خاتون کے اغواء میں ملوث دیور سمیت 9 ملزمان بارے جواب طلب

خاتون کے اغواء میں ملوث دیور سمیت 9 ملزمان بارے جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس سیدافسرشاہ پرمشتمل دورکنی بنچ نے پشاورکے علاقہ کابلی سے خاتون کو اغواء کرنے کے الزام میں ملوث دیورسمیت9ملزموں کے خلاف مقدمہ منسوخی کی درخواست پرسیکرٹری داخلہ ٗ ڈائریکٹرہیومن رائٹس سپریم کورٹ ٗ ڈسٹرکٹ سیشن جج دیربالاٗڈسٹرکٹ سیشن جج گوٹکی اورمغویہ کے شوہر سے جواب مانگ لیاہے فاضل بنچ نے گذشتہ روز فلک نیاز اورحبیب الرحمان وغیرہ کی جانب سے امین الرحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی ا س موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ ساڑھے چارسال قبل سراکت بی بی نامی خاتون کاتھانہ خان رازق شہید کی حدود سے اغواء ہواجس میں درخواست گذاروں کو بطورملزمان نامزد کیاگیاہے تاہم اس حوالے سے خاتون کے شوہرروغان شاہ نے تھانہ براول دیربالامیں ایف آئی آر درج کی ہے جس میں انہوں نے سراکت بی بی کو ملزمہ نامزد کیاہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جو ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں مذکورہ خاتون کو گوٹکی سندھ میں سومارنامی ہندو پرفروخت کردیاگیاتھا جہاں اس نے ساڑھے چار سال گذارے اور جب پولیس نے انہیں برآمد کیاتو مذکورہ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے اپنے سابق شوہرسے طلاق لی ہے جبکہ مذکورہ ہندو کو مسلمان ظاہرکیاگیارٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ سیشن جج گوٹکی نے مذکورہ خاتون کو کمبڑہ پولیس کے ذریعے اس کے والدہ حسن ذری کے حوالے کیاجس کی رپورٹ فائل پرموجود ہے اس دوران سومارنامی درخواست گذار نے سپریم کورٹ میں دوعلیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کیں جس پرسپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سیشن جج گوٹکی اورسیشن جج دیر بالا کو تمام واقعات کی انکوائری کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیاتھا رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ چونکہ سپریم کورٹ پہلے سے ہی مذکورہ واقعہ کی انکوائری کے احکامات جاری کرچکی ہے اورآئین کے تحت پولیس کے پاس اب اس کیس میں تحقیقات کااختیار نہیں لہذاملزموں کے خلاف درج مقدمہ منسوخ کیاجائے فاضل بنچ نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر