افغان طالبان نے43 مسافر اغوا کر لئے، خواتین ، بچوں سمیت18 رہا

افغان طالبان نے43 مسافر اغوا کر لئے، خواتین ، بچوں سمیت18 رہا
افغان طالبان نے43 مسافر اغوا کر لئے، خواتین ، بچوں سمیت18 رہا

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے 43 مسافروں کو اغوا کر لیا اور بعد میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد کو رہا کرکے باقی 25 مردوں کو ساتھ لے گئے۔

 افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے بتایا کہ ہلمند کے ضلع گریشک میں طالبان عسکریت پسندوں نے کئی گاڑیوں کو روکا۔ مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔حکام کے مطابق مسافروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

 ہلمند گورنر کے ترجمان عمر زورک نے بتایا مسافروں کو 2 ٹرکوں اور بس سے اغوا کیا گیا۔ صحیح تعداد معلوم نہیں۔ 18 خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا گیا۔طالبان مغویوں کو مرجاہ ضلع لے گئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا طالبان نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھیں۔مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان بسوں میں 100 کے قریب افراد موجود تھے۔ پولیس کے مطابق طالبان نے 40 سے زیادہ افراد کو بسوں سے اتارا‘ تاہم پھر 18 بچوں اور خواتین کو چھوڑ کر 25 مردوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

ادھر ترجمان طالبان نے ٹوئٹر پر کہا انٹیلی جنس معلومات پر اغوا کرتے ہیں۔ معصوم لوگوں کو چھوڑ دیاجاتا ہے اور  اغوا کی اس واردات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے تصدیق کی کہ اس حملے اور اغوا کے پیچھے ان کی تنظیم کا ہاتھ ہے،یہ کارروائی تفتیشی آپریشن کا حصہ ہے۔

آخری اطلاعات تک افغان پولیس اور فوج نے یرغمال بنائے گئے مسافروں کی بازیابی کیلئے کاوشیں شروع کررکھی ہیں تاہم کوئی کامیابی نہیں مل سکی ۔ 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

خیال رہے کہ یہ چند ہفتوں کے دوران طالبان کی جانب سے مسافروں کے اغوا کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔اس سے قبل 31 مئی کو طالبان نے ملک نے شمالی صوبے قندوز میں کابل سے بدخشاں کی جانب سفر کرنے والی چار بسوں کو روک کر 35 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی