشہ ہے اس وقت عالمی موسمیاتی تغیرات کا یہ عالم ہے کہ اچانک سمندر بپھر جاتا ہے۔ آسمان سے آگ برسنا شروع ہو جاتی ہے یا پھر موسلا دھار بارش آ لیتی ہے اس اچانک رفتار سے جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اگرچہ مغربی دنیا میں محکمہ موسمیات کے پاس پیش گوئی کرنے والے آلات بہت بہتر ہیں اس کے باوجود طوفان اتنی مہلت نہیں دیتے کہ مکمل حفاظتی انتظامات ہوں، عالمی ایجنسی جنگلات کی کمی اور فضائی آلودگی کو سبب بتا رہی ہے۔ پاکستان میں صورت حال اور بھی پیچیدہ ہے، یہاں کئی سال سے ساون سے پہلے بھادوں کا سماں بن جاتا ہے۔ بارش ہوتی ہے میڈیا خوشگوار موسم کی خبر دیتا ہے لیکن یہ مینہ چھما چھم برسنے کے بعد حبس کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے اور اس سے مزیدنقصان ہوتا ہے، ہمارے موسموں کی تبدیلی کا سبب درخت کٹ جانا ہے، اگر درخت ہی نہ ہوں گے تو پھر موسم کی رکاوٹ بھی نہیں رہے گی۔ پاکستان میں جہاں مون سون کی آمد کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کرنا لازمی ہیں تو یہاں درخت لگانا بھی فریضہ ہونا چاہیے اور آلودگی سے پرہیزکرنا چاہیے۔

مزید : اداریہ